کاوشات اقبال

اس دنیا میں ہر انسان کی اپنی کہانی ہے۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

اس دنیا میں ہر انسان کی اپنی کہانی ہے اور یہ اپنی حساب سے کہانی ترتیب دیتا ہے پسند انا یا نہ انا یہ بات کی بات ہے ۔جب صدام حسین اپنی فوجیں کویت میں میں داخل کر دیں اور اس پر قبضہ کرلیا جو واضح طور پر ایک جارحانہ فعل تھا اس کے بعد ایک امریکن سفیر نے ڈپلومیٹک انداز میں صدر صدام کو خبر دار کیا کہ انہوں نے جارحیت کا کام کیا ہے کویت کے ساتھ ان کے جو رنجش ہے اس سے اس کو باہمی گفتگو سے حل کرنا چاہٸے تھا نہ زور زبردستی سے اس وقت صدر صدام صاحب فاتحانہ جوش جذبہ میں تھے تو انہوں نے اس امریکن نماٸندے کو جواب دیا کہ” صدر کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ کویت کا شاہی خاندان اب کہانی کا حصہ بن چکا اور کویت اب کویت نہیں رہا اب یہ عراق کا نومولُود صوبہ ہے بات یہیں ختم نہیں ہوٸی اس کے بعد کویت کی درخواست پر آمریکہ براہ راست سامنے آگیا اس نے صدر صدام کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنی فوجیں کویت سے واپس بلا دے مگر کہانی کے ھیرو نے اس بات کو نظر انداز کر دیا اس کے بعد امریکہ عراق پر زبردست حملہ کر دیا اور صدامی فوجیں دفاع میں ناکام ہوٸیں اور یہ جنگ عراق کو عبرت ناک کہانی کی صورت میں ملی اس کے بعد امریکہ نےچاروں طرف عراق کی ناکہ بندی کی اس کے نتیجے میں عراق کی اقتصادیات کو تباہ وبروباد کردیا اور صدرصدام کو مجبور ہو کر امریکن تمام مطالبات کو نہ صرف ماننا پڑا بلکہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلاکر متفقہ طور پر یہ قرارداد پاس کیا گیا کہ” عراق ایک آذاد ریاست کے طور پر کویت کو تسلیم کرتا ہے “

عراق کے ناٸب وزیر اعظم طارق عزیز نے تحریری طور پر عراق کے اس فیصلہ سے اگاہ کر دیا صدام حسین کویت کو دنیا کیلے تاریخی حصہ بنانا چاہتے تھے مگر وہ خود تاریخ کا حصہ بن گیا اس کہانی سے اس نے ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے حال کو جانتے تھے کیونکہ اس وقت اس کی تصویر دنیا میں لاکھوں ڈالرز میں میں فروخت ہوٸی تھی اوراپنے مستقبل سے وہ آخری حد تک بے خبر بنے ہوۓ تھے اور اس کی سب سے پسندیدہ گھوڑا گولہ باری کی وجہ سے زخموں سے چور چور عراق کےبڑے چوک میں خون بہا کر بیدک رہا تھا۔۔

یہی موجودہ زمانے میں ہر انسان کی کہانی ہے ہر آدمی اپنی آج کو جانتا ہے اپنی کل کو نہیں جانتا،اپنی کارواٸی کی اس سے خبر ہے مگر اللہ کی طرف سے جو کاروائی اس کیلے ہونی ہے اس سے اس سے خبر نہیں وہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہے ۔۔

 اس کہانی کی عجیب خلاصہ ہے کہ دوسرے کی زمین پر کسی کیلے اپنی ترقی کا جھنڈا گاڑنا ممکن نہیں۔دوسرے کی ملکیت کو چھین کر اپنا رقبہ بڑھنے کی سکیم اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اس دنیا میں ہر آدمی کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا حق حاصل ہے لیکن جوٸی شخص دوسرے کو مٹاکر اپنی ترقی میں اضافہ نہیں کر سکتا۔

واقعات بتاتے ہیں کہ اپنی حد کے اندر رہتے ہوۓ جو ترقی حاصل کی جاتی ہے وہ ترقی مستحکم ہوتی ہے اور مسلسل باقی رہتی ہے اس کے برعکس جو آدمی دوسرے کاحصہ چھین کر اپنے کو ترقی یافتہ بنانا چاہے اس کی ترقی میں استحکام نہ ہوگا ایسا آدمی آخرکار دگنا محرومی سے دوچار ہوتا ہے اور اپنے حاصل شدہ حصہ کو بھی کھو دیتا ہے اور دوسرے کا حصہ تو اس سے ملنے والا ہی نہ تھا ۔

کوٸی انسان خواہ جس بھی حیثیت میں ہو وہ کسی بھی حال میں ہو وہ زندگی کے اس قانون سے مثتثنی نہیں۔کوٸی شخص اس قدر طاقتور نہیں کہ وہ اس قانون سے بچ جاۓ وہ اس قانون کو اپنے اوپر نافذ نہ ہونے دے ۔۔یہ قانون کسی ایک شخص کے لٸے جتنا اٹل ہے اتنا ہی وہ دوسروں کے لٸے بھی اٹل ہے۔اس لٸے ضروری ہے کہ کہانی ترتیب دیتے وقت ہمیشہ حقیقت اور صاف گوٸی کا خیال رکھا جاۓ تو یہ اپنا اثر چھوڑے گا ورنہ اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کے پاس اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock