
دھڑکنوں کی زبان۔۔اگر اقتدار امانت سمجھاجاتا “۔۔محمد جاوید حیات
اور اگر مقتدر کو آنے والی زندگی اور اس زندگی میں اللہ کے حضور حاضری اور حساب کتاب کا خوف ہوتا تو اس طرح ہم اقتدار کی تباہ کاریوں کا شکار نہ ہوتے ۔۔اقتدار والا چیرپھاڑنےوالا درندہ نہ ہوتا وہ غاصب ،جابر ،طوطا چشم بھڑیا نہ ہوتا ۔وہ قومی دولت کو اگر امانت سمجھتا عوام کی خدمت کو مقصد سمجھتا عوام کی فلاح کومنزل سمجھتا ،سیاست کو خدمت کا نام دیتا تو براۓ نام جہوریت کا ہم شکار نہ ہوتے لیکن بد قسمتی سے ہم جمہوریت کے نام پہ بدترین امریت کا شکار ہوتے ہیں یہ طوائف الملوکی کی بد ترین مشق ہے کوئی کسی بات،کسی کا حکم نہیں مانتا نہ اپنی ذمہ داریوں کی پرواہ ہے ۔ایک معمولی سرکاری نوکر، ایک غیر سرکاری ادارے کا اہلکار اور ایک عام آدمی کو کسی قومی نمائندے کی کوئی پرواہ نہیں اگر ڈی سی کو کہا جاۓ کہ تو کسی ایم پی اے ایم این اے کا پروٹوکول آفسر ہے تو وہ مسکراۓ گا کہ ایم این اے کون ہوتا ہے ۔کوئی ایم پی اے قومی خزانہ اپنے کارکنوں اور پارٹی مفاد میں استعمال کرے گا پوچھنے پر کہے گا یہ میرا صوابدید ہے ملازمتیں یہاں تک کہ کلاس فور ملازمتیں اپنوں میں تقسیم کی جائیں گی وہ بھی رشوت لے کر پھر نمائندے اسمبلی فلور پر لڑیں گے کہ اختیار کس کاہے اگر ان سے پوچھاجاۓ کہ اگر کلاس فور ملازمتیں بندر بانٹ کرنے کا اختیار بھی تمہارے پاس ہے تو متعلقہ محکموں کاقبرستان کدھر ہے ؟ ہم اقتدار کی تباہ کاریوں کاازل سےشکار ہیں کبھی جمہوریت کے نام سے کبھی ڈکٹیٹرشپ کے نام سے ۔۔ڈکٹیٹرشپ قدرے بہتر ہے اس لیے کہ صرف ڈکٹیٹر کا حکم چلتا ہے فرغونوں کی تعداد میں کمی آتی ہے ۔قوم کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹا نہیں جاتا ۔عوام کو امریت اور جمہوریت دونوں کا تلخ تجربہ ہے لیکن اس تباہ کن جمہوریت سے امریت کا تجربہ قدرے بہتر ہے ۔امریت میں ملک اس طرح کباڑہ نہیں ہوتا تھا ۔ہر طرف بد عنوانی ،بے راہروی ،اقربا پروری کا طوفان نہیں ہوتا تھا ۔اسی طرح کھینچا تانی اور افراتفری نہیں ہوتی تھی ۔ہر ایک کی نااہلیت بولتی نہیں تھی ۔محکمے بے لگام نہیں ہوتے تھے ۔اہلکار کم ازکم حدود کے اندر ہوتے ۔بےچینیاں کم ہوتی تھیں ۔گالم گلوچ اورنفرتیں اتنی پنپتی نہیں تھیں ۔۔یہ جمہوریت ایک دھواں ہے ایک تباہ کن آندھی ۔۔تخریب کی آندھی تعمیر کی بیخ و بن اکھاڑ دیتی ہے ۔۔اس جمہوریت میں کوئی ایسا نہیں جو اقتدار کو عارضی سمجھے ۔امانت اور خدمت کا موقع سمجھے بس موج مستی کےگھوڑے پرسوار نظر آتا ہے کوئی اور مخلوق ۔وہ اپنی نجی زندگی،اپنی پسماندگی ،اپنے علاقے اور عوام سے بے خبر آسمان سے اترا ہوا کوئی بگولا ۔۔اگراقتدارامانت سمجھا جاتا تو جہوریت کا یہ حال نہ ہوتا ۔۔امانت کی حفاظت ہوتی مستقبل کاخیال رکھاجاتا ۔ملک کی تعمیر کی فکر ہوتی ۔۔اپنے فرائض کی اہمیت کو ترجیح دی جاتی ۔۔کوئی اصول ،کوئی نصب العین ،کوئی نیریٹیو ہوتا۔اس پر پارٹی کارکن اور ملک کاربند ہوتا ۔جمہوریت کی ثمرات اور اقتدار کی لاپرواہیاں جس رفتار سے ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں ناقابل بیان ہیں آۓ روز بہتری کی جگہ بدتری ہی نظر آتی ہے امید بھی نظر نہیں آتی کہ مستقبل میں بہتری کے اثار ہوں ۔کوئی مثبت سوچ جس کی بنیاد پر کوئی دوررس ترقی کوئی دیرپا منصوبہ بندی تب کہیں کہا جاۓ کہ جمہوریت درست ہے اور اقتدار امانت ہے ۔۔۔۔۔
