چترال لوئر میں پی ٹی آئی کا بڑا جلسہ، عمران خان سے وفاداری کا مظاہرہ
چترال (چترال ایکسپریس)5 اگست 2025 کو چترال میں پاکستان تحریکِ انصاف کا ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوا، جس کی قیادت ایم پی اے مہتر فاتح الملک علی ناصر نے کی، جب کہ اس موقع پر خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے بھی خصوصی شرکت کی اور حاضرین سے خطاب
کیا۔
جلسے میں بڑی تعداد میں عوام، پی ٹی آئی کارکنان، خواتین، نوجوان اور عمائدین علاقہ شریک ہوئے۔ شرکاء نے عمران خان کی تصاویر اور پارٹی کے جھنڈے تھامے، ان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور قانون کی بالادستی و جمہوریت کی بحالی کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے اپنے خطاب میں کہا:
“چترال کے عوام نے آج ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے نظریے، جدوجہد اور پاکستان کے لیے اُن کی قربانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ جلسہ جمہوریت، آئین اور انصاف کے ساتھ عوامی وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور آئینی خلاف ورزیوں کے باوجود عمران خان کے چاہنے والوں کا حوصلہ بلند ہے، اور چترال کی سرزمین سیاسی شعور اور وفاداری کی ایک زندہ مثال بن چکی ہے۔
ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے عوام ہر محاذ پر حق اور سچ کا ساتھ دیں گے، اور وہ کسی بھی دباؤ یا دھونس سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
جلسے کے لیے اپر چترال سے
پاکستان تحریک انصاف کے صدر شہزادہ سکندر الملک، جنرل سیکریٹری علاو الدین عرفی، ایم پی اے و ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخواہ محترمہ ثریا بی بی، تحصیل چیئرمین موڑکہو/تورکہو جمشید میر، اور تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم کی قیادت میں سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل ورکرز کا قافلہ لوئر چترال پہنچا، جہاں ہزاروں کارکنان اور عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
جلسے میں خواتین ونگ کی بھی بھرپور شرکت دیکھنے کو ملی۔ سابق ایم پی اے فوزیہ بی بی، خواجہ آفتاب، اور راضیت باللہ نے خواتین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ چترال کی خواتین بھی پوری قوت سے کھڑی ہیں۔
جلسے کے اختتام پر سابق ضلعی صدر رحمت غازی نے دعا کرائی اور شرکاء نے اپنے جذبے اور یقین کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی اور ملک میں آئینی و جمہوری نظام کی بحالی کی دعا کی۔
جلسے کے دوران عوام نے چترال سے منتخب ایم این اے کی نااہلی کے خلاف بھی سخت ردعمل دیا اور اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ جعلی مقدمے کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
