ناہیدہ سیف

میرا سچ

……………….(مراسلہ نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر)


…….تحریر ناہیدہ سیف…

کہتے ہیں کہ سچ بولنا بہت مشکل کام ہے سچ بولنے والے کو کھٹن راستے سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کے اس کی سنی جاتی ہے لیکن سچ کوزوال نہیں آتا۔اس طرح زندگی میں جب اتار چڑھاؤ آتا ہے تو بھی کہا جاتا ہے ہے کہ زندگی گزرانے کیلئے کھٹن راستے سے گزرنا پڑتا ہے لیکن میں جس کھٹن راستے کی بات کرنے جارہی ہوں اس کا تعلق نہ تو بولنے سے ہے اور نہ ہی زندگی کی اتار چڑھاؤ سے ہے بلکہ میرا مطلب ایک ایسے کھٹن سفر سے ہے جس سے ایک پورے علاقے کے لوگ تقریباً ہر روز گزرتے ہیں۔چترال خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے ،پسماندہ علاقہ ہونے کے باوجوذ پر امن ماحول،ملنسازی اور تہذیب سے پہچانا جاتاہے ۔1970 کی دھائی میں ایک عوامی لیڈر ابھرجس نے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقہ کو ان کے حقوق دینے کا عزم کیا جن پر ایک مخصوص طبقہ کا غاضبانہ قبضہ تھا تو چترال بھی اس سے مستفید ہوا، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو پہلے رہنما تھے جنہوں نے دورافتادہ اور پسماندہ علاقے کا دورہ کیا بہت سارے تقرقیاتی کاموں کے ساتھ لواری ٹنل کا بڑا تحفہ چترالی عوام کو دیا تب سے قائد عوام اور چترالی عوام کے درمیان ایک رشتہ قائم ہوگیا جہاں قائد عوام کی پارٹی نے اس رشتہ کو نبھایا وہاں چترالی عوام نے بیلٹ کے ذریعے اس رشتے کو مزید مضبوط کردیا۔
بات میں نے شروع کی تھی کھٹن راستے سے جب راستے کھٹن ہوا اور طوفان بھی آجائے تو سفر کرنے والے اکثر ڈوب جاتے ہیں ۔کچھ ایسا ہی ہوا اور لواری ٹنل کے اس پار رہنے والوں کے ساتھ اس دورافتادہ اور پسماندہ علاقے میں پچھلے سال قدرتی آفات نے یکے بعد دیگر آکے لوگوں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا جہاں سیلاب اپنے ساتھ سب کچھ بہا کے لے گیا وہاں زلزلے نے چھت بھی چھین کر رہی سہی کسر پوری کردی ۔مصیبت میں گری ہوئی اس قوم نے پھر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ، قدرت کے فیصلوں پر سر جکھنا ایمان کی نشانی ہے لیکن کہا جاتا ہے یہ سچ بھی ہے ۔انسان کی انسانیت برے وقت میں ہی نمایاں ہوتی ہے ورنہ بولنا آسان اور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔قدرتی آفات میں گری ہوئی اس علاقے کے مکینوں کے لے ایک اور مصیبت شدید سردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا کھٹن سفر شروع ہوتا ہے ،جب چترال کے باشندوں کا سفر لواری ٹنل سے ہوتا ہے اس سفر کا اندازہ وہی لگا سکتاہے جس کا گزر وہاں سے ہوا ہو۔پھر سردیوں میں ٹنل سے گزرنا اگر میں صیح الفاظ استعمال کررہی ہوں تو پل صراط سے گررنا ہے وہاں گھنٹوں خواتین اور بچوں کے ساتھ انتظار کرنا ٹنل کے کھلنے کا انتہائی تکلیف دے عمل ہے ہر بندہ جو انسانیت کا درر رکھتا ہو وہ اس بات کو سمجھے گا کہ ا تنے ٹراومہ سے نکل کر جب بندہ بے حسوں کے دندل میں نفسیاتی طور پر دوبارہ پھنس جائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہوگا،خیر یہ باتیں وہاں اچھی لگتی ہیں ۔جہاں انسانیت کی قدر ہو،میرا جو علاقہ ہے وہ خیبر پختون خواہ میں آتا ہے ۔ جس میں تبدیلی کے نام نہاد علمبرداروں کی حکومت ہے۔ستم ظرفی کا حال دیکھے مصیبت میں گری ہوئی ان لوگوں کیلئے اس سال لواری ٹنل کو ہفتے میں صرف دو دن کے لئے کھو ل دیا گیا ۔وہ بھی شدید عوامی احتجاجی کے بعد جو حکومتیں عوامی مسائل کو سمجھتی ہیں وہ ایسے موقعوں پر عوام کو ریلیف دے کر ان کے مسائل کو سہل بنانے کی کوشش کرنی ہے۔ہوائی سفر کے ذریعے یا زمینی سفر کے ذریعے لیکن یہاں الٹا ٹنل کے اوقات کو مزید پیچیدہ کردیا گیا ہے میں اس رویہ کو اپنے علاقے کے ساتھ مذاق سمجھتی ہوں جب سیلاب آیا تو حکمران وہاں آ کے اعلانات کیے۔اخبارات میں شاہ سرخی بناہی ،فیس بک میں خبر ڈالی،کرنے والوں کو شائد سوشل میڈیا کی ضررورت نہیں ہوتی کرلیتے ہیں،زلزلے کے وقت حکمرانوں نے ادھر کا رخ کرنا بھی گوارا نہیں کیا ۔لیکن عملی طور پر مسائل جوں کے توں رہ ،پل بنانا یہ سڑکیں ٹھیک کرنا تو اس دور کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہ کرسکی۔جس کی مثال یہ ہے کہ وہاں کی وہ خواتین جو اپنی روایات کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں بغیر مجبوری کے گھر سے باہر نہیں نکلتی۔اپنے مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر دھرنہ دینے پر مجبور ہیں ۔بات کرتے کرتے آگے نکل گئی۔ بات کھٹن راستوں سے شروع ہوئی تھی اور رشتہ نبھانے سے المختصر پچھلا سال چترالی عوام کیلئے بہت ہی تکلیف دہ رہا ۔لیکن رشتہ نبھانے والوں نے بھی اس مصیبت گھڑ میں بھی رشتہ نبھایا۔کہتے ہیں کہ برے وقت میں لوگ پہچھانے جاتے ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت دونوں موقعوں پر اپنے نوجوان قائد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی امدادی سامان کی ساتھ اپنے چترالی بہن ،بھائیوں کے دکھ درد میں شریک تھے۔ حالانکہ حکومت نہیں تھی اور ذمہ داری بھی نہیں تھی،بلدیانی الیکشن میں بھی کوئی خاص سیٹیں نہیں ملی تھی۔لیکن رشتہ نبھانا تھا وفادری نبھانی تھی چاہیے۔چاہیے کھٹن راستے سے گزر کرہی سہی۔یہ ہے میرا سچ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق