تازہ ترین

تحصیل کونسل کے ممبران کا تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس کی قیادت میں گولین دو میگاواٹ بجلی گھر کا دورہ۔کام کی رفتار تسلی بخش قرار

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) تحصیل کونسل کے ممبران نے تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس کی قیادت میں ٹیکنکل ٹیم کے ہمراہ پیر کے روزایس آر ایس پی کی طرف سے چترال ٹاون کے لئے بننے والی گولین دومیگاواٹ بجلی گھر کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے میں تحصیل نائب ناظم خان حیات اللہ خان،تحصیل کونسل کے ممبران حاجی سلطان ،شمشیر علی خان،قصوراللہ،شیر نذیر خان،حاجی فضلی معبود،ڈسٹرکٹ انجینئر سیف الرحمن،عبدالسلام،محمد جلیل وغیرہ شامل تھے ۔دورے کے موقع پر وفدکو ڈی پی ایم طارق احمد اور سائڈ انجینئر نے بجلی گھر میں ہونے والے کام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر پراجیکٹ ٹھیکہ دار حاجی بستان بھی موجود تھے۔اُنہوں نے کام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا پروگرام بجلی گھر کو مکمل کرنے کا نو مہینے تھا مگر گذشتہ سال کے سیلاب اور زلزلہ کے وجہ سے کام متاثر ہوا،اور اس سال کے آغاز میں بارشوں کے وجہ سے کام میں تاخیر ہوئی۔اب کام میں انتہائی تیزی آگئی ہے اورسول ورک بھی آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے انتہائی کم عرصے میں چترال کے ٹاون کو بجلی کی فراہمی شروع کردی جائیگی۔اُنہوں نے کہا کہ پاؤر ہاؤس کے لئے مشینری لانے میں مشکلات درپیش ہے کیونکہ روڈ تنگ ہونے کی وجہ سے بڑی گاڑیوں کی آمد رفت میں رکاوٹ پیش آرہی ہے۔اُنہوں نے تحصیل ناظم مولانا محمد ایلیاس سے روڈ کی کشادگی کے لئے اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ میں آب خود کام کے جگہ پر موجود ہوں اور کام میں تیزی کیلئے افرادی قوت کو بھی بڑھا یا گیا ہے ۔اُنہوں نے وفدمیں شامل ممبران کو یقین دہانی کی کہ کام میں مزید تیزی لائی جائیگی اور کام میعار کے مطابق کیا جائیگا۔تحصیل ناظم سمیت تحصیل کونسل کے ممبران نے کام کو تسلی بخش قرار دیا اور پراجیکٹ پر کام میں تیزی لانے پرایس آر ایس پی اور ٹھیکہ دار کی تعریف کی۔تحصیل ناظم نے ٹھیکہ دار اور سائڈ انجینئر کو مشینری سائڈ پر پہنچانے کیلئے روڈ کی کشادگی کے لئے کمیونٹی کے ساتھ ملکر کام کرنے کااعادہ کیا۔وفد میں شامل ممبران نے کھمبوں کی تنصیب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھمبوں کے لئے کھدائی 8فٹ کے بجائے4سے5فٹ کیا جارہا ہے جو کہ سردیوں میں برفباری سے کھمبوں کے گرنے کے قوی امکانات ہیں۔اُنہوں نے کھمبوں کی تنصیب میں سیمنٹ کے بجائے پتھروں کے زیادہ استعمال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔سائڈ پر موجود انجینئر نے یقین دہانی کرائی کہ کھمبوں کے تنصیب کے بارے میں شکایات کو دورکرکے کام کو معیار کے مطابق کیاجائیگا۔
یاد رہے چترال ٹاون میں گذشتہ کئی سالوں سے بجلی کی کم وولٹیج اور ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صارفین بجلی کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیں جس کے خاتمے کے لئے ایس آر ایس پی کی طرف سے چترال ٹاون کے لئے دومیگاواٹ بجلی گھر جس پر31کروڑ روپے لاگت آئیگی بنائی جارہی ہے۔اس بجلی گھر کے بننے سے چترال کے تقریباً80ہزارصارفین بجلی ناروالوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج سے چھٹکارا پائینگے۔بجلی گھر کو 9مہینوں میں مکمل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا مگرسیلاب،بارشوں اور زلزلہ سے کام میں تاخیر پیش آئی۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق