
پاکستان مسلم لیگ ن اپر کی وضاحتی پریس ریلیز اور ریکارڈ پبلیک کرنے کا مطالبہ۔
چترال( ذاکر محمد زخمی)پرنس سلطان الملک جنرل سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ ن اپر چترال نے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز سے ریشن بجلی کے مسئلے کو لے کر ریشن تحریک کے ایک سرگرم رکن، سید سردار حسین شاہ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں شاہ صاحب ریشن بجلی کے مسئلے کے حل کی راہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو رکاوٹ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن اس ویڈیو کو پھیلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما، سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین اور مخصوص نشست پر منتخب خاتون رہنما محترمہ غزالہ انجم، ریشن بجلی کے مسئلے کے حل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ورنہ یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔حالانکہ سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین اور مخصوص نشست پر منتخب خاتون رہنما محترمہ غزالہ انجم واضح الفاظ میں چیلنج دے چکے ہیں کہ اگر ان کے خلاف اس قسم کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو حقیقت ثابت کرنے کے لیے کسی کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ فوراً پبلک کیے جائیں، تاکہ ہم عوام کے سامنے شرمندہ ہو سکیں۔ بصورتِ دیگر، اپنی ناکامی اور نااہلی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں اور من گھڑت پروپیگنڈے کا سہارا لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ریشن بجلی تحریک کے قائدین ریشن کے عوام کو عرصۂ دراز سے اندھیروں میں رکھا اور انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب ریشن کے سادہ لوح عوام آپ کی ان بچگانہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکات کے باعث محکمہ پیڈو کے مقروض ہو چکے ہیں۔ آپ کی طفل تسلیوں کی وجہ سے لوگ طویل عرصے سے بجلی کے بل جمع نہیں کر رہے، اور اب ان کا سامنا کرنے کے بجائے بات کو توڑ مروڑ کر خود کو عوام کے قہر و غضب سے بچانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جو کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔یہ بات سب پر عیاں ہے کہ محکمہ پیڈو ایک خالصتاً صوبائی محکمہ ہے، جس کے تمام ذمہ داران صوبے میں تعینات ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہیں۔ مرکز کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ صوبائی حکومت چاہے تو ریشن کے عوام کو مفت بجلی دے یا رعایتی نرخوں پر فراہم کرے، مرکز کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ بلاوجہ مرکز اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو اس معاملے میں گھسیٹنا اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔
22 اگست 2025 کو تحریکِ بجلی ریشن کے عمائدین اور ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی موجودگی میں صدر پاکستان تحریکِ انصاف اپر چترال، شہزادہ سکندرالملک، نے پشاور میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے اپر چترال کے عوام کو مبارکباد دی، مختلف کرداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت اور ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں ریشن بجلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے، نیز ٹیرف کی تفصیل بھی بیان کی۔ اب دسمبر بھی گزر چکا ہے، مگر اس خوشخبری کے ثمرات آج تک عوام کو نہیں مل سکے۔
اس کے باوجود تحریک کے رہنماؤں نے ایک بار پھر تحریک کو فروری تک مؤخر کر کے سردیاں آرام سے گزارنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ تحریکیں محض وقت گزارنے کے بہانے معلوم ہوتی ہیں۔ اگر نیت میں اخلاص ہوتا تو یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔لہذا ان کے پاس دوسروں پر الزامات لگانے کے علاوه کچھ ہے نہیں۔اب پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال اس مطالبے میں حق بجانب ہے کہ تحریک اور اس سے وابستہ رہنما اب تک کی پیش رفت کا مکمل ریکارڈ پبلک کریں۔اور 22 اگست 2025 کو صدر پاکستان تحریکِ انصاف اپر، شہزادہ سکندرالملک نے معززینِ تحریکِ ریشن اور ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی موجودگی میں جس نوٹیفکیشن کو بنیاد بنا کر خوشخبری سنائی تھی اور پیڈو کے بجلی صارفین کو مبارک باد دی تھی، براہِ کرم اُس مذکورہ نوٹیفکیشن کو پبلک کیا جائے تاکہ تمام ابہام دور ہو سکے۔ بلاشبہ آپ نے طویل جدوجہد کی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اب تک کا ریکارڈ منظرِ عام پر نہ لانا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے مطالبات میں ریشن کے علاوہ تحصیل مستوج اور تحصیل موڑکھو تورکھو کے لیے کیا لائحۂ عمل تجویز کیا گیا ہے؟ کیا اپر چترال کے تمام پیڈو صارفین کا مشترکہ مفاد اس تحریک سے وابستہ ہے، یا کوئی خفیہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے دیگر علاقوں کو بجلی سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟دوم، ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بقولِ شاہ صاحب اگر شہزادہ افتخارالدین اور غزالہ انجم واقعی مسئلے کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو یقیناً ان کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہوں گے۔ لہٰذا وہ ثبوت بھی پبلک کیے جائیں، تاکہ ہم سب مل کر ان کی مذمت کر سکیں۔ بصورتِ دیگر، ہوا میں تیر چلا کر حقیقت کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس قسم کی بے سروپا اور من گھڑت باتوں سے محفل کو وقتی طور پر گرم تو کیا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں عوام کے لیے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
