کوئی بھائی اس زبردستی کی چھٹی کے بارے میں کچھ سمجھا سکتا ہے؟ مہینے میں ایک دن بازار کی مکمل بندش کی کیا منطق ہے؟ کچھ دکانیں جیسے کہ ہوٹل، میڈیکل سٹورز وغیرہ تو کھلی رہتی ہیں، لیکن کچھ دوسری دکانوں کو زبردستی بند کرانا سمجھ سے باہر ہے – اور وہ بھی مہینے میں صرف ایک بار!
اگر واقعی اس چھٹی کا کوئی فائدہ ہے تو پھر اسے ہر ہفتے ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی فائدہ نہیں، تو مہینے میں ایک بار بھی ایسی زبردستی کی بندش کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ ہاں، اگر کسی دن بازار کی مکمل صفائی ہو، یا راستوں کی اجتماعی مرمت ہو، تو وہ بات سمجھ میں آتی ہے، مگر عام تعطیل دینا اور وہ بھی زبردستی، یہ سمجھ سے باہر ہے۔
اتوار کے دن اکثر سرکاری ملازمین اور مصروف افراد بازار کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس باقی دنوں میں فرصت نہیں ہوتی۔ بعض علاقوں میں اتوار کو “بارے شیر” یعنی عارضی بازار بھی لگتے ہیں، جن سے عام لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں بازار بند کروا دینا عوام اور دکاندار – دونوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔
میرے خیال میں اس چھٹی کو زبردستی لاگو کرنے کے بجائے دکانداروں کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر کسی کو آرام چاہیے تو وہ خود بند رکھ لے، لیکن سب پر بندش مسلط کرنا مناسب نہیں۔ جو بھائی اس چھٹی کے فلسفے کو بہتر سمجھتے ہیں، برائے مہربانی کمنٹس میں ہمیں بھی سمجھا دیں۔
