کاوشات اقبال

محبتوں کا سفر، کامیابیوں کا پڑاؤ — گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق..محمد اقبال شاکر

پڑھانا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے، مشکل اس لیے کہ یہ صرف لفظ سکھانے کا عمل نہیں بلکہ ایک کچی مٹی کو تراش خراش کرکے انسان بنانے کا مشکل ترین عمل ہے۔ استاد صرف پڑھاتا ہی نہیں، استاد اپنے صبر سے طالب علم کے غصے کو مٹاتا ہے، اپنی کوشش سے اس کی کمی دور کرتا ہے اور اپنی محنت سے اس کی اندھیری زندگی میں نور بھرتا ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جہاں خود جل کر دوسروں کو زندگی دینے کی جستجو ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دلوں اور ذہنوں پر حکومت کرنا آسان نہیں، اسی نسبت سے پڑھانا مشکل ترین مگر سب سے عظیم ترین اور خوبصورت ترین کام ہے۔ شعبۂ تدریس میں استاد کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ایک استاد اپنے طلباء کی ہمہ جہت ترقی میں اس طرح لگا رہتا ہے جس طرح ایک مالی اپنے چمن کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ایک ایسا پیشہ جس کا ہر مذہب، ہر سماج اور ہر نسل میں اہم مقام ہے۔

دنیا ایک اسٹیج ہے اور اس پر ہر ایک اپنے حصے کا کردار ادا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ قانونِ قدرت نے بھی ہر ایک کو کوئی نہ کوئی ذمہ داری دی ہوتی ہے، تو کوئی اپنی ذمہ داری محض صرف نبھاتا ہے، تو کوئی اس ذمہ داری کو خوفِ خدا اور اخلاص کے ساتھ نبھاتا ہے۔ یہ عشق اور محبت پر منحصر ہوتی ہے جو باکمال شخصیات کو میسر ہوتی ہے۔ ایسے نایاب صفت انسانوں کی بدولت ہی دنیا کے رنگوں کو ثبات حاصل ہے۔

گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال علاقے کا مادرِ علمی ہے۔ یہ علم و ہنر کی ایک ایسی خوبصورت روشن تاریخ ہے جو ماضی کے معمار بھی تراشے اور مستقبل کے لیے بھی تراشے جاتے ہیں۔ اس کی مٹی سے شعور کی خوشبو آتی ہے۔ اس کا پُرکشش ماحول آنکھوں کو ہریالی اور ذہنوں کو فرحت بخشتا ہے۔

یہ وہ مقدس درسگاہ ہے جہاں اساتذہ کی شفقتیں اور طالب علموں کی محنت مل کر کامیابیوں کی تاریخ رقم کرتی ہیں۔ علم کی روشنی اور کردار سازی میں اس ادارے کا مرکزی کردار ہمیشہ سے قابلِ تکریم ہے۔ خدا اس چمن کو ہمیشہ علم کے پھولوں سے دمکتا مہکتا رکھے۔

ٹیچر آف دی ایئر کا اعزاز میرے سینے پر سجایا گیا تو سب سے پہلے میرا سر اللہ کے حضور جھک جاتا ہے، جس نے مجھے اس عظیم اور مقدس پیشے سے وابستہ کیا اور اس قابل بنایا۔ اس کے بعد میں اپنے باوقار ادارے گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کی انتظامیہ، پرنسپل صاحبان، محکمۂ تعلیم، ڈائریکٹر صاحب اور تمام کولیگز کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں، جنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی، میرے کاموں کو سراہا اور مجھے ایک سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا۔ کسی بھی استاد کی کامیابی کے پیچھے دراصل اس کے ادارے کے ویژن، ساتھیوں کے تعاون اور طلبہ کے بھروسے کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ ایوارڈ اکیلا میرا نہیں ہے بلکہ پوری ٹیم کی محنت کا ثمر ہے، جو دن رات اس ادارے میں معیارِ تعلیم بلند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس اعزاز نے میرے کندھوں پہ خوشیوں کے ساتھ ذمہ داریوں کو بھی بڑھایا ہے۔ ان شاء اللہ مستقبل میں بھی اپنے طلبہ کی بہتری اور ادارے کا نام روشن کرنے کے لیے ایسی لگن اور خلوص سے کام کرتا رہوں گا۔

میں سوشل میڈیا چترال سب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہر وقت مجھے عزت بخشی ہے اور مجھے یہ شرف عطا فرمایا ہے، اور میرے اعزاز میں ان کا بھرپور کردار ہے، جس کا میں مقروض ہوں۔ آپ سب کی محبت، اعتماد اور اس خوبصورت تحفے کا شکریہ۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔