محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان….’’چاند میاں کا چندہ‘‘

محمد جاوید حیات


آج رات غضب کی گرمی پڑی۔ مچھر بھی اتنے کاٹے کہ لمحہ بھر کو نیند نہیںآئی۔ امی کو بچھونے کاٹا ۔وہ ٹر پتی رہی کراہتی رہی ۔ سہیلہ سہیل کے پاس سوئی ہوئی تھی ۔سہیل نے جاگ جاگ کر سہیلہ کومچھروں سے بچاتا رہا چھوٹی بہین کے اوپر چادر سرکاتا رہا ۔تاکہ اس کو مچھر نہ کاٹیں مگر گرمی لگتی تھی تو وہ نیند میں بھی چادر پھینکتی رہتی ۔۔مسجدوں سے اذان فجر گونج اُٹھی ۔ابو مسجد گئے امی کراہتی رہی ۔۔ ابو واپس آیا تو آمی نے کہا ۔۔ ’’ کہ میرے لئے دوائی نہیں لاسکتے کیا ؟۔۔۔۔ ابو کے چہرے پر افسردگی بادل بن کرچھا جیب دیکھا یا تو خالی تھی ۔۔ سہیل بستر سے کودا منہ ہاتھ دھویا آج کالی چائے کے ساتھ باسی روٹی بھی نہ ملے گی ماں بیمار ہے چائے کون پکائے ۔۔ سہیل اپنی پلاسٹک کی چپل ڈھونڈ کر پہن رہا تھاکہ سہیلہ جاگی ۔دوڑ کر سہیل کے گلے لگ گئی ۔ میری پاپڑ آج ضرور لانا ۔ اس نے اپنی پانچ سال کی سہیلہ کی پشانی چومی اور کہا ۔۔۔۔۔ضرور دونگا ۔۔سہیل باہر آیا ۔سڑک ویران تھا ایکا دکا گاڑیاں شہر کی طرف جارہی تھیں وہ دوڑے دوڑے پاپڑ کی دکان کے سامنے کھڑا ہوگیا سیویرا دکاندار نہیں آیا تھا وہ دکان کے سامنے کھڑا سوچنے لگا کہ آ ج وہ شام تک مسلسل پاپڑ بھیجے گا کیونکہ ماں کے لئے دوائی اور سہیلہ کے لئے پاپڑھ لے جاناہے وہ اب کی بار دشمن کی سرحد پر کھڑ ایک عظیم ،بہاد جنرل لگ رہا تھا اس کو دکاندار پر غصہ آیا یہ لوگ وقت ضا ئع کیوں کرتے ہیں ۔۔۔۔وہ پاپڑ لے کے ا ڈوں میں جائے گا دو ڑکر وہاں پہنچے گاجہاں بہت سارے بچے ہوں کھیل کے میدان میں جائیگا۔ ٹو رنمنٹ جاری ہے سارا دن پاپڑھ ٹھرے میں رکھے کاندھے یہ اُٹھائے پھرے گااس کی ٹانگیں تھکیں گی نہیں ۔اس کا گلہ آواز دے دے کر خشک نہیں ہوگا ۔وہ دوپہر کا کھانا نہیں کھائے گا پیسے ضائع کیوں کر ے بھوک برداشت کرے گا۔۔۔۔۔۔ اس کی ماں تڑپتی رہی تھی برُ ا ہو بچھو کا ۔۔ اب بچے سکول جانے لگے تھے ۔اس کو دکاندار پر غصہ آیا ۔ اگر آتے تو سکول جاتے بچے پاپٹر خریدتے ۔سورج طلوع ہورہا تھا س کے چہرے پر کر نیں پڑئیں ۔دکاندار آیا تو وہ دو چار قدم آگے بڑھ کر سلا م کیاْ ۔ دکاندر خاموش اپنی دکان کی طرف بڑھاْ ۔ اس نے ٹرے پر پاٹر رکھے کاند ھے پہ اُٹھا ئے باہر آیا ۔آواز دینے لگا ۔۔ پا پڑ۔۔ تازہ پاپٹر۔۔۔وہ ہر ایک کو ایسا دیکھتا جیسا وہ سراپا سپاس ہو۔ اس کی رگ رگ سے التجا آرہی تھی ۔۔ میری ماں بیمار ہے ۔ میری سہیلہ نے بھی پاپٹر لانے کو کہا تھا ۔۔ پاپٹر خریدلو پلیز۔۔ سڑک پر سے قیمتی گاڑیاں زن سے گذر رہی تھیں ۔۔ وہ بچوں کو سکول لینے کے لئے جارہی تھیں ۔بچے سہیل کی طرف نہیں دیکھتے تھے ۔ نہ پاپٹروں کی طرف ۔ نہ اس کی آواز کوئی سن رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ مسلسل آواز دے رہا تھا ۔دکانیں کھلنے لگی تھیں ایک سفید ریش دکاندر نے اس کو قریب بلا کر کہا کہ ابھی لوگ ناشتہ کر کے آئے ہیں ۔صبح دھند لکے پاپٹر کون کھائے ۔قریب بیٹھے لوگ ہنسنے لگے ۔اس کو لفظ ’’ ناشتے ‘‘ سے یاد آیا کہ اس نے آج ناشہ نہیں کی ۔اتنے میں ایک بیکاری نے پاپٹر مانگا اس نے ایک تھما دیا ایک ایسی ہی سفید ریش دکاندرنے اُٹھا یا اتنے میں قریب میں کھڑی ایک سپاہی نے ایک پاپٹراُٹھا یا اور ڈانڈ کر کہا دفعہ ہوجاؤ کان کھاتے ہو ۔وہ سہم گیا ۔۔ اتنے میں سڑک سے گزرتی ہوئی ایک گاڑی کی ڈرائیور نے سرنکا ل کر قریب بلایا وہ قریب گیا تو گاڑی میں موجود بچوں نے پاپٹر مانگا 20 روپے کی پاپٹرلے کر صر ف 10 روپے تھما دئے اس نے آواز دی تو گاڑی ہوا ہوگئی۔۔۔۔۔ اس نے پاک سرزمین سے شکوہ کیا ۔ کہ تو کیسی پاک سرزمین ہیں تیری باسیوں کو کسی کی پرواہ نہیں یہاں ہر کسی کی مجبوری ،کسی کا حق کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔یہ لو دکاندار نے پاپٹر مفت اُٹھائی ۔قانون کے پاسبان نے پاپٹر مفت کھائی اوپر سے ڈانٹا بھی ۔ان کوکون بتائے کہ بے رحم بچھونے میری ماں کوکاٹا ہے ۔ سہیل نے دانت پیس کر کہا کہ بچھو اس دکاندار اور اس ڈرائیوار کو کیوں نہیں کاٹے ۔۔۔۔۔سڑک پہ ایک نہایت قیمتی گاڑی جارہی تھی ۔گاڑی کی کھڑکی سے بہت ساری قیمتی چاک لیٹ سڑک پہ گرے ۔گاڑی میں موجود بچے کوغصہ آیا تھا ۔۔ اس نے ابو کے خریدے ہوئے چاک لیٹ سڑک پہ پھینک دی تھی ۔ گاڑی رُکی نہیں ۔دکاندار نے چیخ کر کہا۔۔ ارے او پاپٹر والے چاک لیٹ اُ ٹھاؤ مفت کی چاک لیٹ رب اگر دیتا ہے تو چھیرپھاڑ کے دیتا ہے وہ خاموش کھڑا رہا ۔ دوسری بار آواز دینے پر کہا ۔۔ میں بغیر اجازت کسی کی چیز کیوں اُٹھاؤں ماں نے نصیحت کی ہے ۔۔ سورج ڈوبنے کے قریب ہے صبح سے کسی فلاحی تنظیم کے چند ہٹے کھٹے کارکن سیلاب زدگان کے لئے چندہ کیمپ لگا رکھے ہوئے ہیں۔چندہ باکس رکھے ہوئے وہ سیلاب زدگان کی حالت زار پر پر زور تقریر کررہے ہیں۔ان پر آئی مصیبتیں بیان کررہے ہیں۔ اشتہارات ہیں مگر پاپٹر والا اشتہار پڑھ نہیں سکتا ہے۔تقریر سن کر بہت متاثر ہوتاہے۔ اس کی ٹانگیں اب تھک گئی ہیں ماں کو بچھو نے کاٹا ہے۔بھوک بھی ستا رہی ہے ۔لوگ اب گھروں کی طر ف روان ہیں ۔ان کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوئی ہیں ۔سیلاب زدگان کی حالت زار متاثرکن انداز میں بیان ہورہی ہے کتنی سہیلہ پاپٹروں کے انتظار میں ہزاروں ٹن مٹھی کے اندر چلی گئی ہیں ۔کتنے سہیل یتیم ہوگئے ہیں ۔کتنے بے گھر بے در ہوگئے ہیں ۔۔سہیل نے سوچا ۔۔سہیل کی سہیلہ رو رو کر خاموش ہوجائے گی ۔سہیل کی ماں زندہ تو ہے درد ستاستا کے ختم ہوجائے گا۔ پھر رات آئے گی پھر صبح ہوگی ۔ سہیل پھر پاپٹر بھیجے گا ۔کوئی دن ہوگا کہ سہیل رکی ساری پاپٹر فروخت ہونگی ۔ اسی دن سہیلہ کے لئے بھی پاپٹر لے جائے گا ۔ مگر اس پتھر کے شہر میں سب کی جیبوں میں نوٹ نہیں بچھو ہیں۔ یہ لوگ ہاتھ اس لئے جیبوں میں نہیں ڈالتے کہ بچھو انکو کاٹیں گے ۔۔۔۔ یہ چمکتی گاڑیاں یہ روٹھ کر چاک لیٹ باہر پھینکنے والے شہزادے شہزادایاں، یہ انگریزی پڑھنے والے مستقبل کے معمار ، یہ چمکتی کرسیوں میں بیٹھنے والے حکمران، یہ قانون کے محافظ ۔۔۔۔۔ لیکن سہیل کو غصہ آتا ہے۔۔۔۔ تیز تیز قدم اُٹھا کے چندہ بکس کی طرف جاتا ہے چندہ کرنے والا کارکن اس کی پاپٹروں میں سے لینے کو ہاتھ اُٹھا تا ہے ۔مگر سہیل اس کا ہاتھ پکڑا کر روکتا ہے ۔اپنی جیب میں موجود ’’ دس کا اکلو نا‘‘ نوٹ چندہ بکس میں ڈالتا ہے ۔پاپٹر واپس دکان میں لے جاتاہے ۔۔۔۔ کہتا ہے آج پاپٹر فروخت نہیں ہوئیں دومفت میں اُڑے ،چند قیمتی گاڑی میں بچوں نے لے لئے 20 روپے کی جگہ 10 روپے دے دئیے ۔یہ حساب کتاب کل بے باق کرونگا ۔ ہاں ایک دانہ اور قرض پہ دو دو۔میری سہیلہ نے مانگی تھی ۔دکاندار نے ایک دانہ اس کی طرف پھینک دی اس نے اس کو اخبار کے پرانے کاغذ میں لپٹ کرروانہ ہوا ۔ گھر پہنچ کر ماں کی گود میں سر رکھ کر کہا ۔۔۔۔ امی آج کی مزدوری میں نے سیلاب زدگان کی امداد میں دے دی ۔۔۔۔۔ ماں کے ہاتھ اس کے گرد الود بالوں پہ پھر گئے ۔ اس نے منہ ماں کی طرف کردی تو ماں کے آنسو اس کے گالوں پر گرے اس سہیل نے اس کی زبان سے سنا کہ مجھے اپنی بیٹے پر فخر ہے۔ سہیل نے ماں کے پاؤں میں سر رکھ کر اس جگے کو جوم لی جس میں بچھو نے کاٹا تھا اور اس کا زہر زور سے چوس لیا ماں نے کہا ۔۔۔۔سہیل تم میری زندگی ہو۔ میں ٹھیک ہوگئی ہوں بیٹا ۔ماں تم بھی میری زندگی ہو ۔۔۔اور ان دو پاک زندگیوں کی خوشبو سے پاک سرزمین معطر ہوگئی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق