
چترال میں سیٹلمنٹ آپریشن کی بندش سے متعلق مقدمہ 17 نومبر تک ملتوی
عوام اپر چترال کا ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ بشارت احمد سے عدالت کے حتمی فیصلے تک سیٹلمنٹ آپریشن کو جاری رکھنے کے لیے فوری احکامات جاری کرنے کامطالبہ ۔
پشاور (چترال ایکسپریس)چترال میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری بندوبستِ ارضیات (سیٹلمنٹ آپریشن) میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلط اندراجات کے خلاف عوامی مقدمہ کو ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت یہ مقدمہ ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر 17 نومبر تک کے لیے
موخر ہوا۔
عوامِ چترال کا مؤقف ہے کہ بندوبست کے عمل کے دوران اہلکاروں نے 1975 کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر ضلع کی 97 فیصد زمین کو سرکاری قرار دے کر ریکارڈ مرتب کیا ہے، ساتھ ساتھ ہزاروں افراد کی ذاتی اراضیات یا تو دوسروں کے نام درج ہوئیں یا ان کے شجرہ جات اور نقشہ جات میں سنگین غلطیاں سامنے آئیں۔ عوامی احتجاج کے بعد شروع کیے گئے درستگی کے عمل میں اب تک تقریباً 26 ہزار سے زائد اعتراضات جمع ہوئے، مگر ان کے حل کی بجائے حکام نے ریکارڈ کو مکمل قرار دے کر عوام کو عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کا دعویٰ ہے کہ چترال میں ریکارڈ سازی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور بڑی حد تک عوامی شکایات کا ازالہ بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ سیٹلمنٹ کا عمل جاری رکھنے کی صورت میں قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ عدالتِ عالیہ پشاور کے ریکارڈ سازی سے متعلق واضح احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے عملاً سیٹلمنٹ آپریشن کو غیر اعلانیہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے حال ہی میں سیٹلمنٹ آفیسر کی جانب سے تعینات تحصیلدار بندوبست اور نائب تحصیلدار کو کام سے روک دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ دفتر میں تمام کارروائیاں بند پڑی ہیں اور اس تعطل کی وجہ سے عوام کو پرچہ کھتونی کی فراہمی رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی میٹر لگانے، بینک قرضوں کے حصول اور زمین کی رجسٹریشن جیسے ضروری امور بھی متاثر ہورہے ہیں۔ دفتری اہلکار درخواست گزاروں اور شکایت کنندگان کو براہِ راست عدالت جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اپر چترال کے عوام نے ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ بشارت احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے عدالت کے حتمی فیصلے تک سیٹلمنٹ آپریشن کو جاری رکھنے کے لیے فوری احکامات جاری کریں تاکہ لوگوں کو اپنے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہو۔
