یوم تکبیر کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا اپر چترال بونی میں تقریب کا اہتمام
اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)یوم تکبیر کے موقع پر تحصیل صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) مستوج، جاوید خان لال کی کال پر ان کے ہاں “لشٹو لال” ہاؤس بونی میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصے میں یوم تکبیر کے حوالے سے قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرنا تھا، اور دوسرے حصے میں شمولیتی پروگرام (جس میں مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والی
مستعفی شخصیات کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر انہیں خوش آمدید کہنا تھا)۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔ قاری تنزیل الرحمٰن نے تلاوتِ کلامِ پاک پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پروگرام کی صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بزرگ شخصیت ریٹائرڈ صوبیدار سلطان امیر نے کی۔ تقریب میں جنرل سیکرٹری پرنس سلطان الملک، تحصیل صدر جاوید خان لال، سینئر نائب صدر پرویز لال، سینئر نائب صدر حاجی عارف اللہ، وزیرِاعظم پاکستان کے ضلعی یوتھ کوآرڈینیٹر سلامت خان، صدر لیبر ونگ افسر علیم، یوتھ کے نمائندے اور دیگر پارٹی کارکنان موجود تھے۔
پرنس سلطان الملک (جنرل سیکرٹری) نے اس موقع کی مناسبت سے ابتدائی کلمات ادا کیے۔مقررین جن میں جنرل سیکرٹری پرنس سلطان الملک، سینئر نائب صدر پرویز لال، سینئر نائب صدر عارف اللہ، وزیرِاعظم پاکستان کے ضلعی یوتھ کوآرڈینیٹر سلامت خان، تحصیل صدر جاوید خان لال، صدرِ تقریب ریٹائرڈ صوبیدار سلطان امیر
اور دیگر نے موقع کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ:میاں محمد نواز شریف نے اُس وقت تمام عالمی قوتوں کی مداخلت اور دباؤ کے باوجود عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ کہہ کر انڈیا کے پانچ دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کرکے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا، جس کی وجہ سے اُس وقت پاکستان اسلامی ممالک کی پہلی ایٹمی طاقت اور پوری دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
آج یومِ تکبیر ایک نئے عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جو نواز شریف کے اس جرات مندانہ فیصلے کا نتیجہ ہے کہ اس سال بھارتی جارحیت کا دندان شکن جواب دینا ممکن ہوا۔ یومِ تکبیر کے حوالے سے پاک فوج کی قابلِ ستائش اور قابلِ فخر کارکردگی پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یومِ تکبیر کے حوالے سے قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کی جرات و ہمت کو سلام پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں جرات مندانہ فیصلہ کرکے بھارت کو دندان شکن جواب دے کر عالمی دنیا میں رسوا کرنے پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل حفیظ سید عاصم منیر کو واشگاف الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے حق میں زندہ باد کے نعرے بلند کیے گئے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو عالمِ اسلام کی سلامتی کا ضامن قرار دیا گیا۔بعد ازاں شمولیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن نے پاکستان پیپلز پارٹی سے 45 سالہ رفاقت کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے علاوہ دیگر کئی نوجوانوں نے بھی مختلف پارٹیوں سے وابستگی ختم کرکے مسلم لیگ (ن) کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔ شمولیت اختیار کرنے والے تمام افراد کو ہار پہنا کر پارٹی کا پرچم تھما کر خوش آمدید کہا گیا اور مسلم لیگ فیملی کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی گئی کہ ان کی شراکت پارٹی کی فعالیت کی نوید ہوگی اور وہ ائندہ متحرک کردار ادا کرکے پارٹی کو علاقے میں مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دیرینہ کارکن اور علاقے کی ممتاز شخصیت رحمت سلام لال نے اپنی شمولیت کے وجوہات بتاتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد کے طویل دورانیے، پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستگی اور علیحدگی کی وجوہات بیان کیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کو ضمیر کی آواز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملکی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ آئندہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک ورکر کے طور پر کردار ادا کروں گا۔بعد میں یومِ تکبیر کے حوالے سے بینرز اٹھا کر بازار بونی میں ریلی نکالی گئی اور پریس کلب اپر چترال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد بھی عمل میں لایا گیا۔
