اسداللہ حیدرچترالی

نوائے دل …..نظام مصطفی کانفرنس اوردینی جماعتوں کا اتحاد

 …..حافظ اسداللہ حیدر ……
گذشتہ دنوں منصورہ لاہور میں’’نظام مصطفی کانفرنس ‘‘منعقد کیا گیا جس میں ملکِ پاکستان کی دینی سیاسی جماعتو ں کے قائدین نے شرکت کی۔ اوراحقر کو بھی ایک صحافی کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا ۔کانفرنس میں شریک قائدین نے یہ عہد کیا کہ وہ ملک کی اسلامی ونظریاتی شناخت کو قائم رکھنے کے لئے متحد ہیں اورمتحد رہیں گے ۔
دینی جماعتوں کا یہ اجتماع ایک گلدستے کی مانند تھی ۔جب میں سٹیج پر اپنے قائدین کے درمیان بیٹھا تھا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھاکیونکہ وطن عزیز کے تمام دینی شخصیات ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع تھے اور ایک دوسرے سے اپنی محبت اوراحترام کے جذبات کا اظہار فرمارہے تھے ۔ کانفرنس میں قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم ، میرے بہت ہی محترم ومشفق پیر سید ہارون گیلانی صاحب (صد ر ہدیۃ الھادی پاکستان )سینیٹر سراج الحق،،مولانا سمیع الحق،حافظ محمد سعید،ڈاکٹر ابو الخیر زبیر،ساجد میر،لیاقت بلوچ،حافظ حسین احمد،ابتسام الہی ظہیر،حافظ عاکف سعید،خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ حافظ سبطین،مولانا امجد خان،مولانا عبدالمالک،پروفیسر محمد ابراہیم،میاں مقصود احمد،ڈاکٹر سید وسیم اختر،سید ضیا اللہ شاہ بخاری،مولانا عبدالغفار روپڑی،علامہ سید ثاقب اکبر،عبداللہ گل،عبدالرشید ترابی، پیر اعجاز ہاشمی، پیر محفوظ مشہدی، مولانا چراغ دین،رضیت باللہ چترالی اورحمزہ نوید سمیت ملک بھر کی 35دینی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن صاحب کا کہنا تھاکہ اس وقت امت مسلمہ،ملت پاکستان اور خاص طور پر دینی طبقہ اس جارحیت کا شکار ہے جس کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے۔امریکہ اسلام اور اس کے فروغ کیلئے کوشاں افراد اور اداروں کا خاتمہ چاہتا ہے۔مسلمان جنگ لڑنا چاہتا ہے نہ جنگ اس کی ضرورت ہے بلکہ اپنے معاشی حالات کی وجہ سے مسلمان جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔مسلمان تو اس وقت خود جنگ زدہ ہے جس پر جنگ مسلط کردی گئی ہے۔مغرب کا نشانہ اسلام ہے اوروہ پاکستان میں اسلا م کا کردار ختم کرنا چاہتا ہے ۔مغرب اور یورپ اسلام کے معاشی نظام کو اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی ضد سمجھتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اگر دنیا نے اسلام کے عادلانہ نظام کو اپنا لیا تو ان کا معاشی حصار ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ امت کے مسائل کے حل کیلئے ایک تھنک ٹینک کی ضرورت ہے جو انشاء اللہ دینی قیادت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں پاس ہونے والا بل قرآن و سنت کے خلاف،آئین سے متصادم اور ہماری معاشرتی روایات کا دشمن ہے جو صرف بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت بنایا گیا ہے۔ایک ہی مسودہ مختلف ممالک میں گھوم رہا ہے وہی پنجاب اسمبلی سے پاس کروایا گیا۔اس بل کو میڈیا اور عوام سے خفیہ رکھا گیا تاکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو روکا جاسکے۔چند بکے ہوئے این جی اوز جو ایک قانون پر ڈالر کماتی ہیں ، ان کے مشورے سے قانون سازی ہوگی تو غیرت وحمیت ختم ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بل بھی واپس لینا پڑے گا اور اب جو تحریک اٹھی ہے وہ ملک میں نظام مصطفیﷺ کے نفاذ تک جاری رہے گی۔پاکستان فرقہ ورانہ کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ رویوں میں شائستگی لانا ہوگی ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا۔مذہبی قوتوں کو بند گلی کی طرف دھکیلنا خطرناک ہوگا ۔حسبہ بل خیبر پختونخوامیں ایم ایم اے کی حکومت نے پیش کیا، جاہلانہ رسومات اورعورتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل تھا مگر اسے ناکام بنایا گیا تاکہ مذہبی قوتوں کو کریڈٹ نہ ملے ۔
پیر سید ہارون علی گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’اپنے عقیدے کو چھوڑو مت اوردوسرے کے عقیدے کو چھیڑو مت ‘‘ان کا مزید کہنا تھا ہم ایک ہوچکے ہیں اب ہمیں لبرل اورسیکولرزم اورصیہونیت کامقابلہ کر نا ہے ۔ ہمارے مشرق میں ہمارا ازلی دشمن جال بچھا رہا ہے ۔ اس اتحاد کے لئے ہمیں اپنے مفادات کو قربان کرنا پڑے گا۔ اب سر اٹھانے کا وقت ہے ،قوم کو ایک لائحہ عمل دینے کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہے جس کے قیام کیلئے قوم نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ پاکستان کے قیام کا مقصد سیکولراورلبرل ازم نہیں بلکہ نظامِ خلافت اور قرآن وسنت کے نظام کا نفاذ تھا۔نظریہ پاکستان کے خلاف سازشوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہے جس کے قیام کیلئے قوم نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔پاکستان کے قیام کا مقصد سیکولراورلبرل ازم نہیں بلکہ نظام خلافت اور قرآن وسنت کے نظام کا نفاذ تھا۔نظریہ پاکستان کے خلاف سازشوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعظم کی طرف سے سیکولر پاکستان کا نعرہ اور بلاول بھٹو زرداری کی طر ف سے دینی جماعتوں کے خلاف سیکولر جماعتوں کے اتحاد کی تجویز نے ملک میں دین بیزار اور دین پسند قوتوں کے درمیان تفریق کردی ہے۔واضح ہوگیا ہے کہ حکمرانوں کا قبلہ واشنگٹن اور قوم کا مکہ مکر مہ ہے۔دینی قیادت کو ذاتی اور جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی نظریاتی شناخت کی دفاع کیلئے متحد ہونا پڑے گا۔علما ء کرام قوم کی رہنمائی کا فریضہ پورا کریں قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نظریہ پاکستان اور آئین کی بالادستی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا۔ قوم ملک کی اسلامی شناخت کو قائم رکھنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔پاکستان کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور اسی میں اس کی بقا اور سلامتی ہے۔ترقی مغرب کے اشاروں پر چل کر نہیں اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی پابندی میں ہے۔حکومت فوری طور پر تحفظ خواتین بل واپس لے۔
حافظ محمد سعید نے کہا کہ اسلام دشمن ہمارے پھولوں کو مسل رہے ہیں۔70ء میں بھی ملک میں سوشلزم کے نام پر بڑی تحریک اٹھی تھی اورروس سوشلزم کے غلبہ کیلئے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا مگر اس وقت سید موددیؒ نے فرمایا تھا کہ سوشلزم ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی نافذ ہوسکتا ہے،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سوویت یونین دنیا کے نقشے سے مٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم بھی حکمرانوں کو یہی کہتے ہیں کہ ملت کفر کے اشاروں پر ناچنا چھوڑ دیں اور ملک کو سیکولراور لبرل بنانے کے نعروں سے باز آجائیں انہوں نے کہا کہ آج بھی اللہ کے اس بندے کے قول کو زندہ کرتے ہیں کہ سیکولرازم ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی آسکتا ہے۔
مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ملک کی دینی قیادت متحد ہوچکی ہے،منصورہ میں دینی جماعتوں کا تین ہفتوں میں یہ دوسرا بڑا اجتماع تھا۔عالم کفر نے ملت اسلامیہ کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔امن کے نام پر مسلمانوں پر دہشت گردی مسلط کردی گئی ہے اور جو دنیا بھر میں امن کے علمبردار ہیں انہیں دہشت گرد کہا جارہا ہے دہشت گردی کا سارا ملبہ دینداروں پر ڈال دیا گیا ہے اور مولوی کو بستہ 10کا بدمعاش بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔اس ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا نا بہت بڑی کمزوری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں ملک کو سیکولر بنانا چاہتی ہیں ان کی جڑ کاٹے بغیر یہ فتنہ ختم نہیں ہوگا۔تخت لاہور پر بیٹھے ہوؤں کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ قوم نے سیاسی قیادت کو ایک بار نہیں بار بار آزمایا ہے مگر عام آدمی کو جان و مال اور عزت کا تحفظ نہیں ملا۔ہر طرف کرپشن اور لوٹ کھسوٹ ہے۔لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہیں۔عوام کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر آج تک کسی حکومت نے اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ دینی جماعتیں نظام مصطفیﷺ کیلئے متحد ہوجائیں تو اقتدار خود ان کی جھولی میں آگرے گا۔منصورہ میں منعقدہ ملک بھر کی مذہبی جماعتوں اوردینی اداروں کی نظام مصطفیﷺ کانفرنس میں ملک بھر کی دینی قیادت نے عہد کیا ہے کہ وہ ملک کی اسلامی و نظریاتی شناخت کو قائم رکھنے کیلئے متحد ہیں اور متحد رہیں گے۔دینی قیادت نے ملک میں 77ء کی طرز پر نظام مصطفی ﷺ تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ملک کی دینی قیادت ملت کفر کے عزائم اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے۔ قوم غازی ممتاز قادری کی پھانسی کو عدالتی قتل پنجاب اسمبلی سے حقوق نسواں کے نام سے پاس ہونے والے بل کو خاندانی نظام پر حملہ تصور کرتی ہے۔حکومت کے دیئے گئے بل کے مقابلے میں جلد قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق بل پیش کریں گے۔علما ء کرام اور دینی قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان جن عظیم مقاصد کے لئے حاصل کیا گیا ان کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ملک پر 68 سال سے سیکولر اور لبرل طبقہ قابض ہے جنہوں نے عوام سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے،ملک کے 20کروڑکو عوام غربت،مہنگائی،بے روز گاری سمیت مسائل کی دلدل میں پھنسا دیا ہے اور اب اسلام دشمن قوتوں کے اشارے پر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔اسی طرح یہ پررونق محفل شیخ الحدیث والقرآن مولانا عبدالمالک کی دعا سے اختتام کو پہنچی۔کاش کہ یہ دینی قوتیں اسی طرح متحد اوریکجا ہی رہتے ۔لیکن ہمیں امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق