تازہ ترینمضامین

بچوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنے میں والدین اور اساتذہ کا کردار..سید اکرم علی شاہ عیان 

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے جسمانی تندرستی، متوازن اور صحت افزا خوراک، پُرسکون ماحول کے ساتھ ساتھ ایک مثبت سوچ بھی انتہائی ضروری ہے۔ یہ چار ایسے عناصر ہیں جن کا آپس میں تعلق نہ صرف اہم ہے بلکہ تعلیمی عمل میں یہ لازم و ملزوم بھی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی بچے کے تعلیمی عمل پر نہ صرف منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ اس کی شخصیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ کمی بچے کی تمام صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے، اور بچہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

آئیے، مندرجہ بالا نکات کی مختصر وضاحت کرتے چلیں:

ایک بچہ جس کے پاس تعلیم کے جدید ذرائع اور تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں، لیکن اگر وہ جسمانی طور پر تندرست نہیں ہے، بار بار بیمار پڑتا ہے، اور دوائیوں کا استعمال کرتا ہے، تو اس کے ذہن میں دن رات اسپتال، ڈاکٹر اور بیماریوں کے خیالات گردش کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح اس کے تعلیمی سفر میں تعطل پیدا ہوتا ہے اور وہ سہولیات بے معنی ہو جاتی ہیں۔

دوسرا بچہ وہ ہے جسے متوازن غذا نہیں ملتی۔ اگر اس کی خوراک صرف بازار سے خریدی گئی چپس، چنے، مٹھائیاں اور بسکٹ پر مشتمل ہے تو اس کا جسم صحت مند نہیں رہ سکتا، اور ایک غیر صحت مند جسم کے ساتھ تعلیمی عمل میں ترقی ممکن نہیں۔

تیسرا، اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگر خوراک بھی مناسب ہو، ماحول بھی اچھا ہو، اور جسمانی صحت بھی برقرار ہو، لیکن بچے کے اندر مثبت سوچ موجود نہ ہو، تو تمام دیگر عوامل بے اثر ہو جاتے ہیں۔

ایک بچہ، خصوصاً جس کی عمر چھ سے گیارہ سال کے درمیان ہو، اس کی ذہنی سطح بہت نازک اور حساس ہوتی ہے۔ وہ صرف زبانی نصیحتوں سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے سامنے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اخلاقیات کی ضخیم کتابیں دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کردار، گفتار، اور عمل سے اخلاقیات سکھانی پڑتی ہیں۔ بچہ اپنے والدین اور اساتذہ کے رویوں سے سیکھتا ہے، نہ کہ ان کی نصیحتوں سے۔

بچے کو سلام کے فوائد بتانے سے بہتر یہ ہے کہ اس کے سامنے کسی سے خود سلام کریں، مصافحہ کریں، حال احوال دریافت کریں اور محبت و خلوص سے بات کریں۔ بچہ یہ سب دیکھتا ہے اور سیکھتا ہے کہ ایک چھوٹے سے لفظ “سلام” سے کتنی خوبصورت باتیں جنم لیتی ہیں: خاندانی حالات کا معلوم ہونا، صحت کی خیریت دریافت کرنا، اور ہمدردی کے جذبات کا اظہار۔

بچوں کے اندر مثبت یا منفی سوچ پیدا کرنے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ دانستہ یا نادانستہ ایسے رویے اپناتے ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو منفی انداز میں متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر: بچوں کے سامنے دوسروں کے بچوں کی برائیاں کرنا، اساتذہ کی بے عزتی کرنا، بہن بھائیوں کی خامیاں نمایاں کرنا، یا امتحان کے دوران بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا جیسے کہ “تمہیں ہر صورت میں سو فیصد نمبر لینے ہیں”۔

بچے جب تک خود یہ نہ دیکھیں کہ دوسروں سے مقابلہ کیوں اور کیسے ہوتا ہے، وہ ایسا سوچتے بھی نہیں۔ والدین اور اساتذہ کی باتوں اور رویوں سے ہی بچے میں یہ سوچ پروان چڑھتی ہے۔

لہٰذا، ضروری ہے کہ ہم بچوں کو مثبت رویے اپنانے کی تلقین کریں۔ انہیں یہ باور کرائیں کہ ان کا مقابلہ دوسروں سے نہیں بلکہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے ہے۔ ایسا کرنے سے بچوں کی سوچ، رویہ اور عمل سب مثبت رخ اختیار کریں گے۔

تمام والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں مثبت سوچ پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ بچہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کر سکے، نہ کہ ان پر غیر ضروری دباؤ اور اخلاقی یا غیر اخلاقی رویے ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں ۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock