کاوشات اقبال

علم کے چراغ بجھ گئے _ معصوم پھولوں کی خاموش فریاد…کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی تین منزلہ چھت گرنے سے بہت بڑا سانحہ پیش آیا، جس کی زد میں آ کر 34 طالب علم شہید اور دو ٹیچر جان بحق ہوئے۔ بچوں کی عمر 6 سال سے 14 سال کے درمیان ہے۔ اس تین منزلہ عمارت کی حالت بارش کی وجہ سے مخدوش اور غیر محفوظ بتائی جاتی ہے۔ پھر بھی ایک ظالم مالک نے سکول کے بھیس میں موت کا کنواں بنا رکھا تھا اور اس میں 110 بچوں کو تعلیم دے رہا تھا۔ ان بچوں میں 52 بچے زیرِ علاج ہیں۔ پولیس نے ظالم مالکِ سکول کو گرفتار کر لیا ہے، جس کی غفلت اور لاپرواہی نے علم کے 34 چراغ بجھا دیے۔ ضلعی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی بنا دی ہے۔

سکول کی بلڈنگ کا بچے کی تربیت اور تعلیم میں بہت اہم کردار ہے۔ ایک محفوظ، صاف اور سہولیات والی عمارت بچوں کو سمجھنے کے لیے حوصلہ دیتی ہے، جبکہ بوسیدہ حال یا خطرناک بلڈنگ خوف، عدم توجہی اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات منہدم ہو کر جانی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس میں پرائیویٹ سکول اتھارٹی کی غفلت بھی ہے کہ اس بلڈنگ کو سکول کی صورت میں قابلِ استعمال کس طرح قرار دیا۔ دوسری طرف تعلیم کے بہانے گلی کوچوں میں اس طرح کے کاروباری طبقے کے سکول بھی قابلِ توجہ ہیں۔

ہمارے صوبے میں 45 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان میں ایک وجہ اس قسم کی پرانی عمارتیں اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے۔ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس کے لیے محفوظ بلڈنگ اور مناسب ماحول دینا بھی ضروری ہے۔ بچوں کے لیے گھر کے ساتھ سکول میں بھی بہتر سہولیات ہونا ضروری ہیں۔ اس لیے بلڈنگ صرف اینٹ اور پتھر کے پہاڑ نہیں بلکہ بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون اور کردار سازی کا پہلا قدم ہے۔

عمارتیں جلدی خراب ہوتی ہیں اور جان و مال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ سڑکوں اور انفراسٹرکچر کا جلدی ناکارہ ہونا اور دیگر غیر معیاری کاموں پر عوام کا احتجاج شامل ہے، جس کی بنیادی وجہ سستے مواد کا انتخاب، معائنہ نہ ہونا اور ضابطوں پر عمل نہ کرنا ہے۔ قانونی طور پر ٹھیکیدار، سپلائر اور یہاں تک کہ جائیداد کے مالک کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، چاہے انہیں مسئلے کا علم نہ ہو۔ ممکنہ نتائج میں قانونی کارروائی، جرمانے، منصوبے میں تاخیر اور ساکھ کا نقصان بھی شامل ہیں۔

اونرشپ، اپروول، ڈیلیوری ریکارڈ اور ڈیمانڈ چیک کرنا، میٹیریل کا انتخاب، قدرتی روشنی اور وینٹیلیشن کا خیال رکھنا اور تربیت یافتہ افراد سے کام کروانا مستقبل کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ غیر محفوظ تنصیبات، جیسے بجلی اور گیس کے معیاری سامان وغیرہ کی چیکنگ لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے کرانا مختلف جان لیوا حادثات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وہاں والدین، اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے جن بلڈنگوں میں چھوڑ دیتے ہیں، ایک نظر یہ بھی دیکھیں کہ بلڈنگ کی حالت کس طرح ہے؟ ورنہ اس قسم کے حالات پھر ہو جائیں گے۔

اللہ جنت کے ان پھولوں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عنایت کرے اور ان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔