
استاد: انسانیت کے معمار اور معاشرے کی روشن بنیاد..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق..محمد اقبال شاکر
دنیا کی ترقی و تعمیر کے جتنے اسباب ہیں، وہ فکر، سوچ اور محنت سے وجود میں آتے ہیں۔ اگر استاد مناسب طریقے سے محنت کرے گا تو یہ اسباب بڑھیں گے اور ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ ایک انسان کے کردار کی تعمیر دنیا کے سارے تعمیری کاموں سے اہم ہے۔ یہ ایسی تعمیر ہے کہ اس سے عدم توجہی ساری انسانیت کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ اگر انسان تربیت یافتہ ہو تو وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھلائی اور رحمت کا ذریعہ بنتا ہے، ورنہ انسان بغیر تربیت کے لاکھوں زندگیاں برباد کر سکتا ہے۔
دنیا میں سیکھنے کا عمل جس ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے، وہ استاد ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دنیا کی آبادی کا کافی حصہ روزانہ اساتذہ کرام کے سامنے تعلیم و تربیت کے لیے بیٹھتا ہے، جو سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک روزمرہ کے حساب سے جاری رہتا ہے۔ اس بنا پر انسانیت کی تعمیر کی ابتدا اور انتہا جن ہاتھوں سے انجام پاتی ہے، ان کا ایسی صفات کا حامل ہونا ضروری ہے کہ وہ گفتار سے زیادہ کردار کے غازی ہوں۔ ان کے عمل کی جگمگاہٹ سے آنکھیں نہیں بلکہ دل خیرہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی صحیح تربیت ہوگی تو یہ بن جائیں گے، ورنہ بگڑ جائیں گے۔ ان کے بننے اور بگڑنے میں استاد کی تربیت کا بہت بڑا دخل ہے۔
استاد کے بغیر ایک صحت مند، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کا قیام حقیقت میں ناممکن ہے۔ استاد صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ فرد کی اخلاقی، سماجی، معاشی اور فکری تربیت کرکے اسے ایک ذمہ دار اور مؤثر شہری بناتا ہے۔
انسانی معاشرت میں استاد کو بلند اور قابلِ احترام مقام حاصل ہے۔ استاد دراصل وہ شخصیت ہے جو انسان کے باطن میں علم، شعور، اخلاق، کردار اور پاکیزگی کی روشنی بھرتا ہے۔ وہ محض علم کا مبلغ نہیں بلکہ کردار کا معمار اور معاشرے کی فکری بنیاد کا ستون ہے۔ استاد کے بغیر معاشرہ تاریکی میں بھٹکتا ہے، کیونکہ وہی رہنما ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر والدین انسان کو زندگی دیتے ہیں تو استاد اسے جینے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔ استاد کے بغیر معاشرہ ایک ایسی بستی کی مانند ہے جس میں روشنی کے تمام چراغ بجھ چکے ہوں۔
جب معاشرہ استاد سے خالی ہو جاتا ہے تو وہاں انصاف کے بجائے ظلم، علم کے بجائے جہالت اور تہذیب کے بجائے بربریت پروان چڑھتی ہے۔ استاد ہی وہ طاقت ہے جو انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی طاقت پیدا کرتا ہے۔ اگر استاد نہ ہو تو قومیں اندھی تقلید، مادیت اور اخلاقی پستی میں ڈوب جاتی ہیں۔
استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے شاگردوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کا ضامن بنے۔ استاد کا رویہ، گفتار، کردار اور اخلاق مثالی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ استاد کو اس کا اصل مقام واپس دیا جائے، اسے عزت، سہولیات اور سماجی مقام دیا جائے تاکہ وہ بلاجھجک اپنی ذمہ داری ادا کر سکے۔ اگر ہم ایک مضبوط، مہذب، باشعور، ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط قوم بنانا چاہتے ہیں تو اساتذہ کو وہی مقام دینا ہوگا جو دینِ اسلام، تاریخِ انسانی اور فطرت نے عطا کیا ہے۔ استاد کی عزت علم کی عزت ہے اور علم کی عزت انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔ اگر استاد کو اصل مقام دیا جائے تو یقیناً ہمارا معاشرہ جہالت، اخلاقی زوال اور بےاعتمادی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی، علم اور روشنی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔۔۔
