تازہ ترینظفر اللہ پرواز

وزیر اعظم پاکستان کا چترال میں یاد گار جلسہ۔

……………ظفراللہ پروازؔ بونی چترال…………..


۷ ستمبر ۲۰۱۶ء وزیر اعظم کاچترال پولو گراؤنڈ میں عوامی جلسہ اپنی نوعیت کا تاریخی جلسہ صرف پُرہجوم ہو نے سے ہی نہیں بلکہ اس کی زیادہ اہمیت اس لئے کہ اس میں دور دوار از علاقوں سے بھی عوام کے جم غفیر کے علاوہ ہر طبقہ فکر کے سیا سی اورمذہبی ناخدااؤں کی شرکت تھی یعنی اقبال کی اس شعر کے مصداق۔
ؔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و آیاز
تمام طبقہ فکر کے علاوہ خصوصا مشرف مسلم لیگ کے کارکنان نہ صرف حق میزبانی ادا کی بلکہ کثیر افر اد یکجا کرنے میں اپنی تن،من ،دھن کی بازی لگا کر جلسہ کو کامیاب اور پُر ہجوم بنا کر یہ عندیہ دیا کہ ایئندہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ چترال میں سب سے بڑی پارٹی کا اعزاز حاصل کرے گا۔اس کی وجہ زیادہ تر میاں صاحب کے زلزلے کے دوران امداد اور متواتر دورے تھے۔ جو صوبائی حکومت کی ٹانگ کچائی کے باوجود بھی عوام کے دلوں میں موصوف کے لئے محبت کی چنگاری پیدا کی تھی۔لیکن مسلم لیگ’’ن‘‘ کی مقامی لیڈر شب کی فقدان کی وجہ سے عوامی سطح پر وزیر اعظم کے لئے محبت کو تنظیمی شکل دے کر کیش کرنے سے قاصر تھی۔اور اس موقع کو غنیمت جان کر مشرف لیگ کے لیڈر زو کارکنان جو مرکزی طور پر پارٹی تحلیل ہونے کی بنا پر کسی سیاسی شاخ پر آشیانہ بنانے کی فکر میں تھے بروقت اقدام کرکے ن لیگ کی عوامی مقبولیت کو یکدم کیش کرکے اپنا آئیندہ آشیانہ ن لیگ کے شاخ پربنانے کا عندیہ دے کر سیاسی سفر کا ایک بار پھر آغاز کر دیا۔ اس طرح میاں صاحب کا جلسہ چترال کی تاریخ میں تمام جلسوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جو کئی سالوں تک بطور یادگار قائم رہے گا۔ مشرف لیگ والوں نے ن لیگ کو پیغام دیا کہ۔
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان ،،،کل کسی اور نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
دوسری وجہ مسائل سے براہ راست تعلق رکھنے والے عوام جو پی ٹی ائی کی تبدیلی کی راہ تکتے تھے۔اس کی غیر سنجیدہ سیاست کی بنا پرنہ صرف چترال بلکہ پورے کے پی کے میں ن لیگ کے لئے سیاسی میدان سنوارا ہے۔ جلسہ میں میاں صاحب کے اعلانات پر عوام علم الیقین میں تھے عین الیقین اور حق الیقین میں بدل گئے۔کیونکہ چترال کا شر ح خواندگی کے لحاظ سے پاکستان میں صف اول کے ضلعوں میں شمار ہے۔وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ نواز شریف بحیثیت انسان کوتاہیوں کے باوجود کھبی بھی جھوٹ موٹ اعلانات کرکے مکڑی کا جال نہیں بسایا ہے۔اور کچھ بہتری کے یقین کے ساتھ مخلص پاکستانی بھی سمجھتے ہیں۔
میرے اس کالم کا مقصد کسی جلسہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنا نہیں لیکن اس جلسے کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر ضرور یادگار بنانے کی کوشش ہے۔ مختصر یہ کہ مسلم لیگ’’ن‘‘ اور مشرف لیگ کے علاوہ دیگر عوام کے لئے بھی بہتری کا پیغام ہے۔البتہ جلسہ گاہ میں اسٹیج پر ہونے والی غلطی جس سے وزیر اعظم صاحب مبرأہے۔اور اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اس کو بری الذمہ قرار دینے میں ہم حق بجانب ہیں۔صرف اس غلطی کا براہ راست تعلق اسٹیج منتظمین اور مقامی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔جو یا تو دیدہ و دانستہ یا غیر ارادی طور پر ان سے سرزد ہوئی.عوامی حلقوں اور خصوصا پارٹی مخالف عناصر میں یہ چہ می گوئیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اور مزید بڑھنے کے امکان کو مدنظر رکھ کر عام چترالیوں کے لئے جو کہ جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھے۔اگاہی کے لئے عرض کرنا بحیثیت ایک چترالی اور جلسہ گاہ کا چشم دید گواہ ضروری سمجھتا ہوں۔تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ چترال کے عوام نامساعد حالات کے باوجود تہذیب و تمدن کے بلند ترین اقوام کے صف میں ہیں۔اور یہ بات بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ حقیقت ہے اس سے انکاری سورج کو دامن میں چھپانا ہے لوگ غریب سہی مگم انتہائی حساس ہیں جن کی ثقافت اور مزاج یہاں کی موسم کی طرح نرم اور پھول کی طرح نازک ہے جو اپنی شمار میں کمی کے باوجود اپنے روایات اور ثقافت کے اصولوں پر قربان ہونے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، اگر چہ شمار میں چھوٹے ہیں کبھی ستاروں سے ضیأ کی بھیگ نہیں مانگتے شاعرانہ حساس طبیعت کے ساتھ پہاڑوں میں پھتروں کاسرہانہ بنا کر دوسروں کیلئے درد دل رکھتے ہیں۔ اگر کوئی نا واقف ہے تو مطالعہ و تحقیق سے سمجھ آ جائے گی۔چترال کی طرح دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ اقوام بھی اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے زندہ قوموں میں شمار ہیں جس کی زندہ مثال برطانیہ ہے جو آج بھی ایوان کے اہم اجلاس میں لالٹین کی شمع جلا کر اپنی دور گذشتہ احسن طریقے سے یاد کرتی ہے جو بجلی کی روشنی میں اپنے اسلاف کے شمع کو نہیں بھولتے،اوراپنی پہچان اور روایات کے ساتھ وابستہ ہوکر نصف دنیا میں اپنی سلطنطیں قائم کیں اس کیوجہ یہ ہے ۔کہ وہ بطور فاتح، مفتوح قوم کی بھی روایتوں اور اصولوں کو ٹھیس نہ پہنچایاان کے تہذیب وتمدن کا اس طرح احترام کئے جس طرح اپنے اصول اور روایات کی کرتے ہیں۔اور نصف دنیا پر حکومت کرنے کا ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ دوسرے اقوام کے روایات کا احترام سیکھ چکے تھے۔ جوہم سنتے آئے ہیں کہ انگیریز بر صغیر میں حکومت کے دوران چترال بھی ان کی ریاست کا حصہ تھا جو سب سے کم ابادی ہونے کے باوجود اچترال کے دستور و روایات کی پابندی کی ہیں اگرچہ وہ بحیثیت فاتح قوم کی روایات کی پاسدارنہ کر تا تو کوئی اس کو کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پھر بھی انگریزحکمران دورہ چترال کے موقع پر شاہی روایات کے مطابق اس مقام پر گھڑ سواری سے اتر جاتا، جہاں مہتر چترال کو اپنے قلعہ سے اس حدِ نظر تک گھڑ سواری کسی دوسرے شخص کے لیے لازمی تھا کہ وہ سواری اتر کر شاہی قلعہ کی اداب بجا لاتے۔۔ اس بنااس وقت کے پو لیٹکل آفس (جو آج کل ڈی سی آفس ہے) وہاں سے شاہی قلعے کی طرف آتے ہوئے بڑے سے بڑا انگریز حکمران بھی گھوڑے سے اتر کر عوام کے اصول و روایات اور شاہی دستور کی پاسداری کرتا تاکہ قلعہ میں مہتر کے احترام میں کوئی فرق نہ آئے۔
وزیر اعظم کے جلسے میں چترالیوں کے لئے اہم بات اس وقت کی علامتی مہترِ چترال ہز ہائی نس فاتح الملک علی ناصر کی بنفس نفیس شرکت تھی،کیونکہ اس سے پہلے مہتر چترال کسی سیاسی جلسے میں شرکت نہیں کی تھی۔ مہتر چترال اس وقت جلسہ گاہ میں تشریف لائے جبکہ ابتدائی کاروائی جلسہ شروع ہو چکی تھی۔اس کی وجہ شاید عوام سے محبت یا نواز شر یف صاحب کی چترالیوں سے محبت کی وجہ سے تھی۔ وجہ جو بھی تھی اس وقت وزیر اعظم کے نوٹس میں مہتر کی آمد کو نہ لانا سراسر اسٹیج انتظامیہ کی اور مقامی انتظامیہ کی بھول یا دیدہ و دانستہ سازش تھی ۔ یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ چونکہ مہتر چترال چترال کی ایک علامتی نشان ہے۔اس کی قانونی حیثیت اگرچہ کچھ بھی ہو۔لیکن ریاست چترال کو اسلامی جمہوریہ پاکستان سے پہلی بار الحاق کا شرف حاصل ہے۔اور اس وقت کے معاہدے کے مطابق مہتر چترال کا روایتی احترام اور روایت اور دستور کا احترام کسی بھی حکمران پر فرض ہے۔اور مہتر کسی بھی شہزادہ یا فرد سے انفرادی تعلق یا رابطہ نہیں ہوتااسے صرف چترال کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔البتہ کسی ہنگامی ضرورت کے وقت مہتر کو عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا مہتر کی فرض منصبی میں شامل ہے۔
دوران جلسہ سٹیج میں ان کی آمدکا اعلان نہ کرناوزیر اعظم کی نوٹس میں نہ لاناصرف ان کا گناہ ہے جوچترالی سٹیج کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بحر حال بدقسمتی وہ روایات اور جدید اسٹیج کے اصولوں سے بے بہرہ سیاسی بصیرت سے نابلد اور سستی شہرت کے محتاج تھے۔ اس میں وزیر اعظم کو کوئی گلہ نہیں بقول شاعر کہ
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
احساس کی اس کار گہ ، شیشہ گری کا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق