“نہیں، ڈی پی او(ہنگو) زخمی نہیں ہوا ہے بلکہ ڈی پی او خالد ہوگیا ہے ” میں نے دل ہی دل میں کہا۔ ایک ٹی وی چینل پر جب خبر نشرہورہی تھی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے زخمی ڈی پی او سے فون پر خیریت دریافت کی تو میں اپنے تئیں یہ سوچ رہا تھاکہ میر اخالد زخمی نہیں ہوا، میر اخالد اب خالد ہوچکا اور میں ان کی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ گزشتہ ہفتے ایک سیاحتی مقام پر تھاکہ دوستوں نے ایک خبر سنائی جوکہ میرے لئے جانکاہ تھی۔ ہزاروں کے وی کی برقی رو میرے جسم سے گزر گئی اور تفصیلات پوچھنے کی سکت مجھ میں نہیں رہا، تفصیلات سننے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کیونکہ کہتے ہیں کہ ignorance is a bliss۔ان روح فرسا لمحات میں اس پختہ یقین نے مجھے مضبوط حوصلے سے ہمکنار کردیا کہ زندگی تو موت کی امانت ہے اور یہ لوگ توہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ایک عظیم کارنامے کی انجام دہی کے بعد امر ہوجاتے ہیں۔ فیض احمد فیض نے میری ہمت بندھائی کہ
گر بازی عشق کی بازی ہے جوچاہے لگاؤ ڈر کیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی بازی مات نہیں
خوارج کو سامنے سے للکار نا اورمقابلے میں آنا ہر مائی کے لعل کی بس کی بات نہیں جب موت سامنے رقصاں نظر آئے اور زندہ واپسی کا امکان پانچ فیصد سے بھی کم ہو۔ ایسے اعصاب شکن لمحات میں اپنے سینے کو گولیوں کے سامنے سپر کرنا جن کمانڈروں کے حصے میں آتی ہے، وہی تاریخ میں خالد ہوجاتے ہیں۔ بہت کم مائیں ایسے بیٹے جنم دیتی ہیں جوکہ خالد بن جاتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں اپنے لئے صفحات مختص کراتے ہیں اور لوگ ان کی مثالیں دیا کرتے ہیں۔
ایک نحیف ونزار جسم کا مالک جسے کوئی انجان سامنے دیکھے تو مشکل سے یقین کرے کہ اس نے تاریخ رقم کی ہے لیکن چشم فلک نے یہ بات ریکارڈ پر لے آئی کہ بظاہر جسمانی طور پر کمزور اس مردمجاہد نے اپنے قبیلے کے مشہور پہلوان محمد عیسیٰ کا کام کردیکھایا جس نے انگریز استعمار کی نیندیں حرام کرکے چترال میں بہادری کی تاریخ میں اپنا نام خالد کیا تھا۔ خالدنے یہ بات ثابت کردی کہ لڑنے کے لئے مضبوط قد سے ذیادہ بہت کچھ اور درکار ہیں جن میں جوش، جذبہ، مشن کے ساتھ اخلاص ووفاداری، پیشے کی تقدس پر ایمان اور اس کے ساتھ لگن شامل ہیں۔ خالد نے بلاشبہ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ میں اپنا نام اس فہرست میں کندہ کرالیا جس میں ملک سعد شہید، صفوات غیور اور دوسروں کے نام تاابد چمکتے رہیں گے۔ شہید ملک سعد کا جمال خالد پر گہرا اثر کیا جب وہ پی ٹی سی ہنگو سے تربیت مکمل کرنے کے بعد پروبیشنر اے ایس آئی کا دور ان کے زیر سرپرستی شروع کیا تھا جب وہ ڈی پی او دیر تھے (دیر اب دو اضلاع میں تقسیم نہیں ہوا تھا)۔
بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آپ کی بہادری اور بے لوثی واقعی متاثر کن ہے۔ دشمن کے خلاف سامنے سے حملے کی قیادت کرنے میں بے پناہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ آپ میں پائی گئی اور زخمی ہونے کے بعد زخموں کو برداشت کرنا آپ کی بہادری میں اضافہ کرتا ہے۔.ڈیوٹی کی لائن میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا اور زندگی کی رسک لینا ایک قابل تعریف اور مشکل کام ہے لیکن کسی ماں کا بیٹا یہ کربیٹھے تو وہ خالد بن جاتا ہے۔
خالد! مجھے آپ کو اپنا دوست کہنے پر فخر ہے اور مجھے آپ کی قربانی پر فخر ہے۔ آپ کے اعمال آپ کے کردار اور فرض سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
میرا رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
