محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…… ’’انوکھی دعا‘‘

………محمد جاوید حیات………….
پڑھی لکھی ماں اپنے لخت جگر کو سکول جانے کیلئے تیار کر تی ہے ۔رہ رہ کے اسے دیکھتی ہے ۔اس کے گلاب جیسے رخسار ،نشیلی آنکھوں ،پنکھڑی جیسے لب،معصوم اور گداز ہاتھ اور مسکراتا چہرہ دیکھتی ہے ۔۔جیب خرچ اس کی جیب میں رکھتی ہے ۔۔ہاتھ سے اس کے کپڑے پھر سے جھاڑتی ہے ۔۔پھر سے اس کو سر تا پا دیکھتی ہے ۔گویا اس کا دل گھر سے سکول کی طرف جا رہا ہے ۔۔واپس آنے تک اس کا سینہ خالی ہوگا ۔۔اس میں کوئی دھڑکن وغیرہ کی آواز نہیں آئے گی۔۔رگوں میں دوڑتا ہوا خون جم جائے گا ۔۔وہ اپنے لخت جگر کی پیشانی اور دونوں آنکھوں کو بوسہ دیتی ہے ۔۔اور سکول کی طرف روانہ کرتی ہے ۔۔پھر وہ آسمان کی طرف منہ کرکے دعا مانگنے لگتی ہے ۔۔۔۔اے میرے اللہ ۔میرے لخت جگر کو ہر آفت سے محفوظ رکھ ۔۔اس پر کسی طرح کی گرد نہ پڑے۔۔۔آندھی اس کو نہ ستائے ۔۔وہ بارش میں بھیگ نہ جائے ۔۔ہوا کے جھونکے آہستہ سے اس سے ٹکرائیں ۔۔کڑی دھوب اس سے دور بھاگے۔۔بادل اس پہ سایہ کریں ۔۔سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں پہ نہ پڑیں ۔۔گاڑیاں اس کے قریب سے آہستہ سے نکلیں ۔۔راہگیر اس کے سلام کا جواب دیں ۔۔بوڑھے بوڑھیاں اس کے لئے دعا کریں ۔۔بچے اس کو دیکھ کر مسکرایں ۔۔۔پرندے اس کو دیکھ کر چہکنے لگیں ۔۔کتے بھاگ جائیں ۔۔کیڑے مکوڑے بلوں میں چھپ جائیں ۔۔پہاڑ اس کو دیکھ کر اپنی بلندیاں اور اس پہ غرور بھول جائیں ۔۔دریا آپنی تلاطم خیزیاں کھو دیں ۔۔صحراؤں کی وسعتیں سمٹ جائیں ۔۔لوہے پگل جائیں ۔۔کتابیں اس کے لیے آسان ہوں ۔۔الفاظ اس کا منہ چومیں ۔۔اس کے ذہن کے سارے دروازے کھل جائیں ۔۔وہ اساتذہ کی آنکھوں کا تارا بن جائے ۔۔سب اس سے محبت کریں اور آرزو کریں کہ یہ ان کا بیٹا ہو ۔۔میرے مولیٰ میرے چاند کو کبھی گرہن نہ لگے ۔۔یہ ایک پڑھا لکھا جوان ہو ۔۔قوم کی بے لوث خدمت کرے ۔۔یہ پولیس کا بڑا آفیسر بن جائے قوم کی جان و مال اور عزت و آبرو کا محافظ ہو ۔۔۔مگر آقا ڈرتی ہوں کہ اگر اس کے نیچے چمکتی گاڑی آجائے ،کندھوں پہ سٹار لگیں ۔۔تو لوگ اس کو ’’سر‘‘ کہیں گے ۔۔اس کے سامنے من مانیاں ہونگی ۔۔اس کو انوکھی پیشکشیں ہونگی ۔۔تو میرے مولیٰ میرا چاند انسانیت کے لئے وبال بن جائے گا ۔۔اس کی زات پہ برایؤں کے داغ ہونگے ۔۔میرے چاند کی زات شیشے کی طرح ہے اس پہ گرد نہ پڑ جائے ۔۔آقا یہ پولیس میں نہیں سول سروس میں جائے ۔۔مگر ڈرتی ہوں کہ کہیں یہ کرسی اور اختیارات کے نشے میں اپنے فرائض سے غافل نہ ہو جائے ۔۔حقوق اس کے ہاتھوں پامال نہ ہو جا ئیں ۔۔اور میرا چاند انسانیت پہ بوجھ نہ بن جائے ۔۔میرے مولیٰ میرا چاند قوم کا راہنما بن جائے ۔۔یہ کہتے ہوئے ماں کی آنکھوں میں چمک اُتر آتی ہے ۔۔زندہ باد کے فلک شگاف نعرے اس کے کانوں میں رس گھولتے ہیں ۔۔آگے پیچھے لوگوں کا ہجوم ہے ۔۔اس کے ذمے ملک کی تعمیر ہے ۔۔قوم کی ترقی ہے ۔۔غریبوں کی خدمت ہے ۔۔لیکن ماں کی آنکھوں کی روشنی یک دم بجھ جاتی ہے ۔۔چہرہ آفسردہ ہوتا ہے ۔۔چیخ کر کہتی ہے ۔۔آقا میرے چاند کو لیڈر نہ بنا ۔۔ساری مخلوقات کی ز مہ داریاں اس کے نازک کندھوں پہ ہونگی ۔۔وہ یہ بوجھ نہ اٹھا سکے گا اور کل قیامت کے دن ۔۔۔یا اللہ اس کو لیڈر نہ بنا ۔۔۔وہ ایم این اے ، ایم پی اے ،ضلعے کا ز مہ دار وغیرہ بنے گا ۔تووہ مجبوراً جھوٹ بولے گا ۔۔دھوکہ دے گا ۔۔اس کے کارندے ہونگے ۔۔اس کی وفاداریاں ہونگی ۔۔اس کے لوٹے چمچے ہونگے ۔۔وہ اس کو جھوٹی تعریف،منافقت اور خوش آمد کی زہریلے انجکشن لگائیں گے ۔۔اس کی زات غرور سے بھر جائے گی۔۔وہ بت بن جائے گا ۔۔وہ اپنے آپ کو بھول جائے گا ۔اس کو اپنی کرسی بچانی ہوگی ۔۔وہ سکول بنانے کی بجائے اساتذہ ٹرانسفر کرتا پھرے گا ۔۔وہ کلاس فور بھرتی کرنے کی سفارش کرتا پھرے گا اس کو ملک کی تعمیر سے کو ئی دلچسپی نہیں ہوگی ۔۔اس کو حق نظر نہیں آئے گا اس کو صرف کرسی نظر آئے گی ۔وہ آخرت بھول چکا ہوگا ۔وہ اسلام تک کو اپنی کرسی کے لئے استعمال کرے گا اس کے پاس سوچنے کا وقت بھی نہیں ہوگا کہ وہ حق پر ہے یا نہیں ۔۔وہ بے شک حق کی بات کرے گا مگر اس کا قلم سفارش لکھتے وقت حق بھول جائے گا ۔۔۔۔میرے آقا میرے چاند کو لیڈر نہ بنا ۔۔۔ میری توبہ اس کو بڑا آدمی نہ بنا۔۔اس کو چھوٹا آدمی بنا ۔۔اس کو فوج کا سپاہی بنا ۔اس کے ہاتھ میں بندوق ہو ۔۔وہ کڑکتی سرد راتوں میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرحد پہ کھڑا ہو ۔۔وہ جاگتا رہے یہ اس کی بڑائی ہے ۔۔۔۔اس کو راج مزدوربنا وہ حلال کمائے گا ۔۔ یہ اس کی بڑائی ہے ۔۔اس کو محنتی استاد بنا ۔وہ پیدل سکول جائے اور خدا ترسی سے پڑھائے یہ اس کی عظمت ہے ۔۔۔اس کو ٹیکسی ڈرائیور بنا وہ حلال کرایہ لے یہ اس کا بڑا ہونا ہے ۔۔میرے مولیٰ میں اپنے چاند کو آگ ،خون اور جنون کے اس گھناؤنے کھیل سے بچانا چاہتی ہوں ۔۔میں اس کو بڑا آدمی نہیں عظیم آدمی بننے کا خواب دیکھ رہی ہوں ۔۔ایک تعلیم یافتہ اور شرافت کا پتلا جس کو زمانہ یاد رکھے ۔۔اگر حق ،شرافت انصاف کسی کی زات میں نہیں اس کا خواب کیوں دیکھوں ؟یہ پاک دھرتی اس کے بے لوث خادموں کی دھرتی ہے میرے چاند کو بھی اس کا بے لوث خادم بنا۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق