پاکستان میں فٹبال کی ترقی اور بسالت مرزا و کینڈی لینڈ کی کوششیں
چترال (رپورٹ آصف جمال)جب آپ کسی سے پاکستان میں فٹبال کی بات کریں تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ “پاکستان “میں فٹبال کا کوئی مستقبل نہیں، یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے کیونکہ فٹ بال سے منسلک یار لوگوں نے اس کھیل کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے کہ پر کوئی مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہے۔ مگر اب ایک امید چلی ہے کیونکہ جہاں اندھیرا ہوتا ہے وہیں پر پھر روشنی بھی پھوٹتی ہے۔ اب ایک امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ فٹبال پر ایک ایسی شخصیت اور انکے ادارے کی نظر پڑی ہے جو کہ ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لئے سرگرم ہیں۔ وہ شخصیت ہیں بسالت مرزا اور انکا ادارہ ہے کینڈی لینڈ۔
بسالت مرزا کچھ سال پہلے تک فٹبال کے حلقوں میں اتنے معروف نہیں تھے کیونکہ انکا فٹبال کیساتھ کوئی تعلق نہیں رہا ہے،یہ فٹبالر نہیں مگر کھیلوں کے دلدادہ اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے متمنی ہیں ، فٹ بال سے منسلک بچوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس میدان میں قدم رکھا۔
بسالت مرزا نے اپنے ادارے کینڈی لینڈ کو لیکر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ۔ کینڈی لینڈ اور پی ایف ایف کے درمیان مفاہمت کی یادداشت
پر کینڈی لینڈ کی طرف سے احمد اسمعیل اور پی ایف ایف کے چیئرمین ہارون ملک نے دستخط کر دیئے اور یوں کینڈی لینڈ نے قومی انڈر 16 ٹیم کا بیڑا اٹھا لیا۔
مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد بسالت مرزا کی سربراہی میں “کینڈی لینڈ” نے کھلاڑیوں کی سلیکشن کے لئے بلوچستان سے لیکر گلگت بلتستان تک یعنی ہر صوبے کے مختلف شہروں میں جا کر ماہر اور تجربہ کار کوچز کی نگرانی میں ٹرائیلز لئے، اچھے بچوں کا انتخاب کیا، ماہر فٹبالرز کے ذریعے انکی کوچنگ اور فزیکل تربیت کا بندوبست کیا جس سے ایک امید ہو چلی کہ اب پاکستان میں فٹبال کا مستقبل بن پائے گا کیونکہ کوئی تو میدان میں آیا ہے جو بغیر کسی لالچ، ذاتی مفاد اور پسند و نا پسند کے خلوص دل کے ساتھ نوجوانوں کے لئے کچھ کرنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں۔
بسالت مرزا کی یہ کوششیں رائیگان نہیں گئیں اور الحمداللہ انکی تیار کردہ انڈر 16 فٹبال ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھانا شروع کردیا ہے۔
ظاہری بات ہے کہ سب کچھ ایک سال یا دوسال میں تبدیل نہیں ہوگا ، وقت لے گا مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ جس انداز اور جس طریقے سے بسالت مرزا اور اسکے ادارے نے کام شروع کیا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان میں فٹ بال کا عروج ہوگا۔
یہاں پر یہ بات بھی کرنا ضروری ہے کہ بندہ کام کرنے والا ہو تو کام ہو بھی جاتا ہے، بسالت مرزا صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ فٹبالر نہ ہونے کے باوجود انہوں نے فٹبال کی خدمت کی ہے ۔ بات کرنے والے صرف بات کرتے ہیں کام کرنے والے چپ چاپ کام کرتے ہیں۔
پاکستان میں فٹبال کی ترقی سے نوجوانوں کو نئے مواقع میسر آئینگے اور انکے لئے کئی دروازے کھلیں گی۔
دعا ہے کہ کہیں ان کی کوششوں کو نظر نہ لگ جائے ۔
