مضامین

صدا بصحر ا …..گرینڈ الائنس

……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……
اخبارات میں خبر لگی ہے کہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں ’’بڑے اتحاد ‘‘کو انگریزی میں یہ نام دیا گیا ہے بڑے اتحاد سے مراد اپوزیشن کی تما م جماعتو ں کا ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا ہے اکھٹے ہونے کیلئے مشترکہ ایجنڈا اور پروگرام کی ضرورت ہے موجودہ حالات میں ملک کو گیارہ بڑے مسائل کا سامنا ہے مہنگائی ،بے روزگاری ،غربت نظم و نسق کا فقدان ،توانائی کا بحران ابتدائی 5مسائل ہیں دہشت گردی ،لاقانونیت قومی اداروں میں ٹوٹ پھوٹ ،غیر ملکی قرضو ں میں اضافہ ،قدرتی آفتوں سے نمٹنے کے لئے وسائل کی کمی اور سیاسی عدم استحکام کل ملاکر 11بڑے مسائل ہیں گرینڈ الائنس کے ایجنڈے میں ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نہیں ایجنڈا یہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت کو گرایا جائے یادش بخیرمرحوم نوابزا دہ نصراللہ خان پاکستان کی سیاسست میں ہر دلعزیز شخصیت اور بزرگ سیاستدان تھے ان کو بابائے جمہوریت کہا جاتا ہے ائیر مارشل اصغر خان کو لیکر انہوں نے کئی سیاسی اتحاد تشکیل دئیے ۔ہر اتحاد کے بعد ان کی اپنی پارٹی پاکستا ن ڈیموکرٹیک پارٹی کمزور ہوگئی اور ہر تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء آیا پھر بھی وہ بابا ئے جمہوریت ہی رہے ائیر مارشل اصغر خان کا نا م وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں عمران خان کے نام کی طرح ہمیشہ زندہ رہے گا گرینڈ الائنس کا ون پوائنٹ ایجنڈا نواز شریف ہٹا ؤ ہے نواز شریف کو ہٹانے کے بعد کیا ہوگا یہ بات ایجنڈے میں شامل نہیں ہے اور گرنیڈ الائنس کو اس سے غرض بھی نہیں ہے اس وقت قوم کے سامنے تین راستے ہیں پہلا راستہ یہ ہے کہ ملک میں 12جماعتوں کی حکومت ہے مسلم لیگ (ن)اور جمعیۃ العلمائے اسلام کے علاوہ بلوچستان کو قوم پر ست جماعت بھی شریک اقتدار ہے سندھ میں پی پی پی اور فنکشنل لیگ کے ساتھ ایم کیو ایم کا گورنر ہے نصف سے زیادہ حکومت اُس کی ہے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی جماعت اسلامی اور پی پی پی کی حکومت ہے آزاد کشمیر میں پی پی پی اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن)کی حکومتیں ہیں اس طرح ایک درجن جماعتیں اقتدار میں ہیں سینٹ کا چیرمین پی پی پی کا ہے یہ ایک اضافی عہدہ ملک کی اپوزیشن پارٹی کے پاس ہے جمہوری نظام میں یہ بہترین شراکت اقتدار ہے اس میں کوئی بھی جماعت فساطتیت مسلط کر نے کی پوزیشن میں نہیں دوسر ا راستہ یہ ہے کہ مختلف اسمبلیوں میں جہاں قائد ایون اپنی مقبولیت کھو چکا ہو عدم اعتماد کی تحریک لا کر حکومت کے سو اکسی دوسرے صوبے یا وفاق ایون کو ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے تیسری صورت وہ ہے جو طاہر القادری ،شیخ رشید احمد اوردیگر لیڈروں نے تجویز کی ہے یعنی ملک میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ ارائی کر کے مارشل لاء کی راہ ہموار کی جائے اور بابائے جمہوریت ہونے کا سہرا سر پر سجا یا جائے طاہر القادری اور شیخ رشید کا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں نہ مقبول سیاسی جماعت ہے نہ اسمبلی کی ایسی سیٹ ہے جو اکیلے جیت گئی ہو نہ حکومت ہے نہ اقتدار ہے نہ کوئی روشن مستقبل ہے اس لئے دونوں کشتیاں جلا دیئے ہیں اور حد یہ کہ ان کے جلانے کیلئے کشتی بھی نہیں ہے
میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے حد ہے
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے حد ہے
گرینڈ الائنس کے پاس فنڈ نگ کی کمی نہیں ہوگی نواز حکومت اور دیگر اسمبلیوں کو گرانے کے لئے اربوں ڈالر ملینگے تاہم ڈالر آنے کے بعد احتجاجی تحریک کا انتظام ،انصر ام بہت بڑا مسئلہ ہے اس کا حل نہ طاہر القادری کے پاس ہے نہ شیخ رشید کے پاس ہے نہ عمران خان کے پا س ہے اس وقت تین جماعتیں اجتماعی تحریک چلا سکتی ہیں ایم کیو ایم ،جماعت اسلامی اور جمعتہ العلمائے اسلام (ف)تنوں کے پاس نظریاتی کارکن ہیں سیاسی رہنماوں کا باقا عدہ کیڈر ہے ایک لیڈر پکڑا جائے دوسر ا آ گے آتا ہے وہ پکڑا جائے تیسر ا لیڈر علم اُٹھا لیتا ہے اس طرح تحریک آگے بڑھتی ہے اور کامیابی سے ہم کنا ر ہوتی ہے موجودہ حالات میں جو گرینڈ الائنس بننے جا رہا ہے اس میں شامل جماعتوں نے ماضی میں ایسی تحریکوں کے حوالے سے کوئی کامیاب تجربہ نہیں کیا نیز عوام کو متحرک کرنے میں کرشماتی قیادت یا کوئی اہم عوامی مسئلہ انکے سامنے نہیں ہے امید کی اخری کرن انکے سامنے امپائر کی وہ انگلی ہے جس کو جی ایچ کیو کا اشارہ کہا جاتا ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بار بار یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کی پہلی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دشمن کو شکست دیکر ملک کی سرحد وں کو دشمن کے حملوں سے محفوظ کرنا ہے پاک فوج کی نظر میں اس سے بہتر کوئی بھی مقصد نہیں ہے کسی کو حکومت سے ہٹانا اور کسی دوسرے کے سرپر تاج رکھنا بالکل اس کے تر جیحات میں شامل نہیں گرینڈ الائنس بنانے والوں نے اس حقیقت کا درست ادراک نہیں کیا اور یقینی طور پر ان کے مرغے نے ایک بار پھر غلط ٹائم پر بانگ دی ہے یہ صبح صادق نہیں صبح کاذب ہے علامہ اقبال نے کہا ۔
نالہ ہے بلبل شور یدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى