
دھڑکنوں کی زبان …”تہذیب و ثقافت“…محمد جاوید حیات
ہر علاقے کی پہچان ان کے باشندے ہوتے ہیں اور باشندوں کی پہچان ان کی تہذیب و ثقافت ہوتی ہے ۔۔ان دو لفظوں کی بڑی وضاحتیں ہوٸی ہیں عبقری لوگوں نے ان کی بڑی وضاحتیں کی ہیں البتہ ان کا تعلق انسانوں سے ہے انسان وہ مخلوق ہے جو اکھٹے رہنے کا عادی ہے وہ حیوان ناطق ہے اس کے رہنے کے انداز اور مخلوقات سے الگ ہیں خالق کاٸنات نے اس کو اشرف المخلوقات بنایا ۔اشرف ہونے کے ناطے اس کی پہچان بھی الگ ہے ۔اس کے ریہن سہن اور زندگی گزارنے کےانداز ہی تہذیب و ثقافت کہلاتی ہے ۔ثقافت طریقے اطوار اور رسوم و رواج کو کہتے ہیں جن پر مشتمل کسی کی زندگی ہوتی ہے ان طور طریقوں اور رسوم و رواج کو عملی شکل میں پیش کرنے کا نام تہذیب ہے اگر یہ غلط پیش کیۓ جاٸیں تو وہ بندہ”بد ثقافت “ نہیں ”بد تہذیب “ کہلاۓ گا ۔۔ہر علاقے کی اپنی مخصوص ثقافت ہے چترال اپنی مخصوص جعرافیاٸی تناظر میں اپنی الگ ثقافت رکھتاہے جس میں یہاں کے بسنے والوں کی پوری زندگی سموٸی ہوٸی ہے چونکہ ثقافت پوری زندگی کو احاطہ کرتی ہے اس لۓ اس کےمحدود مفہوم نہیں لیۓ جا سکتے ۔۔چترال میں امن اور شرافت اس ثقافت کی نمایان پہچان ہیں ۔باشندے زندہ دل اور بانکے ہیں اس لۓ زندگی کو لالچ ،حرص، طوطا چشمی، بعض ،کینہ اور دشمنیوں کی نذر نہیں ہونے دیتے اس لۓ پوری دنیا اس علاقے(چترال)کو شرافت کی اکیڈمی کہتی ہے ۔یہاں پر زن آزادی نہیں عورت پردہ دار اور باحیإ ہے۔ رشتوں کی قدر ہے۔ عورت چادر اور چار دیواری کو کبھی پاٸمال نہیں کرتی ۔ماں، بہن ،بیٹی اور بیوی مرد کی ناموس ہیں۔خاندانی شرافت اور وقار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن آج کل ثقافت کے نام پہ بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔جوان چترالی لباس چھوڑکر پینٹ شرٹ میں نظر آتے ہیں بلکہ اس پہ فخر محسوس کرتے ہیں چترال کے محسوس لباس جس میں شلوار قمیص کے علاوہ دیسی بنیان، چوغہ، ٹوپی ،مفلر ،داستانے اور جرابین وغیرہ شامل ہیں ان کو استعمال کرنے میں کتراتے ہیں ۔داڑھی بالوں کا سٹاٸل ایرے غیروں کا ہے بچیاں تو بالکل گڑیا ہیں ناخن سے لے کر دوسرے میک اپ تک لباس پوشاک سے لے کر نشست و برخواست تک ایک الگ مخلوق ہیں لے دے کے دوپٹے اور سکارف کی قید تھی وہ بھی آہستہ آہستہ سر اور چہرے سے سرک رہا ہے وہ عین اسلامی پردہ اور کلچر میلیامیٹ ہورہا ہے ۔اب آزاد چلنےپھرنے اور مخلوط نشست کو کلچر کا نام دیا جاتا یے اگر کوٸی اس کوناپسند کرے تو اس کو داقیانوسی سوچ والا قدامت پسند لکیر کا فقیر ترقی کی راہ میں رکاوٹ کوتاہ ذہہن اور کیا کیا نام دیا جاتا ہے ۔ آج کل بچیوں کے ناچ گانے کے بولتی تصویریں بھی دھڑادھڑ دیکھنے کو ملتی ہیں چترال کی بیٹی آج شمع محفل بن رہی ہے اور یہ سب کچھ چترالی ثقافت کے نام سے ہورہا ہے ۔اس میں کلام یہ ہے کہ یہ چترالی ثقافت نہیں ہے اگر کوٸی چترالی بھی اس کا مرتکب ہورہا ہے اس کو کوٸی اور ثقافت کا نام دیا جاۓ کسی مہذب چترالی بیٹی کو اس میں ملوث نہ کیا جاۓ آج مہذب چترالی اس بات سے ڈرنے لگے ہیں کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کو کسی یونیورسٹی میں داخل کیسے کریں کہ وہاں پر علاقے کے نام سے ایک عجیب کلچر پنپنے لگا ہے اس کلچر کو ترقی دینے والے وہ کون لوگ ہیں ۔یقینا ثقافت تغیر پذیر ہے وقت کے تقاضوں کے ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں لیکن دین ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے زرین اصولوں میں تو تبدیلیاں نہیں لاٸی جاسکتیں ۔دنیا ترقی کررہی ہے تہذیبیں پنپ رہی ہیں لیکن فحاشی اورعریانی کی اجازت دنیا کے کسی مذہب کسی تہذیب اور ثقافت میں نہیں ۔اسلام تو دین فطرت ہے اس میں ہر چیز کے لیۓ رہنماٸ موجودہے چترال کی تہذیب اور ثقافت الحمد اللہ عین اسلامی ثقافت ہے جو چترال اور چترالیوں کی پہچان ہےاگر کوٸی اس ثقافت سے روگردانی کرے تو وہ کم از کم چترالی نہیں رہتا ۔ہم نے اپنی ثقافت بھاٸ چارہ امن تہذیب اور شرافت سے دنیا میں اپنی پہچان بناٸی ہے اس کوتباہ کرنے نہ دیا جاۓ خواہ وہ آزادی کے نام پر ہو ترقی کے نام پر ہو یا تعلیم کے نام پر ۔۔۔۔چترال کی بیٹی دنیاٸی لحاظ سے جتنی بھی ترقی کرے وہ چترالی ہی رہے گی۔۔۔۔چترال اور چترالیت کی حفاظت کی جاۓ
