چترال اپر

مظلوم کی فریاد

تحریر:حسین علی صفدر جنرل سکریٹری انجمن صدائے چترال پاکستان

گزشتہ روز ایک اور مظلوم بیٹی اپنی فریاد سنائے بغیر سینے میں دبائے اس دنیا سے چلی گئی اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرمائے ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے اور لواحقین کو صبر وجمیل عطاء فرمائے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے سے معلوم ہوا تو معلومات لی پتہ چلا کہ چترال کی بیٹی جن کی شادی مردان میں ہوئی تھی اپنے شوہر کے ساتھ کھاریاں میں رہائش پذیر تھی گزشتہ روز وہ اس دنیا سے چلی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق اس خاتون نے خودکشی کی ہے مگر اس کا بازو بھی ٹوٹا ہے چترال کے مفاد میں کام کرنے والے تنظیم کے ساتھی متعلقہ انتظامیہ کےساتھ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ آیا ہماری بیٹی نے خودکشی کی ہے یا اس کو قتل کیا گیا ہے۔ خودکشی کی ہے تو اس کی وجہ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے اگر قتل کیا گیا ہے تو اس کے بارے میں بھی معلومات ضروری ہے ان کے شوہر کو بھی شامل تفتیش کیا جائے تاکہ اصل واقعے کے بارے میں معلومات حاصل ہو۔

تمام چترالی قوم کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ چترال کے فلاح و بہبود کے لیے جتنی بھی تنظیمیں کام کر رہی ہیں بےلوث اپنی قوم کی ہر میدان میں خدمت کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے ہماری قوم کے کچھ لوگ ان تنظیموں کی حوصلہ افزائی کے بجائے کوستے رہتے ہیں ان پر لعن طعن کرتے رہتےہیں ۔ان کو اپنے لئے اور چترال کےخطرہ محسوس کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ تنظیمیں چترال سے باہر خفیہ طریقوں سے شادی کے سخت مخالف ہیں۔کیونکہ ان کے نتائج آج تک کچھ اچھے نہیں آئے ہیں ۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے ساتھ اخلاقی طور پر تعاون کیا جائے۔اور یہ جو سانحہ ہوا ہے انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے جو قانونی اور ٹیکنیکل کاروائی کی ضرورت ہے اس کو بروئے کار لاتے ہوئے اسں کیس کے نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ مذکورہ خاتون نے خودکشی کی ہے یا ان کو قتل کیا گیا ہے ۔

میں سوشل میڈیا کے توسط سے متعلقہ انتظامیہ اور چترال کے لئے کام کرنے والے بھائیوں سے گزارش کروں گا کہ اس کیس کو ضرور منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں۔تاکہ آئندہ کے لئے اس قسم کے واقعات کی سرکوبی ہو ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔