*روایت، تہذیب اور محبت کی علامت۔۔ نواب آف انب صلاح الدین سعید سے ایک یادگار ملاقات/تحریر:کمال عبدالجمیل*
عظمت صرف اقتدار یا دولت کا نام نہیں، بلکہ وہ روایات، اقدار، اور حسنِ سلوک میں جھلکتی ہے جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔ اسی عظمت کا ایک جیتا جاگتا مظاہرہ ہمیں اُس وقت دیکھنے کو ملا جب حال ہی میں آئیڈیل فٹبال کلب دروش کی ٹیم ایک ٹورنمنٹ میں حصہ لینے اوگی، مانسہرہ گئی۔
نواب آف انب، صلاح الدین سعید صاحب، ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد اور باوقار مقام رکھتے ہیں۔ وہ پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر اور نگران صوبائی وزیر رہنے کے علاوہ، وہ پارلیمانی سیکرٹری اور مختلف ادوار میں کئی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، جن میں سپورٹس اینڈ یوتھ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی بھی شامل ہے۔
نواب صلاح الدین سعید صاحب کو پاکستان کے سب سے کم عمر پارلیمنٹیرین ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ اس وقت پشاور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے جب انہوں نے قومی انتخابات میں حصہ لیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
نواب صاحب کے فرزند، فرید الدین، رکن صوبائی اسمبلی اور چیئرمین ڈیڈک رہ چکے ہیں، جبکہ ان کے ایک اور فرزند، حسام الدین، اس وقت اپنے حلقے کے تحصیل چیئرمین ہیں۔
میچ کے دن ہمیں اطلاع ملی کہ نواب آف انب صلاح الدین سعید صاحب کے دربار سے ٹیم کو ضیافت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہمارے دروش کے شہزادہ ہشام الملک صاحب نے چترال سے نواب صاحب کے صاحبزادے نوابزادہ حسام الدین صاحب کو ٹیم کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا، جس پر فوراً دعوت نامہ موصول ہوا۔ یہ ایک سادہ سا عمل نظر آ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ روایت، عزت اور بھائی چارے کا ایک بھرپور اظہار تھا۔
اگلے دن جب 25 رکنی ٹیم شیر گڑھ (اوگی )کے قلعے پر پہنچی تو مرکزی دروازے پر ایک باوقار نوجوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے، ہمیں خوش آمدید کہنے آیا۔ اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ روانی سے کھوار زبان میں ہم سے مخاطب ہوا۔
یہ تھے نوابزادہ حسام الدین صاحب، جو نہ صرف اس تاریخی خاندان کے چشم و چراغ ہیں بلکہ تحصیل چیئرمین بھی ہیں۔ ان کے الفاظ — “مہ برارگنیان پسا پوشی مہ غیچ روشت اور ہردی خوشان ہونی” — نے سب کو ایک اپنائیت اور فخر کا احساس دلایا۔
قلعے کے اندر ہمیں جس شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ تھے نوابزادہ صلاح الدین سعید صاحب — ایک پروقار، شائستہ اور بے حد مشفق شخصیت۔ جب انہوں نے ہمیں کھوار زبان میں مخاطب کیا اور سب سے فرداً فرداً ملے اور کھوار زبان میں کہا کہ ” مہ اژیلیان ہیا پسا تان دور، بو خوشان ہوتم” تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم کسی اپنے بزرگ کے آنگن میں بیٹھے ہوں۔ ان کی گفتگو، محبت، اور وقت کی فراخی نے دل موہ لیا۔
نواب صاحب نے ہمیں بتایا کہ ان کی والدہ چترال کے مہتر ہزہائنس ناصر الملک کی دختر تھیں، اور ان کی اہلیہ کا تعلق دروش کے شہزادہ صمصام الملک کی دختر نیک اختر ہیں ۔ چترالی زبان اور تہذیب سے ان کی وابستگی نہ صرف زبانی تھی بلکہ دل سے محسوس ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر میں آج بھی چترالی زبان بولی جاتی ہے۔
ہمیں قلعے کے اندر ریاست انب کی تاریخی تصاویر، خطوط، اور نایاب دستاویزات دکھائی گئیں، جن میں وہ تاریخی تصویر بھی شامل تھی جس میں شریف مکّہ اور گورنر مدینہ ریاست انب کے حکمران کے ساتھ تشریف فرما ہیں، انہوں نے ریاست انب کا دورہ کیا اور ریاست کی طرف سے حرمین شریفین کی خدمت کے لیے مالی معاونت دی تھی۔
مہتر چترال سر ناصر الملک کی تصویر اور ریاستی افواج کی نایاب یادگاریں آج بھی ان کے دیوان کی زینت ہیں، یہ سب کچھ نہ صرف تاریخ کا خزانہ تھا، بلکہ تہذیبی عظمت کا آئینہ دار بھی۔
ریاست انب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواب صاحب اور انکے صاحبزادے نے بتایا کہ ریاست انب کا جو مرکزی قلعہ یا دارلحکومت تھا وہ انب اور دربند میں تھا جو تربیلا ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے زیر آب آگیا ، موجودہ شیر گڑھ کا قلعہ اس زمانے میں ریاست کے سربراہ کا سرمائی جائے قیام تھا، قلعہ انب کے زیر آب آنے کے بعد شیر گڑھ قلعے کو مرکز بنایا گیا۔
یہ علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب اورمسحور کن ہے۔ اس علاقے کے ساتھ تاریخ کی یادیں وابستہ ہیں، نواب صاحب کے اجداد نے اس ریاست کو بڑے منظم انداز میں چلایا، کئی ایک معرکوں میں سکھوں کو شکست دی جن میں سکھوں کے نامور جنگی کمانڈر اور قلعہ دار بھی شامل ہیں، ایسے قلعہ دار جنہیں شکست دینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا مگر ریاست انب کی افواج نے انہیں ناکوں چنے چبوا دیئے۔
اس زمانے میں ریاست انب کا اثر و رسوخ و علمداری نہ صرف مانسہرہ کے علاقے پر تھا بلکہ دریائے سندھ کے اطراف کے دیگر علاقوں پر بھی تھا اور یہ ایک خوشحال ریاست تھی۔
ریاست نے انگریز سرکار کے ساتھ اس وقت ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ کرکے یہاں پر ہلکے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فیکٹری قائم کی تھی جوکہ کئی اور ریاستوں کو بھی سپلائی ہوتی تھی جبکہ بعض اوقات برٹش آرمی بھی انکے اپنی ضرورت کے مطابق گولہ بارود خردیتے تھے۔
رقبے کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹی ریاست تھی مگر اپنی مخصوص جغرافیائی اہمیت اور آمدن کی وجہ سے ریاست کو منفرد مقام حاصل تھا۔ ریاست کی اپنی فوج میں 800 سے 1000 تک باوردی اور منظم اہلکار موجود تھے جبکہ مختلف مہمات کے موقع پر علاقے کے عوام کو جمع کرکے بڑی فوج تشکیل دی جاتی تھی جو کہ اس زمانے میں عام رواج تھا۔
دیوان میں ایک انگریزی خط بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ غالباً اس وقت کے انگریز ایڈمنسٹریٹر، جنرل جیمز ایبٹ، کی جانب سے ریاستِ انب کے حکمران کو کسی مسئلے کے سلسلے میں لکھا گیا تھا۔ خط کا لہجہ نہایت سخت اور دھمکی آمیز تھا، جس میں ایڈمنسٹریٹر نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو انگریز سرکار حرکت میں آ جائے گی۔ یاد رہے کہ ایبٹ آباد کا شہر جنرل جیمز ایبٹ سے منسوب ہے۔
ریاست کے حکمران نے اس خط کا نہایت جرات مندانہ جواب دیا۔ اپنے جوابی مکتوب میں انہوں نے لکھا اگر بلاوجہ انگریز سرکار حرکت میں آ کر اپنی افواج یہاں بھیجنا چاہتی ہے تو شوق سے بھیج دے، مگر یہ یاد رکھیے گا کہ یہاں کے پہاڑ ظالم اور غضبناک ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اس دوٹوک جواب کے بعد مسٹر ایبٹ کا دماغ فوراً ٹھکانے آ گیا، اور کچھ ہی عرصے بعد انہیں یہاں سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔
نواب صاحب کے ساتھ خوبصورت وقت بتانے کے بعد ہماری ٹیم میچ کھیلنے کے لئے جب روانہ ہونے لگی تو نواب صاحب نے کہا کہ وہ خود بھی میچ دیکھنے آئینگے۔
جب میچ کا وقت آیا، تو نوابزادہ صلاح الدین سعید صاحب خود گراؤنڈ میں موجود تھے، نہ صرف ٹیم کا حوصلہ بڑھایا بلکہ نقد انعام بھی دیا — یہ انداز روایتی مہمان نوازی اور اعلیٰ ظرفی کا حسین امتزاج تھا۔
ان سطور میں ہمارے دروش کے شہزادہ ہشام الملک صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ آئیڈیل کلب کو سپورٹ کرتے ہیں اور انہی کی وجہ سے آج ہمیں ایک عظیم شخصیت نواب صلاح الدین سعید صاحب اور انکے فرزند نوابزادہ حسام الدین سے ملاقات اور تاریخی مقام کے دورے کا موقع ملا۔
اللہ تعالیٰ نواب آف انب کے خاندان کو سلامت رکھے، اور ان کی محبتیں، روایات اور اخلاص نسلوں تک برقرار رکھے۔
