
سب ساتھ چلیں ۔۔تو قافلہ بنے گا!..۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر
عہد حاضر میں جدید تہذیب اور جدید طرز زندگی نے آج عموماً اصلاح پسند لوگوں میں کچھ دوریاں پیدا کردی ہیں ان میں ایک تو خودراٸی اور انانیت،مصلحت پسندی اور دوسروں سے بے گانگی و بے حسی یہ عوارض انسانی معاشرت کیلے ضرر رسان ہیں انھی رویوں سے معاشرے کا امن و سکون درہم برہم نہیں ہوتا بلکہ کش مکش اور تصادم کی ایسی فضا ہموار ہوتی ہے جس میں ہر فرد اپنی ذات اور اپنی مفادات کا اسیر ہو جاتا ہے اور وہ اعلی اقدار و روایات جن سے کسی معاشرے کا حسن قاٸم ہوتا ہے بتدریج مٹ جاتی ہے ۔اگر یہ خامیاں نہ ہوں تو باہمی میل جول اور تعلقات میں محبت،روداری اور برداشت و تحمل کی اعلی صفات اور خوبیاں پیدا ہوتی ہیں ۔پرانی معاشرت میں وضع داری،انسانی تعلق کا پاس و لحاظ،ایثار و محبت اور رواداریوں کی خوبیوں کا توازن ہمیشہ بھاری تھا جس کی وجہ سے نفسا نفسی اور بیزاری کی ویسی فضا نہ تھی جس کا تماشہ آج کی نٸی معاشرت میں آۓ دن دیکھتے رہتے ہیں نٸی معاشرت اور نٸی جدید تہذیب،یہ سب جدید ٹکنالوجی کے فراہم کردہ وساٸل، تعیشات زندگی سے عبارت ہے۔
اتحاد میں بڑی طاقت واخوت ہے۔کسی ملک کی بقا کاانحصارقومی ملکی یکجہتی اور اتفاق
پر ہے کوٸی جماعت،ملک،قوم اقوام عالم کی نگاہ میں عزت وآبرو اور وقار و احترام کا مقام نہیں پاسکتی جب تک اس کے افراد میں یک جہتی اور ہم آہنگی نہ ہو ۔قومی اتحاد کے بیغیر ترقی اور خوشحالی کا تصور بھی ایک خام خیال ہے ۔جس طرح موج کی طاقت کا زور،جوش ،تلاطم دریا کے اندر ہے دریا کے باہر موج کوٸی معنی نہیں رکھتا اسی طرح فرد کی اپنی قوت نہیں ہوتی،فرد تنہا کوٸی حیثیت نہیں رکھتا لیکن جب وہ ایک ملت میں گم ہو جاتا ہے تو بڑی قوت بن جاتا ہے قومی اتحاد اور ملی زندگی کی اہمیت اسلامی معاشرے کیلے ضروری اور بنیادی جزو ہے۔
ملت اسلامیہ کی رہنماٸی کے لٸےقران حکیم کی شکل میں ایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے جو اتحاد اور ربط باہمی کا درس دیتا ہے اور ایک واضح مقصد حیات پیش کرتا ہے ایک منزل کی نشاندہی کرتا ہے اس منزل تک پہنچے کیلے افراد کو قدم سے قدم ملاکر دوش بہ دوش گامزن ہونا ضروری ہے اگر وہ متحدو متفق ہو کر اگے بڑھیں تو کوٸی بھی مخالف قوت ان کی راہ میں روکاوٹ نہیں بن سکتی ۔وہ ایک ایسا طوفان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے دریاوں کے دل بھی دہل جاٸیں گے اور جس کے متحد عزم و ارادہ کے آگے پربت راٸی ہو کر رہ جاٸے گی۔
اصل بات یہ ہے کہ انسان اندر سے بھی بدلتا ہے اور باہر سے بھی اگر معاشرتی ، معاشی اور دوسرے نظام ابتر اور مایوس کن ہو تو ایسے ماحول میں پالا پوسا معاشرہ اچھی طرح پرورش نہیں پا سکتا اور ایسا ظلم سہتا انسان کو اچھا بنا نہیں جاسکتا ایسے انسان کو مشورے سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور یہ مدد انفرادی اور سب اپنےاپنے منزل پہ اکیلے چلنے سےحاصل نہیں ہوتا بلکہ اجتماعی طاقت سے حاصل ہو سکتی ہے اور قافلہ بکھرنے سے منزل پہ نہیں پہنچ سکتا بلکہ ساتھ چلنےسے پہنچ سکتے ہیں۔۔۔
حالیہ امریکہ ایران کا معاہدہ اس کی تازہ مثال ہے انفرادی طاقت ہار گیا اجتماعی قوت جیت گیا انفرادی طاقت کی زور ٹوٹ گٸی اور اجتماعی طاقت معاہدے کی شکل میں طاقت کو لٹا دیا اوربارود کی بو سے دنیا کی فضا کو آمن کی خوشبو سے بکھر دیا۔۔
