مضامین

کاوشوں کی خوشبو: محمد اقبال شاکر کے اعزاز میں ۔۔تحریر: معراج الدین سب انسپکٹر چترال پولیس

شیکسپئر نے ایک بار کہا تھا کہ، “دنیا ایک سٹیج ہے، اور ہم میں سے ہر کوئی اس سٹیج پر اپنے حصے کا کردار ادا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے”۔ گویا کہ سانسوں کے پنجوں تلے ہم میں سے ہر کوئی اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ قدرت نے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی ذمہ داری دی ہوتی ہے۔ کوئی اپنے حصے کا کردار محض نبھاتا ہے جبکہ اپنے حصے کی ذمہ داری کیساتھ اخلاص کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ ہر کسی میں یہ وصف نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کام کیساتھ عشق کی حد تک محبت کرے، اور ہر کسی میں یہ کمال بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک منصب کو اپنی شخصیت کا عکس عطا کر سکے۔ البتہ ایسے ہی نایاب صفت لوگوں کی بدولت ہی اس دنیا کے رنگوں کو ثبات حاصل ہے۔

محمد اقبال شاکر صاحب، جس نے تعلیم و تعلم کے پیشے کو اپنائے ہی نہیں، بلکہ اس پیشے کو اپنا مقصد حیات بنا کر، اپنے بے پایاں صلاحیتوں سے کمال کی انتہاء کو پہنچائے۔ محمد اقبال شاکر صاحب صرف کتاب کے صفحات پڑھانے تک اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اذہان کو سوچ، قلوب کو احساسات اور زندگی کے مقصد تک اپنے شاگردوں کی رہنمائی کے فن سے آشناء ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف امتحانات کی تیاری ہی نہیں سکھاتے بلکہ زندگی کی آزمائشوں سے نبرد آزما ہونے کے گر بھی ودیعت کئے دیتے ہیں۔ اقبال صاحب میں علم کیساتھ محبت اور اپنے پیشے کیساتھ غیر معمولی وابستگی ہی دکھائی نہیں دیتی بلکہ ان کی شخصیت کے کئی اور پہلو ہیں جو ان کی قابلیت کو چار چاند لگاتے ہیں۔

جناب محمد اقبال شاکر صاحب کی صلاحیتیں صرف درسگاہ کی چاردیواری تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ایک قلم کار، شاعر، کالم نگار اور صاحب ذوق ادبی شخصیت بھی ہیں۔ ان کا قلم اور کاغذ جب ہم کلام ہوتے ہیں تو خیالات کو مجسم کئے دیتے ہیں جو معاشرتی اور انسانی موضوعات کے نئے زاویے سامنے لیکر آتے ہیں۔ ان کے مضامین ‘کاوشات اقبال’ کے عنوان سے چترال ایکسپریس کے صفحات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ قارئین اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ عنوان حقیقتاً ان کی فکری اور تخلیقی زندگی کا آئینہ ہیں۔ واقعتاً ان کی زندگی کاوشات سے عبارت ہے۔ درسگاہ میں کاوش، قلم میں کاوش، شاعری میں کاوش،معاشرے کیلئے کچھ بہتر کرنے کی کاوش۔۔۔۔۔۔ غرض ان کی شخصیت کے جس جس پہلو پر نظر دوڑائیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر میدان میں اقبال صاحب اپنی کاوشات اور ان کاوشوں کی بدولت کمالات کی آخری سرحد پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور انہی اوصاف کے پیش نظر انہیں ڈسٹرکٹ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہیں ڈسٹرکٹ بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ سے نوازا جانا دراصل ایک فرد کی پذیرائی نہیں بلکہ اس سوچ، اخلاص اور محنت کا اعتراف ہے جو ایک استاد کو حقیقی معنوں میں استاد بناتے ہیں۔ یہ اعزاز ان کی برسوں پر محیط علمی اور تدریسی کاوشوں کا وہ خوبصورت اعتراف ہے جس کی خوشی صرف ان کے حلقہ احباب تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان تمام لوگوں تک پہنچتی ہے جو علم، ادب اور تعلیم کی قدر جانتے ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔