عید کے فورا بعد آیون کالاش ویلیز روڈ پر کام شروع نہ کرنے پرشدید احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔روڈ تحریک اہلیاں آیون
این ایچ اے فوری طور پر سڑک کی تعمیر کا دوبارہ آغاز کرے
چترال ( محکم الدین ) روڈ تحریک ایون کی طرف سے حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ آیون کالاش ویلیز روڈ جو تعمیر کے دوران اچانک بند کردیا گیا تھا ۔ عید کے فورا بعد دوبارہ اس پر کام شروع نہ کیا گیا ۔ تو شدید احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا ۔ جس میں کشیدہ حالات کی تمام تر ذمہ داری نیشنل ھائی وے اتھارٹی اور حکومت پر ہو گی ۔ آیون تھانہ چوک میں نماز جمعہ کے بعد ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین وی سی ون آیون وجیہ الدین ،
چیرمین وی سی ٹو آیون محمد رحمن ، افضل لال ، سابق ناظم رحمت نعیم شاہ المعروف مولانا روم ،سابق ناظم مجیب الرحمن ، استاد مظفر الدین ،عبد الصمد ، چیرمین ظہیر الدین ،عنایت اللہ اسیر
، ناظم عبدالوہاب ، حافظ خوشولی خان اور صدر جلسہ مولانا عمادالدین نے کہا ۔ کہ بروز مین روڈ سے آیون چیک پوسٹ تک روڈ کی زمین کے معاوضے مالکان کو ادا کر کے کام شروع کرنے کے بعد اچانک جاری کام کو روکنا انتہائی افسوسناک اور عوام کیلئے انتہائی پریشان کن ہے ۔ انہوں نے کہا
کہ چاہئے تو یہ تھا ۔ کہ آیون کے اندر روڈ کو پہلے مکمل کیا جاتا ۔ لیکن این ایچ اے کا کرپٹ ادارہ آیون کے اندر روڈ کو مکمل کرنے کی بجائے نالہ آیون کے اندر کام کرنے کے نام پر فنڈ خرد برد کرنے کی راہ ہموار کی ۔ اور دو سال گزرنے کے باوجود آیون کے اندر کی سڑک نا صرف نامکمل ہے ۔ بلکہ عوام آیون کیلئے ایک عذاب بن چکی ہے ۔
مقررین نے کہا کہ علاقہ آیون اپنی زرخیزی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج بھی پسماندگی کا شکار ہے ۔ اور اس پسماندگی میں سب سے بڑا کردار آیون کے شکستہ کھنڈر سڑکوں کا ہے ۔ جسے ریاستی دور کے بعد آج تک بہتر بنانے کی کوشش نہ کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اب اس کی اشد ضرورت ہے ۔ کہ ایون اور کالاش ویلیز کے لوگ تمام پارٹیز سے بالا تر ہو کر سڑک اور دیگر مسائل کے حل کیلئے متحد ہو جائیں ۔ اور ایک عوامی پلیٹ فارم سے روڈ تحریک شروع کریں ۔ اور حکومت کو اس بات پر مجبور کریں ، کہ وہ روڈ کی تعمیر کیلئے سنجیدہ ہو ۔ اور فنڈ مہیا کرکے اس کی تعمیر مکمل کرے ۔
مقررین نے زور دے کر کہا کہ سڑک کی تعمیر سے کم کسی بھی بات پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ۔ کیونکہ حکومتی آفیسران بھی کئی بار جھوٹے وعدے اور منافقت کر چکے ہیں ۔ جن کے وعدوں کا کوئی اعتبار نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ روڈ صرف ہمارا نہیں ، بلکہ حکومت کے تمام اداروں اور سیاحوں کا ہے ۔ اور پاکستان کے اعلی آفیسران و بیرونی ڈپلومیٹس اس راستے کو استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے ۔ کہ اس روڈ کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کرکے سیاحوں اور بیرونی مہمانوں کو سہولت دینے پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ حالانکہ حکومت ٹورزم کو معشیت کی بہتری کیلئے اہم قرار دیتی نہیں تھکتی ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عید کے فورا بعد آیون کالاش ویلیز روڈ پر کام دوبارہ شروع نہ کرنے کی صورت میں تحریک منظم طریقے سے احتجاج شروع کرے گا ۔ جس کے دوران کسی بھی نا خوشگوار حالات کی ذمہ داری این ایچ اے اور حکومت پر ہوگی ۔
