ساجد ضیا

(حوض کو ثر ) ………..عدم برداشت کی سیاست

…………ساجد ضیاء گولدور چترال ………….
ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں کہ یہاں کے عوام کسی نہ کسی پارٹی کو ووٹ دینے کے باوجود جمہوری تقاضوں سے بالکل نا آشنا ہیں لوگوں کی اکثریت ووٹ کی اہمیت سے بے خبراور جمہوری تقاضوں سے ناواقف ہے ۔ دوسری طرف جو با اثر طبقہ سیاسی میداں میں عملی سیاست کر رہا ہے ۔وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پرجمہوری اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے چاہے جو بھی ہو جب اس کی مخالف جماعت برسر اقتدار آجاتی ہے تو وہ محلاتی سازشوں کا حصہ بننا شروع کرتی ہے اور اپنی مخالف جماعت کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے بھر پور جدوجہد کرتی ہے یہاں تک کہ فوج کو بھی اقتدار سنبھالنے کی دعوت دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی ۔
جمہوریت نام ہے، آزادئی فکر اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ۔یہ تمام رویے اس وقت مظبوط ہو سکتے ہیں جب تمام لوگ با شعور ہو جائیں اور ملک میں جمہوری نظام مسلسل چلتا رہے اگر جمہوری نظام حکومت میں خلل آجایے تو یہ رویے بھی کمزور پڑھ جائیں گے اس لیے حقیقی جمہوریت پسند جماعتوں کو ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو پاکستان میں جمہوری حکومتوں کے تسلسل کوآگے بڑھانے میں ممد ثابت ہواور کسی بھی حالت میں ان جماعتوں کا آلۂ کار بنے سے گریز کرنا چاہیے جو اپنی مفادات کی خاطر جمہوری حکومتوں کو گرانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔
حزب اختلاف ایسا رویہ اختیار کرے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے برسراقتدارآنے کے بعدچار سال تک وہ حکومت پر بے جا تنقیدسے باز رہے اور حکومت کو گرانے کی کوشش ہر گز نہ کرے بلکہ صبر سے حکومت کے ہرکام کا جائزہ لے اور احتساب کے لئے عوامی عدالت ہی کو کافی سمجھے۔چار سال بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کرے اور عوام الناس کو حکومت کی نا قص کارکردگی سے آگاہ کرے تاکہ آنے والی انتخابات میں عوام دوبارہ اس جماعت کو وٹ نہ دین۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستاں میں حقیقی جمہوریت آ ہی نہیں سکتی کیونکہ اس طرز انتخاب کے زریعے انقلاب نا ممکن ہے۔میرے خیال میںیہ طرز عمل درست نہیں۔ہمیں اس سوچ کو ترک کرنا ہوگا۔ اں لوگوں کا یہ کہنا کہ ا ہل الراے شخصیات کو ہی رائے دہی کا حق حاصل ہونا چاہیے ۔ اگر چہ ان کی اس بات میں وزن ضرور ہے لیکن ان اہل الرائے شخصیات کا تعین کوں کرے؟ کیا ان حکمرانوں کے ذر یعے ا ہل الراے لوگوں کا تعین کیا جا سکتا ہے جو اس نظام کے پیداوار ہیں ؟ اگر یہ اختیار ان لوگوں کو دی جاے تو پھر اس لولی لنگڑی جمہوریت کو بھی خدا حافظ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں استقلال اور پرامن جدوجہد کے ذریعے اس جمہوری نظام کی حمایت جاری رکھیں اور عوام کو با شعور بنانے کی کوشش کریں۔اساتذۂ کرام کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ نونہالان قوم کو جمہوری اقدار سمجھانے کی کوشش کریں اور ان میں برداشت کا مادہ پیدا کریں۔۔ایک دن ضرور آئے گاکہ ہمارے اس پیارے وطن میں بھی حقیقی جمہوریت آجاے گی اور اقبال کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوگا۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذر خیز ہے ساقی
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق