بذریعہ قرار دادِ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال کا وزیراعظم سمیت وفاقی وصوبائی قائدین کا شکریہ ۔
اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)ضلعی صدر سے مشاورت کے بعد پاکستان مسلم (ن) اپر چترال کا ایک اجلاس زیر صدارت سینئر نائب صدر پرویز لال
بونی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکریٹری پرنس سلطان الملک,بزرگ لیگی رہنما حاجی عارف اللہ کے علاوه کابینہ کے دیگر افراد نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ قرار داد کے ذریعے خصوصی نشست پر بحال ہونے والے ایم این اے غزالہ انجم کی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایم این اے کو مبارک باد دی گئی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا گیا
کہ انہوں نے ایم این اے غزالہ انجم کی مسلسل درخواست اور جدوجہد پر، وزیراعظم معائنہ کمیشن کو چترال میں وفاقی حکومت کی فراہم کردہ فنڈز سے تعمیر ہونے والے این ایچ اے کے منصوبوں (خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر) کے جائزے کے عمل میں تیزی لانے اور معیار برقرار رکھنے کے لیے دو بار چترال کا دورہ کرایا۔حال ہی میں چیئرمین معائنہ کمیشن، ریٹائرڈ بریگیڈیئر مظفر علی رانجھا کا قومی اور صوبائی محکموں کے سربراہان کے ساتھ چترال کا دورہ، چترال کی سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے تاریخی ثابت ہوگا۔ اس لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین معائنہ کمیشن کے سربراہ کا بھی شکریہ ادا کیا ہے
کہ انہوں نے انتہائی تحمل اور برداشت کے ساتھ علاقے کے مسائل کا جائزہ لیا، لوگوں کے تحفظات و شکایات سنیں، انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی بھرپور یقین دہانی کرائی اور ان شاء اللہ مسائل حل بھی ہوں گے۔اس اجلاس کے ذریعے، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا بھی شکرریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی ذاتی اور مسلسل کوششوں کو قبولیت بخشتے ہوئے بونی-بوزوند-تورکھو روڈ (وفاقی فنڈڈ) کے لیے فنڈز فراہم کیے، جو 16 سالوں سے تاخیر کا شکار تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن)اپر چترال صوبائی صدر اور وزیر شمالی علاقہ جات، انجینئر امیر مقام کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جو ہمیشہ چترال کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہوئے چترال کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ہر مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔
اجلاس میں اس بات کا ادراک اور احساس واضح تھا کہ جب بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت مرکز میں تشکیل پاتی ہے، چترال کے سلگتے مسائل حل ہوتے ہیں۔ یہ قائد میاں محمد نواز شریف کی چترال سے خصوصی محبت کا عملی ثبوت ہے۔
