تازہ ترینمضامین

پولو گراؤنڈ کی تعمیر پر تنقید یا ترقی کی راہ؟..تحریر شہزاد احمد شہزاد

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ارب روپے کے مجوزہ پولوگرائونڈ کی تعمیر کے منصوبوں کو لیکر مختلف آراء اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ معاملہ اس وقت خبروں کی زینت بنا جب پولو ایسوسی ایشن چترال کے صدر شہزادہ سکندر الملک نے ایک ویڈیو پیغام میں خوشخبری سنائی کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے چترال کے مختلف پولو گراؤنڈز کی مرمت اور توسیع کے لیے ایک ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔

جہاں ایک طرف یہ خبر پولو سے وابستہ حلقوں اور نوجوانوں میں خوشی کا باعث بنی، وہیں دوسری طرف کچھ حلقوں کی جانب سے اس اعلان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ چترال میں جب تک سڑکیں، بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی قلت برقرار ہے، ایسے میں کھیلوں پر فنڈز خرچ کرنا ترجیحات کی غلط سمت نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم ہم جیسے لوگ اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہمارے مطابق ہر محکمہ کا اپنا بجٹ، دائرہ کار اور اہداف ہوتے ہیں۔ کھیلوں کے فنڈز مخصوص ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جنہیں صحت یا مواصلات کے منصوبوں میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح پولو گراؤنڈز کی تعمیر کھیل و ثقافت کے شعبے کا حصہ ہے، جو نہ صرف چترال کی ثقافتی شناخت سے جڑا ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

چترال کے حوالے سے یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پولو نہ صرف یہاں کی ثقافت کا اہم جز ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر چترال کی پہچان بھی ہے۔ اس کھیل کے فروغ کے بغیر چترال میں سیاحت کے امکانات کو مکمل طور پر اجاگر کرنا مشکل ہے۔ پولو گراؤنڈز کی خستہ حالت، تربیت کی کمی، اور سہولیات کی عدم دستیابی نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کے لیے رکاوٹ ہیں بلکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کے لیے بھی مایوسی کا باعث بنتے ہیں۔

شہزادہ سکندر الملک جو خود ایک پولو پلیئر اور ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، ان کی کوششوں کو سراہنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنانا ناانصافی کے مترادف ہے۔ معاشرے میں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو اپنی صلاحیت، اثر و رسوخ اور کوششوں سے اپنے علاقے کے لیے کچھ کر رہے ہوں۔

بنیادی سہولیات کی فراہمی یقیناً حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر شعبوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ پولو چترال کا ورثہ ہے، اس کی ترقی دراصل چترال کی مجموعی ترقی کی علامت بن سکتی ہے۔
چترال جیسے پسماندہ علاقے میں اگر کھیلوں کے شعبے میں کوئی قدم اٹھایا جا رہا ہے، تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ تنقید ضرور کی جائے، مگر تنقید برائے اصلاح—not تنقید برائے تنقید۔ چترال کے لیے ہر شعبے میں کام ہونا ضروری ہے، اور پولو اس فہرست کا ایک اہم جز ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock