اے ایم خان

پس وپیش…… بات تو سچ ہے مگر….. F-16 کی

…….تحریر: اے ایم خان چترال،چرون…….
’طاقت کی سیاست‘ کے تصور ریالیزم کے پیرائے میں ریاستوں کے مابین تعلقات کو دیکھا اور پرکھا جائے تو یہ سچ ہے کہ ریاستوں کے تعلقات مفادات پر مبنی ہوتے ہیں ، جسے ہنس مارگینتھو(Hans Morgenthau) اپنی کتا ب’ریاستوں کے مابین سیاست‘ یعنی ’’politics among nations‘‘ میں اِس مضمون پر ہی لکھا ہے ۔ مارگینتھو کے مطابق طاقت اور مفادات کی بناء پر ریاستوں کے مابیں تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں۔’طاقت کی سیاست‘ کا دوسرا فارمولا کہ’ سیاست میں کوئی مستقل دوست اور دُشمن نہیں ہوتا‘ بلکہ اِس کا تعین ریاستوں کے مشترکہ مفادات کرتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ فارمولا بالکل واضح ہوجاتی ہے جسے دفاعی تجزیہ کار ’’کشیدگی اور تعلقات ‘‘ کے ا دوار میں تقسیم کرتے ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے دوران عروج کو پہنچی ، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کشیدگی اور تعطل کا شکار، پھر آسی کی دہائی میں افعانستان میں جنگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری، پھر کشیدگی، پھر نائن الیون کے بعد بہتر، اور اب پھر کشیدہ ! کیون؟ایک سادہ سا جواب یہ ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے منسلک مفادات اِتنے زیادہ اب نہیں رہے ، جتنے نائن الیون سے رہ چکے تھے ۔
اگر اِس سوال کا تفصیلی جواب دیا جائے تو یہ ممکنہ تجزیہ ہوسکتا ہے۔ امریکی حکومت حالیہ دِنوں پاکستان کے دہشت گردی کے حوالے سے خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے خلاف اور طالبان کے خلاف افعانستان میں ہونے والے حملوں کے تناظر میں مطمئن نہیں۔ اور پاکستان کا دہشت گردی کے حوالے سے افعان پالیسی پر اطمینان کا اظہار کر نہیں رہا۔ ایک طرف امریکی حکومت افعانستان سے اپنے افواج کا انخلاء کرنا چاہتا ہے، یعنی دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے مفادات اِس خطے میں اگر مکمل نہیں ہوئے ہیں تو کچھ حد تک ہوگئے ہیں، تو دوسری طرف امریکی صدر بارک اوباما کا مدت صدارت بھی ختم ہونے کے قریب آرہاہے۔ امریکی فوج کا افعانستان سے انخلاء، امریکہ کے مفادات کا خطے میں کمی، صدر کی مدت ، اور پاکستان کا افعانستان میں کردار ، حقانی، اور طالبان نیٹ ورک کے خلاف کاروائی پر غیر اطمیناں نے امریکہ کے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کاF-16 کے حوالے سے فیصلے کو تعطل کا شکار بنا چکُی ہے ۔ ایک دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ کا پاکستان کے تعاوں سے افعان پیس ٹاک(Afghan peace talk) میں افعان طالبان کے نمائندے کو لانے ، اور تشد د میں کمی کرنے میں ناکامی بھی ہو سکتی ہے؟
شاید پاکستان امریکہ سے یہ جہاز 700ملین ڈالر کی مد میں آج سے بہت پہلے خرید چُکا ہوتا لیکن پاکستان کی معاشی پوزیشن اِس با ت کی اجازت نہیں دیتی کہ پاکستان ایک آزاد فیصلہ کرسکے،اور اِتنی رقم جہازوں کیلئے مختص کرسکے۔ پاکستان کو آٹھ F-16 جہازوں کیلئے 270 ملین اور امریکہ کو430 ملین ڈالرز اپنے ’غیرملکی عسکری سہولت‘ کے تحت اداکرنا تھا ،یہ امریکی کانگریس کے تحفظات پر ادا نہ ہوسکی ، اور جہازوں کا یہ مسلہ تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان سے امریکی کانگریس کی ہمدردی کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ 1984ء سے غیرمتوازن اور شرطیہ ہے، جب امریکی سینٹ کی بیرونی تعلقات کی کمیٹی نے ایک ترمیم پاس کردی کہ ’’کوئی بھی ملٹری ایکوپمنٹ یا
ٹیکنالوجی پاکستان کو اُس وقت تک فروخت یا منتقل نہیں کیاجائے گا جب تک صدر یہ تصدیق کردے کہ پاکستان کے پاس کوئی نیوکلیر دھماکہ خیز مواد،کہ وہ نیوکلیر مواد نہیں بنا رہاہے ،اور ایسے ساماں حاصل نہیں کررہا جس سے ایسے آلات بن سکتے ہیں‘‘۔ تو لہذا یہ پاکستان پر ایک دوسرا قدعن ، اور ساتھ دوسرے عوامل جس کا ذکر اُوپر ہوا ہے ۔
اوریہ کہ F-16 جہاز پاکستان کیلئے اہم ہیں تو اِسی لئے پاکستانی حکومت کئی سالوں سے دفاعی نظام کوبہتر بنانے کیلئے یہ جہاز لینے کی کوشش کررہی ہے!، جسکا متبادل شاید ہوسکتا ہے لیکن F-16 نہیں ہوسکتا۔ اب سرتاج عزیز کا اور اسحاق ڈار کے بیانات کہ دوسرے اپشنز کے بارے میں سٹیڈی کرنے کے حوالے سے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نمائندہ جان کربی کا کہنا تھا ’’کہ یہ ریاست کے آزاد فیصلے ہوتے ہیں جو اپنے دفاع کے حوالے سے قومی ریاست کرتے ہیں، اور یہ پاکستان پر ہے کہ وہ اپنے دفاعی ضروریات کو کیسے پورا کرینگے‘‘
اِس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں امریکہ پاکستان کو جہاز خریدنے اور نہ لینے پر مجبور نہیں کررہا بلکہ یہ پاکستان کے پاس بارگیننگ پاور کا فقدان ، اور معاشی بدحالی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اِن جیسے مسائل سے دوچارہے۔ ایک طرف پاکستان کیلئے یہ مسائل ، تو دوسر ی طرف ہندوستان جوکہ اِس خطے میں امریکی اتحادی ، امریکہ کو اِس بات کا بھی احساس ہے پاکستان کو F-16 دینے کے حوالے سے وہ اپنے دفاعی خدشات کا اظہار کریگی، اور خطے میں دفاعی عدم توازن پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، جو سینٹ کمیٹی میں معاملے کو مزید تعطل کا شکار کرچکی ہے۔بحرحال اِ ن حالات، واقعات، طاقت کی سیاست، اور مفادات کی جنگ میں F-16 کے حوالے سے پاکستان کی معاشی سکت اور امریکہ سے تعلقات کو دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں۔
کیسے کہوں مجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق