
گیس پلانٹس کی بحالی چترال کے عوام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگی۔شہزادہ افتخار الدین
اسلام آباد(چترال ایکسپریس)شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ چترال کے عوام کے دیرینہ مسئلے یعنی دروش، ایون اور چترال (سنگور) میں ایس این جی ایئرپری مکس گیس پلانٹس کی بحالی کے لیے وفاقی سطح پر
اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج وفاقی وزارتِ پٹرولیم و قدرتی وسائل میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر امورِ کشمیر و صدر مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے بذریعہ زوم آن لائن شرکت کرتے ہوئے چترال کے تینوں گیس پلانٹس کے کیس کی بھرپور وکالت کی۔
شہزادہ افتخار الدین کے مطابق اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بلال اور سینیٹر مندوخیل، وزیراعظم آفس کے جوائنٹ سیکرٹری غلام علی ملک، اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم مرزا ناصرالدین مشہود، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (SNGPL) امیر طفیل، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس پائپ لائنز (SSGPL) سمیت وزارتِ پٹرولیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے ہفتے وزارتِ پٹرولیم میں ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کی صدارت دوبارہ وفاقی وزیر علی پرویز ملک کریں گے، جبکہ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور وہ خود بھی اس میں شریک ہوں گے۔ اس اجلاس کے بعد سات دن کے اندر سفارشات وزیراعظم پاکستان کو ارسال کی جائیں گی۔
شہزادہ افتخار الدین نے یاد دلایا کہ سال 2020 میں سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے چترال، دروش اور ایون کے گیس پلانٹس کو منسوخ کرنے اور ان کی اراضی و آلات نیلام کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے خلاف انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے گرین بینچ سے رجوع کیا، جہاں 2022 میں عدالت نے نیلامی روکنے کے احکامات جاری کیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد یہ کیس دوبارہ ECC میں پیش کیا جائے گا اور چترال کے عوام کو ان کا جائز حق دلایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت چترال کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے اور گیس پلانٹس کی بحالی چترال کے عوام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگی۔
