ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……پتھر کا زمانہ اور چترال

………ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ …….
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنوبی اضلاع کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فاٹا کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں پتھر کا زمانہ آیا ہوا ہے۔ بعض مایوس اور قنوطی یہ بھی کہتے ہیں کہ پورا خیبر پختونخوا پتھر کے دورکی طرف جا رہا ہے اور عنقریب اس دور میں پہنچنے والا ہے، تھر کا قحط، راجن پور میں چھوٹو گروپ اور لیاری میں گینگ وار یا فاٹا میں “ڈو مور” کی کاروائیاں اخبارات کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ مگر آبنوشی اور آبپاشی کے پانی سے محرومی، سڑکوں اور پلوں کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا بحران، بجلی کی بندش اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی سے پیدا ہونے والے مسائل اخبارات کی توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کرتے ۔ چترال رقبے کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ کالاش تہوار چلم جوش اور ضلعی حکومت کا میلہ جشن بہاراں دیکھنے کے لئے 50ہزار سیاح چترال آئے ۔ ان کو حیرت بھی ہوئی، مایوسی بھی ہوئی۔ سیاحوں نے دیکھا کہ 2012ء کے سیلاب میں تباہ ہونے والی سڑکوں کی مرمت 4سال بعد نہ ہوسکی۔ 2015کے سیلاب میں تباہ شدہ انفرا سٹرکچر اسی حالت میں پڑ ا ہے۔ 20ہزار ایکڑ زمین پر گندم کی فصل پانی نہ ملنے کی وجہ تباہ ہوئی ہے۔ 2لاکھ کی آبادی پینے کے پانی سے محروم ہے۔ 3لاکھ کی آبادی بجلی سے محروم ہے اور پانچ لاکھ کی آبادی سڑکوں کی سہولت کو ترستی ہے۔ پتھر کا زمانہ انگریزی میں سٹون ایج کہلاتا ہے۔ کم و بیش 50ہزار سال پہلے دھات ایجاد نہیں ہوا تھا۔ انسان کے پاس پتھر کے سوا کوئی بھی آلہ بھی نہیں تھا۔ کوئی ہتھیار بھی نہیں تھا۔ وہ نوکیلے پتھر سے زمین کو کاشت کرتا تھا۔ نوکیلے پتھر سے نہریں نکالتا تھا۔ نوکیلے پتھر سے جانوروں اور پرندوں کا شکار کرتا تھا۔ پتھر پر گوشت اور روٹی پکاتا تھا۔ اور پتھر کا سرہانہ سر کے نیچے رکھ کر سوتا تھا۔ اس کی کل کائنات کا حساب لگایا جائے تو پتھر کے سو ا کچھ نہ تھا ۔اسلئے ترقی سے محرومی کو پتھر کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا نے چاند اور مریخ پر گھر بسانے کا انتظام کیا۔ مگر خیبر پختونخوا کے پہاڑی مقامات کو واپس پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ضلع چترال میں 120چھوٹے بڑے نہروں کی بحالی 6مہینے کا کام تھا۔ ستمبر میں کام شروع ہوتا تو مئی کے مہینے میں کام مکمل ہو جاتا۔ واٹر سپلائی سکیموں کی مرمت میں صرف 4مہینے لگ سکتے تھے۔ اگر متعلقہ محکمہ ستمبر 2015میں کام شروع کرتا تو جنوری سے پہلے تمام واٹر سپلائی سکیمیں دوبارہ بحال ہو سکتی تھیں۔ سیلاب میں بہنے والے پیدل پلوں کی تعمیر 3مہینوں میں ہو سکتی تھی۔ اگر ستمبر 2015میں کام شروع ہوتا تو نومبر کے مہینے میں پیدل پل دوبارہ تعمیر ہوسکتے تھے۔ سڑکوں کی بحالی ایک سال کا کام تھا۔ اگر ستمبر 2015میں کام شروع ہو جاتا تو مئی 2016ء میں نصف سے زیادہ کام ہو چکا ہوتا اور متاثرہ سائیٹ پر کام نظر آتا۔ مشینری نظر آتی ۔ لوگوں کو کچھ نہ کچھ حوصلہ مل جاتا کہ کام ہو رہا ہے۔ تباہ شدہ بجلی گھروں کی بحالی میں ایک سال لگ سکتا تھا۔ اگر ستمبر میں کام شروع ہوتا تو اگلے ستمبر تک بجلی بحال ہونے کی امید ہوتی۔ 10مہینے گزر گئے کام شرو ع نہیں ہوا۔ کور کمانڈر پشاور کی طرف سے دباؤ آتا ہے تو مشینری کو حرکت دی جاتی ہے۔ ایک ہفتہ بعد کام بند ہو جاتا ہے۔ جنرل آٖفیسر کمانڈنگ کی طرف سے دباؤ آتا ہے تو ایک دن کے لئے تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی بحالی پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے۔ اگلے دن تمام فریق اپنا وعدہ بھول جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے چار بڑے فریق ہیں۔ وفاقی حکومت بھی ایک فریق ہے، صوبائی حکومت بھی فریق ہے، ایم این اے اور ایم پی اے بھی فریق ہیں۔ ضلعی حکومت کے منتخب ناظمین بھی فریق ہیں اور “دو ملاؤں میں مرغی حرام “کے مصداق چار فریقں کی لڑائی نے عوام کو مصائب اور مشکلات کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ چاروں فریقوں کا اس بات پر پورا پورا کامل اتفاق ہے کہ عوام کی کوئی خدمت نہ کی جائے اور ہر گز نہ کی جائے۔ اللہ کے فضل و کرم سے عوامی نمائندوں کے سامنے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے اپنے معاملات ٹھیک چل رہے ہیں۔ عوام کو جو تکلیف ہے وہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ قدیم زمانے کے دانا لوگوں میں سے کسی کا قول ہے کہ گھر میں اچھے خاندان سے لائق اور قابل بہو آجائے تو وہ دولت اور سلیقہ لے کر آتی ہے۔ گھر کو دولت، برکت اور حسن انتظام سے جنت کا نمونہ بناتی ہے۔ کمینہ گھرانے سے نالائق بہو گھر میں آئے تو اپنے ساتھ پھوٹی کوڑی نہیں لاتی۔ سلیقہ اس کے پاس نہیں ہوتا۔ گھر کے پرانے برتنوں کو ادھر ادھر پھینک دیتی ہے۔ شور مچاتی ہے ، فساد برپا کرتی ہے اور گھر کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔ داناؤں کا یہ قول جمہوری سیاست کے عوامی نمائندوں پر صادق آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی کا ذکر کرتے ہیں تو فیلڈ مارشل ایوب خان ، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق، لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ اور جنرل پرویز مشرف کے نام زبان پر آتے ہیں۔ کسی اور کا نام زبان پر نہیں آتا۔ اگر نہر کی مرمت، واٹر سپلائی سکیم بحالی، ٹوٹی ہوئی سڑک کی مرمت، ٹوٹے ہوئے پل کی مرمت اور بجلی گھر کی بحالی کے لئے کور کمانڈر یا جی او سی سے ہی رجوع کرنا ہے تو پھر یہ اسمبلیاں، یہ عوامی نمائدے،یہ صوبائی کابینہ اور یہ وفاقی کابینہ کس مرض کی دوا سمجھے جائیں گے؟ کیا عوام کو ان کے غلط انتخاب کی سزا مل رہی ہے؟ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال کی چار کمزوریاں ہیں اور ایک طاقت ہے۔ کمزوریاں اور خامیاں یہ ہیں کہ لوگ امن پسند ہیں۔ شریف لوگ ہیں، بندوق کی جگہ قلم سے محبت کرتے ہیں۔ لسانی اور نسلی اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور سب سے بڑی کمزوری یا خامی یہ ہے کہ دو چار پیسے کی لالچ میں دشمن کا آلہ کار نہیں بنتے۔ ان چا روجوہات کی بنا ء پر موجودہ حکومت چترال کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی۔ تاہم چترال کی ایک طاقت اور خوبی ہے۔ اس کی 475کلومیٹر لمبی سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے۔ سرحد کے اس پار تین بڑے دشمن بیٹھے ہیں۔ بھارت کے کارندے ہیں۔ امریکی فو ج ہے۔ اور افغان حکومت ہے۔ اس بناء پر چترال کو پاکستان کے سرحدی حصار اور دفاعی پوزیشن کی حیثیت حاصل ہے۔ جنرل ضیاء الحق، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق، لیفٹیننٹ جنرل سید افتخار حسین شاہ اور جنرل پرویز مشرف اس وجہ سے چترال کی ترقی میں دلچسپی لیتے تھے۔ آج بھی پاک فوج کی قیادت خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلعی چترال کی ترقی میں دلچسپی لیتی ہے۔ تاہم منتخب نمائندوں اور جمہوری حکومتوں نے اس کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا ہے۔
جس عہدمیں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق