تازہ ترینمضامین

داد بیداد۔۔کابل کے لئے سفیر۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

نئی پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان نے کابل میں پاکستانی ناظم ا لامور عبید الرحمن نظامانی کو سفیر کا درجہ دے دیا ہے اس طرح گویا 15اگست 2021کو طالبان کی دوسری حکومت آنے کے بعد امارت اسلامی افغانستان میں اعلانیہ طور پر اپنا سفارت خانہ کھولنے والا چوتھا ملک بن گیا ہے اس سے پہلے روس، چین اور متحدہ عرب امارات نے افغانستان میں سفارت خانے کھول دیے تھے عالمی سفارت کاری میں کسی نئے ملک یاکسی ملک کی انقلابی حکومت کو تسلیم کرناالگ معاملہ ہے اس ملک میں سفارت خانہ کھول کراپناسفیر بھیجنا بالکل الگ بات ہے البتہ سفارتی تبادلے سے اندازہ ہوتاہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آگئے  ہیں امارت اسلامی  افغانستان کی حکومت کو اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ کو ناراض کرکے اپنے لئے کوئی خطرہ مول لینے کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کے ایک سابق صدرکاکہنا تھاکہ میں کسی سے ڈرتاورتانہیں ہوں اس پرکسی ستم ظریف نے گرہ لگائی کہ میں امریکہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتاجب امریکہ کا خوف جاتارہےگاتواقوام متحدہ امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کریگی پھر سب کوتسلیم کرناہوگا، وہ دن آئیگا تو روس،چین اورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان بھی تسلیم کرے گاالبتہ تسلیم کرنے سے پہلے سفارتی تعلقات قائم کرنا انگریزی محاورے کی رو سے برف پگھلنے کی علامت ہے اور یہ بھی غنیمت ہے افغانستان کے ساتھ پاکستان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور قومی اشتراکات رکھتا ہے علامہ اقبال نے کہا ؎ ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک، حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک آج سے 100سال پہلے جمال الدین افغانی اورعلامہ اقبال نے مل کرپین اسلامزم یعنی عالمی سطح پرمسلما نوں کے اتحاد کا نعرہ بلند کیاتھا ان کا بیانیہ بڑا مضبوط تھا وہ کہتے تھے کہ غیر مسلموں کا عالمی اتحاد قائم ہے مسلمان اگرٹکڑوں میں بٹ گئے تو نقصان اٹھائینگے آج بھی صورت حال وہی ہے لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ایران، افغانستان اور پاکستان آپس میں متحد نہیں ہوسکتے یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے بعض حلقے اس کو اغیار کی سازش قرار دیتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے اگر ہماری قیادت نے بالغ نظری اور عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہوتا تو آپس کی غلط فہمیاں دور ہوچکی ہوتیں قصور ہماری اپنی قیادت کا ہے جس کو یہ نہیں معلوم کہ ہم اپنے دوست بدل سکتے ہیں اپنا جعرافیہ نہیں بدل سکتے افغانستان نے گذشتہ نصف صدی کے اندر بے شمار تبدیلیاں دیکھیں ہر تبدیلی خون میں ڈوبی ہوئی تھی اس خون کے چھینٹے سرحد کے اس پار پاکستان کو بھی خون رنگ کر تے رہے پاکستان نے آزمائش کے ان لمحات میں اپنے افغان بھائیوں کی بساط بھر مدد کی مگر اس کا ثمرغیروں کی جھولی میں ڈال دیاگیا 15اگست 2021ء کو دوسری بارامارت اسلامی افغانستان کا قیام عمل میں آیا تو پاکستان کے عوام نے اس کا خیر مقدم کیا اپنے دل کے دریچے بھی افغان بھائیوں کے لئے کھول دیئے اپنی سر حدیں بھی آزاد کر کے افغان عوام کی مدد کا انتظام کیا مگر اس کا مثبت جواب نہیں ملا، پاکستان سے گندم، آٹا، چینی،گھی اور دوسرا سامان کابل پہنچایا جاتا تو اس کے جواب میں وہاں سے میزائیل،راکٹ، خود کش جیکٹ اور مسلح جنگجو پشاور کی طرف آتے رہے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 19اپریل 2025ء کو افغا نستان کا دورہ کر کے افغان قیادت کے ساتھ مفید اور مثبت انداز میں تبادلہ خیال کیا افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اس خیر سگالی کا مثبت جواب دیا، جس کے نتیجے میں 21مئی 2025ءکو چینی دار الحکومت بیجنگ میں سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں اسحاق ڈار نے پاکستان کی نمائندگی کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اپنے ملکوں کی طرف سے اجلاس میں شریک ہوئے، شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چینی حکومت کے ترقیاتی پیکیج ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) کا دائرہ افغانستان تک پھیلایا جائیگا اجلاس کے بعدافغان حکومت نے مسلح جنگجووں کو خبردار کیا کہ پاکستان پر حملہ افغانستان پرحملہ تصور کیا جائے گا پاکستان کے خلاف مسلح جدو جہد حرام ہے مسلمان کے ساتھ جنگ کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں یہ ایک اہم پیش رفت تھی اس کے جواب میں پاکستان نے کابل میں سفارت خانہ کھولنے اوراسلام آباد میں افغان سفیر کا خیرمقدم کرنے سے متعلق بڑااعلان کیا اگر خیر سگالی اور بھائی چارے کایہ سلسلہ خوش اسلو بی کے ساتھ جاری رہاتو مستقبل میں اس کے مثبت اثرات خطے کی سیاست اورمعیشت پرمرتب ہونگے شاعر مشرق مفکر پا کستان علامہ اقبال کو افغان ملت سے بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں انہوں نے فارسی میں ایک قطعہ کہا آسیا یک پیکر آب و گل است، افغان ملت در آن پیکر دل است، از کشاد او کشاد آسیا، از فساد اد فساد آسیا، علامہ اقبال کہتا ہے کہ بر اعظم ایشیا پانی اور مٹی کی ایک مورت ہے افغان ملت کو اس مورت میں دل کی حیثیت حاصل ہے افغان ملت کی خوشحالی ایشیا کی خوشحالی ہے افغان ملت کی بدحالی ایشیا کی بد حالی ہے کابل کے لئے سفیر مقرر کرکے پاکستان نے علاقائی امن اور خطے کی خو شحالی کے لئے دور رس قدم اٹھایا ہے ہماری خارجہ پا لیسی میں اس کو بنیادی اہمیت ملنی چاہئیے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock