
گلگت بلتستان، کوہستان، چترال اور آزاد کشمیر کے برف پوش، دلکش اور قدرتی حسن سے بھرپور علاقے، آج ایک ایسے بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کے نتائج آنے والی نسلوں کے جسم اور ذہن دونوں پر نقش ہوں گے۔ یہ بحران خاموش بھی ہے، مہلک بھی، اور سب سے بڑھ کر… ہماری اپنی بے حسی کا مرہونِ منت بھی۔
یہ سوال اب محض ایک تشویش نہیں رہا، ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے، کیا ہم واقعی اپنے بچوں کو زہر کھلا رہے ہیں؟
کچھ دہائیاں پہلے تک یہاں کے بچے مقامی اناج، دودھ، گھی، گوشت، خشک میوہ جات اور گھریلو طور پر تیار کردہ خوراک سے پرورش پاتے تھے۔ آج یہ سب کچھ پس منظر میں جا چکا ہے۔ ان کی جگہ رنگ برنگی پیکنگ میں لپٹی چیپس، ذہن ماؤف کرنے والے میٹھے مشروبات، نمکین اسنیکس اور سستے پراسیسڈ فوڈز نے لے لی ہے۔ ذائقہ کی فتح نے صحت کو شکست دے دی ہے۔
حالیہ تحقیقات چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ شمالی علاقوں میں بچوں کی خوراک کا نقشہ خطرناک حد تک بدل چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں آٹے، تیل، گندم اور دیگر بنیادی اشیاء سمیت 32 مصنوعات غیر معیاری پائی گئیں، جن میں وہ پیکٹڈ اشیاء بھی شامل ہیں جنہیں ہمارے بچے روزانہ اسکول جاتے ہوئے خریدتے اور کھاتے ہیں۔
یہ اشیاء غذائیت سے خالی ہی نہیں، بلکہ ٹرانس فیٹس، مصنوعی رنگوں اور کیمیکلز کے مرکب ہیں, ایسے زہر جو بچپن ہی میں جسمانی اعضا کو تباہ اور ذہنی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کا انجام موٹاپا، ذیابیطس، دل کے امراض، کینسر اور قوتِ مدافعت کی تباہی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
ایک قومی تحقیق جس میں 9 سے 17 سال کے 4100 بچوں کا جائزہ لیا گیا، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین ہو چکی ہےـ 19.4 فیصد بچے زائد وزن کے شکار اور 10.7 فیصد موٹاپے میں مبتلا ہیں۔
آزاد کشمیر، کوہستان، چترال اور گلگت بلتستان میں یہ شرح مزید تشویشناک ہے، لڑکیوں میں 16.8 فیصد جبکہ لڑکوں میں 17.8 فیصد بچے Overweight، اور Obesity کی شرح بھی 7 فیصد کے قریب ہے۔
یہ صرف زیادہ کھانے کا نہیں… غلط اور زہریلی خوراک کا نتیجہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں غذائی قلت کا مسئلہ اب دو دھاری تلوار بن چکا ہے، ایک طرف غذائیت کی کمی، دوسری طرف مضر صحت خوراک کا بے دریغ استعمال۔ قومی غذائیت سروے کے مطابق 40 فیصد بچے Stunting کا شکار ہیں، یعنی قد صحیح نہ بڑھنا۔ 29 فیصد Underweight اور 9.5 فیصد موٹاپے میں مبتلا ہیں۔
یہ اعداد و شمار چیخ رہے ہیں کہ ہمارا پورا غذائی نظام بیمار ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں فوڈ ٹیسٹنگ کی محض ایک لیبارٹری ہے جو پورے خطے کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ اس محدود نظام میں غیر معیاری، ملاوٹی اور زہریلی اشیاء آسانی سے مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں۔ نتیجہ؟ معصوم بچوں کے ہاتھوں میں اسکول کے گیٹ پر ’’زہر‘‘ کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ۔
مقامی ڈاکٹرز، اساتذہ اور والدین کی رائے ہے کہ بچوں کی روزمرہ خوراک کا ایک بڑا حصہ اب ان ہی مضرِ صحت اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال مستقبل کے ایک ایسے صحت عامہ کے طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے جسے روکنے کے لیے آج سے کوششیں نہ کی گئیں تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ حل کیا ہے؟بحران سنگین ہے مگر ناقابلِ حل نہیں۔
ضرورت صرف سنجیدگی، شعور اور فیصلے کی ہے۔ غذائی اشیاء کی لیبارٹریوں کی تعداد بڑھائی جائے
غیر معیاری مصنوعات پر سخت ترین کارروائیاں کی جائیں، پراسیسڈ فوڈز پر ٹیکس لگایا جائے، اسکولوں میں صحت بخش خوراک کے اصول وضع کیے جائیں، والدین اور بچوں میں غذائی شعور بیدار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے
مقامی روایتی خوراک کو دوبارہ عام کیا جائے، یہ خطے قدرتی حسن کے خزانے ہیں، مگر اگر ان کے بچوں کی صحت تباہ ہو گئی تو کل یہ علاقے خوبصورتی نہیں، بیماریوں کے نقشے بن جائیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں،
ہم اپنے بچوں کو زندہ مستقبل دینا چاہتے ہیں یا رنگین پیکٹ میں لپٹا ہوا زہر ……؟

