شمس الحق قمر

ذاکر محمد زخمی،میرے روزنامچے کے اوراق سے (آخری قسط)

تحریر: شمس الحق قمرؔ بونی



”ذاکر محمد زخمی،میرے روزنامچے کے اوراق سے“  پہلی قسط میں ذاکر محمد زخمی ؔ کے  بچپن اور تعلیمی  کے حوالے سے جہاں اُن سے گفتگو مجھے یاد تھی آپ کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی۔  ذاکر  محمد زخمی ؔ کی پہلی بار مشاعرے میں شر کت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔  یہ وہ  زمانہ تھا جب کھوار شاعری میں بابا ایوب،  محمد فگار ؔ، عرفانؔ،خاکیؔ،میرؔ، اسیرؔ،  رحمت  اکبر ؔ،  عرفان،  بیغش ؔ،چغتائی، فخرؔ اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی جیسے با کمال شعرا ئکی شہرت کا بول بالا تھا ۔ جبکہ نوجواں شعرا میں شاہدؔ، عارفؔ، حیات، صالح، آزاد ، تنویرؔ، و لی ؔ، مخفی ؔاور پروانہؔ جیسے لوگ اس میدان میں طبع آزمائی کر رہے تھے۔  ذاکر محمد زخمی ؔ چھپے رستم کے بھیس میں اپنی ریاضت کو اوج کمال تک پہنچا چکا تھا۔ ۵۲ دسمبر  ۵۸۹۱  ء کو کوغوذی میں راجہ صلاح الدین کے دولت خانے میں ایک مشاعرہ ہونا قرار پایا تھا ( معیز الدین بہرامؔ  آج کا نو جواں شاعر  جو کہ راجہ صلاح الدین کے صاحب زادہ ہیں)

 راجہ صلاح الدین کے گھر میں ہونے والے اس مشاعرے کی  صدارت  صاحب خانہ نے خود  فرمائی تھی جبکہ  نظامت کے فرائض محترم ڈاکٹر ٖفیضی ؔ نے کی تھی باقی شعرا ئ میں چوٹی کیمذکورہ تمام  شعرا ئ موجود تھے۔ یہ وہ پہلا مشاعرہ تھا جس میں ذاکر محمد زخمیؔ صاحب نے کسی مشاعرے میں پہلی بار طبع آزمائی کی تھی۔ غزل کا سر مصرع یہ تھا  ” ؎   مہ ارمانان کشتی مہ پیسی دریاہا بے خبار ہنون“  حوصلہ افزائی اور داد اتنی ملی کہ موصوف کو شک ہوگیا کہ کہیں اُن کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا مذاق تو نہیں اُڑایا گیا۔ لیکن جب تمام تجربہ کار شعرا  ئ نے باری باری شاباشی دی، اُن کے  خیال اور الفاظ کے جوڑ توڑ کو سراہا تو صاحب موصوف کو یقین ہو گیا کہ واقعی اُس نے کوئی کام کیا تھا۔ اس مشاعرے میں جانے کی پہلی وجہ جاوید حیات کی طرف سے میرے اشعار کی حوصلہ افزائی تھی۔  اُس مشاعرے کے بعد ذاکر کا نام زخمی ؔصاحب میں تبدیل ہو کر زبان زد خاص و عام ہو گیا۔  شاعری کے حوالے سے ذاکر کا خیال ہے کہ یہ اُن کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ایک صلاحیت ہے۔ خیال کے تانے بانے اور دھاگے نامعلوم مقام سے آتے ہیں بس اُنہیں الفاظ کا جامہ پہنانا ہوتا ہے۔  زخمی ؔ کا کوئی خاص اور وقتی ہدف نہیں  تھا اور نہ ہے کہ جس کی بنیاد پر صرف الفاظ کی ترتیب یا قافیہ بندی سے شاعری کی جائے۔ یہ تو ایک چنگاری تھی جوکہ بیرونی ہواؤں کے جھونکوں سے بھڑک اُٹھی اور ہر طرف لپکتی رہی۔ ذاکر محمد زخمیؔ صاحب ایک ایسے گاؤں میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اسلامی اقدار کی پاسداری  بہت سختی سے کی جاتی ہے۔  ہنسی مذاق، عیش نشاط، لہو و لعب کی گنجائش اس علاقے میں بالکل مفقود ہیں لیکن اس کے باوجود  زخمی ؔ صاحب کا شاعر بننا، رقص و سرود کی محفلوں میں جانا گھر میں آلات موسیقی  رکھنا وغیرکے پیچھے اُن کے والد محترم کا چھپا  ہاتھ تھا۔ آپ کے والد صاحب کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ تو نہیں تھے البتہ ایک معمولی حرف شناس تھا تھے  لیکن اُرد وکی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ گویا یوں کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ اپنے زمانے کا تعلیم یافتہ تھے۔ذاکر محمد کی حرکتوں کو بھانپ گئے تھے کہ بچے کے اندر خدا داد صلاحیتوں کی بھر مار  ہے لہذا  بجائے بچے کی بظاہر غیر ضروری بہ باطن اہم خفیہ صلاحتوں کو  علاقے کی مذہبی روایات کے مطابق دبانے کے اپنے بچے کی ایک غیر مرئی طریقے سے اُنہی خطوط پر پرداخت شروع کی جن کا انتخاب  بچے نے  اپنے لئے پہلے سے کیا ہوا تھا ۔ یوں بچے کی غیر معمولی صلاحیتوں میں کسی کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہوئی اور بچہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا گیا۔  بڑے شعرا کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ قافیہ بندی  یا بحر سازی میں وقت ضائع نہیں کرتے بلکہ شعر بننے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ردیف، قافیہ، وزن، بحر سب اپنی جگہ پر درست ہیں۔ ذاکر زخمی ؔ سے ایک مرتبہ میں نے یہی سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ کسی خیال کی آمد کے ساتھ یاس اس سے پہلے قافیہ اور ردیف وغیرہ تیار کرتے ہیں یا آمد کے  ساتھ ساتھ الفاظ اپنے سانچے میں خود بخود بیٹھ جاتے ہیں؟  اُن کا کہنا تھا کہ اوائل دور میں جب وہ شاعری کرتے تھے توانہیں معلوم نہیں تھا کہ قافیہ ، ردیف بھیہوتے ہیں جوکہ نثر کو شعر بناتے ہیں بلکہ زخمی ؔ صاحب  ان چیزوں کی پرا کئے بغیر لکھتے جاتے اور تقطیع کے بعد معلوم ہوتا کہ الفاظ کا استعمال کمال مہارت کے ساتھ ہوا ہے۔ زخمی ؔ صاحب کا کوئی بھی شعر اُٹھا کر تقطیع کیجئے  تو معلوم  ہوگا کہ گنجائش ہی نہیں کہ زخمی ؔ کے اس فن میں غلطی سے بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت ہوا ہو۔  ادب میں یہی کچھ شاعر اور شاعری کا کمال اور خاصہ ہوتا ہے۔  مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ آخر وہ کس شاعر سے متاثر تھے کہ نوک قلم سے الفاظ کو بلا تکلف خیال کی لڑی میں مہارت کے ساتھ  پروتے رہتے ہیں۔ آپ  نے کہا کہ آپ  غالب ؔکی شاعری سے بے حد متاثر ہیں۔ کہتے ہیں کہ غالبؔ کے ہر لفظ میں قیامت برپاہوتی ہے۔ غالبؔ کے بعد زخمی ؔ کی نظر میں کوئی شاعر جو زخمی ؔ کی نبض شناس ہو سکتا ہے تو  وہ ساغر صدیقی ہیں۔اقبال کی شاعری کے حوالے سے زخمی ؔ کا خیال ہے کہ اُن تک پہنچنا جگر جوکھوں کا کام ہے ”ادھر ڈوبے اُدھر نکلے“ کی زندہ مثال ہے۔

            ذاکر زخمی ؔ کو ایک قلق، ایک پریشانی اور  ایک وسوسہ جو کہ کھائے جا رہاہے وہ ہے ہمارے رسم و رواج اور ہماری رویات میں بے سود تبدیلی۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے دم توڑتے رسومات کے ساتھ  اُن سے متصل اور منسلک ہماری زبان کے اچھے اچھے الفاظ، جن میں اکثر دعائیہ کلمات ہوا کرتے تھے،بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔  آج کل کی شادیوں میں ”لوک ژور“  اپنی بچی کی خوشگوار زندگی دعاؤں اور نیک خواہشات پر مبنی موسیقی کی جگہ مہندی کا رسم آگیا  ہے۔نہیں معلوم کہ مہندی کے رسم کے پیچھے ہماری کونسی ثقافت کار فرما ہے۔  خواتین جمع ہوتی ہیں دلہن کے ہاتھ پاؤں رنگے جاتے ہیں اور اُردو یا کسی اور زبان میں گانے گائے جاتے ہیں۔  اور باہر سرنئے اور ڈھول کی تھاپ پر شراب کے نشے میں دُھت ، شرم و حیا سے عاری نوجواں اپنے بدن کی افسوس ناک حرکات و سکنات سے باقی نوجوانوں کو محظوظ کر رہے ہوتے ہیں یہی نہیں بلکہ جوش میں آکر  چھریوں سے ایک دوسرے کو چھلنی کرتے ہیں اور کچھ متمول خاندانوں کی آوارہ اولاد تو اپنے ساتھ پستول بھی رکھتے ہیں۔  ذاکر کا کہنا ہے کہ ہمارا کھو کلچر یکسر فوت ہوا ہے۔ وہ تمام رسومات جو بچے کی پیدائش پر، سنت پر،  پہلی دفعہ بال کاٹنے پر، شادی پر، موت پر، بیماری  اور پھر تندرستی پر بجا لائے جاتے تھے آج اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں۔ زخمی ؔ کہتے ہیں کہ جو قوم اپنی روایات کو بھول جاتی ہے وہ مردہ قوم ہوتی ہے اور مردے کی کوئی معاشرتی حیثیت نہیں ہوتی۔  زخمی ؔ کی زندگی ایک ایسا افسانہ ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری کا دل اور بھی قریب جانے کی خواہش کرتا ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی شئے جوآپ سے دور ہو وہ خوبصورت لگتی ہے اور دل کو لُبھاتی ہے لیکن ذاکر محمد زخمی ؔ پر اس خیال کا اطلاق بالکل نہیں ہوتا۔ موصوف کی شخصیت اتنی جازب ِ نظر ہے کہ اُن کے قریب جانے اور کھوجنے سے  آپ کی شخصیت کا جادو دل کی نظر سے دیکھنے والے کو اپنی طرف خوب راغب کرتا ہے ۔  جاتے جاتے میں نے ذاکر  زخمی سے پوچھا کہ وہ کونسی ایسی چیز یا واقعہ ہے جو آپ کے دل میں ہمیشہ کے لئے نقش چھوڑ کے رخصت ہو ا ہے۔  زخمی ؔ جیسے بڑے شاعر جوکہ  لوگوں کے بڑے سے بڑے  ہجوم  پر بھاری ہوتے ہیں، میرے اس سوال پر پُر نم ہوگئے اور آواز  بھرّا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ”میں سوچتا تھا کہ ماں کی محبت کا سایہ جب میرے سر سے اُتھ جائے گا تو اُس قیامت کو میں کیسے برداشت کرو۔ میری ماں طویل عرصے تک بستر علالت میں زندگی کی جنگ لڑتی رہی لیکن بازی ہار گئی۔ میں نے حد المقدور کوشش کی لیکن میری ماں شفایاب نہ ہوئیں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی مجبوری  وہ واقعہ تھا”

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق