
دھڑکنوں کی زبان”۔۔بس اتنی سی زندگی تھی “۔۔محمد جاوید حیات۔۔
پانچویں جماعت کی گڑیا منہ ہاتھ دھو کے ناشتہ کرکے بستہ اٹھا کے گھر سے نکلتی ہے آج سکول میں اس کا رزلٹ ڈے ہے واپسی پر پل پار کرتی ہوئی پھسل کر نیچے دریا میں گر جاتی ہے دوسرے لمحے جوارباٹھوں میں کہیں غائب ہو جاتی یے .وقفہ ایک منٹ کا ہے زندگی ایک منٹ میں ختم ہو جاتی ہے .نویں جماعت کا چاند سا بچہ چھٹی کے دن کھیلنے دریا کنارے جاتا ہے فٹ بال دریا میں گرتا ہے وہ اس کو پکڑنے دریا میں پاؤں رکھتا ہے دوسرے لمحے نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے .تیس معصوم پھول ایک چھت کے نیچے ٹیوشن پڑھ رہے ہیں استانی سامنے کھڑے لکچر دے رہی ہے چھت گرتی ہے معصوم پھول مسل جاتے ہیں .جہاز معمول کی پرواز پر ہے مسافر بھانت بھانت کے ہیں اپس میں محو گفتگو ہیں کوئی ارام کر رہا ہے کوئی اللہ کو یاد کر رہا ہے جہاز زمین پہ گرتا ہے سارے مسافر مر جاتے ہیں.بڑی بس چل رہی سٹیرنگ ڈرائیور کے ہاتھ سے پھسلتی ہے بس گہری کھائی میں گرتی ہے دوسرے لمحے ہنستے مسکراتے چہروں پر موت کے گہرے سائے ہیں .بڑے ملک کا مطلق العنان بادشاہ ہے اس کی آنکھ کے ایک اشارے سے سب کچھ ہوتا ہے.پچاس ساٹھ ستر سال کا وقفہ ہے بڑھاپا آتا ہے قوی مضمحل ہیں مر جاتا ہے .. بس اتنی سی زندگی تھی لیکن اس حقیقت کو ماننے کے لیے کوئی تیار نہیں بچہ جوان ہونے کو ترستا ہے جوان بڑھاپے کی آرزو کرتا ہے پھر بچے کو بچپن پہ بھروسہ ہے کہ یہ ختم نہیں ہوگا جوان کو اپنی جوانی کی ہمیشہ رہنے پہ یقین ہے بوڑھے کو اعتبار نہیں کہ وہ ایک دن اس دنیا میں نہیں رہے گا پھر اہل سروت کو اپنی دولت پہ ناز ہے جائیداد والا اپنی جائیداد کو سب کچھ سمجھتا ہے مال دولت اولاد پہ تفاخر کا قران میں بھی ذکر ہے لیکن کسی کو یقین تک نہیں کہ یہ سب فانی ہے حقیقت کی آنکھیں تب کھلتی ہیں تب فنا سر پہ اتا ہے .اسلام میں موت کو بار بار یاد کرنے کی تلقین ہے اس لیے کہ انسان اپنےفانی ہونے کا یقین آجائے اگر یہ یقین آجائے تو انسان اپنے آپ کو بھولتا نہیں زندگی کی رنگینیوں میں مست نہیں ہوتا اس کے اندر انسان دوستی ، ہمدردی ،سچائی ، شرافت،خدمت ایثار اور قربانی کا جذبہ زندہ رہتا ہے ورنہ تو اس کی مثال حیوانوں جیسی ہے خلیل جبران نے کہا تھا ” شکستہ قبروں سے پوچھو کہ کتنے حسینوں کی مٹی خراب ہو چکی ہے ” زنگی کو زندگی سمجھنا چاہیے جس کا انجام فنا ہے اگر انسان جوان پیدا ہوتا اور جوان ہی میں مرتا تب بھی ٹھیک تھا اگر غریب غریب اور دولت مند دولت مند ہی پیدا ہوتا تب بھی ٹھیک تھا لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا ایک حال میں کچھ بھی نہیں رہتا کل ہی جوانی تھی آج بوڑھاپا ہے کل آنکھیں ٹھیک تھیں آج اندھا پن ہے کل معدہ کام کر رہا تھا آج ایک لقمہ تک ہضم نہیں ہوتا کل کئی جوان فٹ بال کھیل رہے تھے أج ویل چیر پہ ہیں اسی حقیقت کو قران نے واضح کیا کہ اور یہ زمانے کی گردیشیں ہیں جو ہم لوگوں کے درمیاں پھراتے رہتے ہیں. ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو زندگی ایک اندھی حقیقت ہے بچپن اندھا اس کو جوانی نظر نہیں آتی جوانی اندھی ہے اس کو بوڑھاپا نظر نہیں أتا بوڑھاپا اندھا ہے اس کو موت نظر نہیں آتی .خوشحال کو بدحال نظر نہیں آتا امیر کو غریب نظر نہیں آتا تندرست کو معزور نظر نہیں آتا زمانے کی گردشوں پر کسی کو اعتبار نہیں .وقت گزر جائے گا اس جملے پر کوئی غور نہیں کرتا ..
آج غم کل خوشی
ہے یہی زندگی
سن لے پیارے
ادمی وہ جو ہمت نہ ہارے
زندگی اتنی سی ہے اس پر یقین ہوتے ہوئے بھی ہم اس کو مفت میں گنواتے ہیں .نہ رب کی عبادت نہ انسانیت کی خدمت …بس موج مستی حالانکہ غریبی ، محرومی ، معزوری عبرت ہونی چاہییں انسان یہ سوچے کہ یہ ہر ایک پہ آسکتی ہیں اللہ کی نعمتوں کا احساس کرنا چاہیے .برے وقت اور ازمائش کا ہر ایک سامنے کر سکتا ہے سکوں عافیت صحت اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں زندگی کو پل اور واماندگی کا وقفہ سمجھنا چاہیے اس پہ کیا بھروسہ جو آج ہے کل نہیں ہے اس پہ بھروسہ ہونا چاہیے جو ہمیشہ کے لیے ہے یعنی رب کی خوشنودی .ہر حال میں رب یاد آجائے تو انسان اپنے انجام کو سوچتا ہے دنیا اس وقت جنت بن جاتی ہے جب ہر طبقہ فکر کو اللہ یاد آجائے جج کو اللہ یاد آجائے پولیس کو اللہ یاد آجائے استاذ کو اللہ یاد آجائے افسر کو اللہ یاد آجائے حکمران کو اللہ یاد آجائے تب وہ اپنے انجام کو سوچے گا اس کو اپنے انسان ہونے پہ یقین آجائے گا اور سمجھے گا کہ” بس اتنی سی زندگی تھی ” اس کو رب کے سامنے جانا ہے
