چترال لوئرمضامین

دھڑکنوں کی زبان ……. میرے وطن کی صبحیں اور شامیں

یہ تو فطرت کا قانون ہے کہ کبھی کوئی صبح امیر اور غریب کے لئے الگ الگ نہیں پھوٹتی اور نہ شام ہر ایک کے لئے الگ اُترتی ہے ۔۔البتہ زندگی کی رنگینیاں اور تلخیاں ایسی حقیقتیں ہیں کہ الگ الگ ہیں کسی کی صبح بہت روشن اور کسی کی شام بہت کالی ۔۔المیہ یہ ہے کہ نہ روشن صبح والوں کو کالی شام والوں کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی شامیں اداس ہوتی ہیں اور نہ کالی شام والوں کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کی شامیں سندر اور روشن ہوا کرتی ہیں ۔۔وطن عزیز کی مٹی سے ہمیشہ کرنیں پھوٹتی ہیں ۔وفا خلوص اور محبت کی کرنیں۔۔ مگر کرنوں کا پتھروں اور درندوں پہ کیا اثر ہو گا۔۔ پھوٹتی ہیں بکھرتی ہیں اور بے اثر ہوتی ہیں ۔۔فلاحی ریاست کا فرض بنتا ہے کہ یہ اُداس شامیں اور دھندلی صبحیں روشن کرے امکان کی حد تک روشن ۔۔مگر مصیبت یہ ہے کہ ان شاموں اور صبحوں کی روشنیاں جن کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ان کو اس بات کا احساس نہیں کہ ان روشن شاموں پر کسی اور کا بھی حق ہے ۔۔اس لئے مایوسیاں بڑھتی ہیں ۔۔لیکن دعوی اصلاح ،فلاح اور ترقی کا ہے ۔۔کوئی مضبوط پاکستان کا نعرہ لگا رہا ہے کوئی انصاف کا ۔۔کوئی خدا کی زمین پہ خدا کا نظام رائج کرنے کا ۔۔روٹی کپڑے کے بھی وعدے ہیں ۔۔مگر یہ سب ان سے پوچھا جائے جو اس کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔۔جن کے کپڑوں کے چھیتڑے نکلے ہوئے ہیں ۔۔جو راج مزدور ہیں اور دو وقت کی روٹی کے لئے جان کھپاتے ہیں ۔۔جو بھیک مانگے ہیں جو مقہور و محروم ہیں ۔جو بیمار ہیں اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ۔۔جو سکول نہیں جا سکتے اور سڑکوں کے کناروں بیٹھ کر امیروں کے جوتے چمکا رہے ہیں ۔۔جو بے گھر بے در ہیں نیلی چھت تلے ٹھٹھر رہے ہیں ۔۔صبحیں ان کے لئے پھوٹتی ہیں شامیں ان کے لئے بھی اُتر تی ہیں ۔۔مگر یہ روشیوں سے خالی ہیں ۔۔ مگر اس کے بر عکس ایک طرف کتوں کوغسل دیا جارہا ہے ۔۔گھوڑے مربہ کھا رہے ہیں۔۔ مور مورنیاں باغوں میں ٹہل رہی ہیں ۔۔کروڑوں خرچ کرکے سینیٹ کی ایک سیٹ خریدی جا رہی ہے اور اس کو کامیابی تصور کیا جاتا ہے ۔۔اور وہ نمائندے جن پر اعتماد کرکے آگے بھیجا جاتا ہے وہ بکتے ہیں ان کی تجوریاں بھری جاتی ہیں وہ خوش و خرم اپنی مدت بیکاری پورا کرکے واپس لوٹتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ سابق ممبر کا لاحقہ لگا کے وہ رنگینیاں یاد کرتے رہتے ہیں ۔۔ہمارا شکوہ رنگین شام والوں سے اتنا ہے ۔۔کہ یہ سب کاروائیاں اگر پس پردہ ہوں تو بحیثیت قوم ہم سر اٹھا سکیں مگر ابھی تو خدا جھوٹ نہ بولوائے سب کہتے ہیں کہ سینٹ کی سیٹیں بولی کے بکاؤ مال ہیں بولی لگتی ہے مال بکتا ہے ۔۔پھر ٹھیکوں کا گھپلاا ،ترقیاتی کاموں میں من مانیاں ،روزگار کے مسائل ۔سہولیات کا فقدان ۔۔اس لئے پاک وطن کی اُداس شامیں اکثر اُداس ہی رہتی ہیں ۔۔ان کی شامیں جو اس ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔رنگیں شام اورروشن صبح والوں کو احساس کیوں نہیں ہوتا کہ کسی اُداس شام کی اُداسی مٹانے سے اپنی شمیں مذید رنگیں ہوتی ہیں ۔۔ہماری حکومتیں آتی جاتی ہیں ۔۔اسٹپلشمنٹ ہے۔۔ فغال آفیسر شاہی اپنے دفتروں میں حاضر ہے۔۔ محافظ چاق و چوبند ہیں۔۔ اس کے باوجود شاموں کی اُداسیاں موجود ہیں ۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پاکستان بننے سے پہلے نئے وطن کے لئے جو ولولے ، آرزوویں اور اُمیدیں تھیں ان کو پورا ہونا چاہیے تھا ۔۔اس وقت بھی کالی شام اور اُداس صبح والے ہونگے جو زندگی سے تھک چکے ہونگے مگر ان کو خواب دیکھا ئے ہونگے کہ نئے مملکت میں کوئی شام کالی نہیں ہوگی اور کوئی صبح اُداس نہیں ہوگی ۔۔وہ اس ولولے میں اپنے سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہونگے ان ولولوں اور خوابوں کے میرے ابو چشم دید گواہ تھے اور آہیں بھرا کرتے تھے ۔۔ہندو ہمیں طعنہ دیا کرتے تھے کہ ۔۔یہ پاک ۔۔کستان ۔۔ بنا رہے ہیں ۔۔یہ پاک لوگ ہیں پاکستان پاک لوگوں کی سر زمین ہوگی ۔۔ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے تھا کہ ہم ہر برائی سے پاک ہو کر اس مٹی کی خدمت کرتے ۔۔اور اس پہ اُتر نے والی شاموں اور پھوٹنے والی صبحوں کو خوبصورت بنا تے ۔ہمیں دنیا کی قوموں میں اپنا مقام بنا نا ہے اس لئے یہ سوچنا چاہئے کہ ہم اپنی اپنی جگہوں میں کتنے اس مٹی سے مخلص ہیں ۔۔کتنا ہمیں دوسروں کی فکر ہے ۔۔میری اس پاک دھرتی پہ اُترنے والی ہر شام ایک رنگینی لے کے اُترتی ہے اور ہر صبح ایک عزم لے کے پھوٹتی ہے ۔۔جاپانی قوم کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صبح صبح پاگل ہوتی ہے ۔۔کیوں ؟ اس لئے کہ وہ کام پہ جارہی ہوتی ہے ۔۔وہ راستے میں کسی کا حال احوال پوچھ کے ہاتھ ملا ملا کر وقت ضائع نہیں کرتی ۔۔شام کو خوش خوش گھر آتی ہے کیونکہ وہ کام کر چکی ہوتی ہے ۔۔اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان شاموں اور صبحوں کی رنگینیوں میں سب کو شامل کریں اور اس پاک دھرتی کو رنگینیوں سے بھر دیں ۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى