
چترال لوئر ‘عوامی نشست’ کا انعقاد، سڑکوں کے التواء، ناقص معیار اور مبینہ بدعنوانی پر شہریوں کا اظہار تشویش
ڈی سی اور ڈی پی او کی شرکت؛ منشیات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی
چترال (چترال ایکسپریس)لوئر چترال کے پولیس خدمت مرکز میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور علاقائی عمائدین کے ساتھ ایک باضابطہ ‘عوامی نشست’ منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر احسان اللہ اور
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد خالد خان نے خصوصی طور پر شرکت کی اور شہریوں کے مسائل بلاواسطہ سنیں۔
نشست کے دوران عمائدینِ علاقہ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے زیرِ انتظام جاری سڑکوں کے منصوبوں کی تعطل کا شکار اور طویل التواء پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ شرکاء نے تعمیراتی کاموں کے ناقص معیار کی نشان دہی کرتے ہوئے ٹی ایم اے (TMA) اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) محکموں کی جانب سے ترقیاتی فنڈز میں مبینہ خرد برد اور
بدعنوانی پر گہری تشویش ظاہر کی۔
امن و امان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے ضلع میں پائیدار امن کے قیام پر چترال پولیس کی کارکردگی کو سراہا، تاہم شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوری، مؤثر اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر احسان اللہ نے
کہا کہ:
”عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور انتظامیہ و عوام کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا گڈ گورننس کی بنیاد ہے۔ ہم عوام اور انتظامیہ کے مابین کسی قسم کے عدم اعتماد کو پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ انتظامیہ اپنے تمام تر دائرہ اختیار اور قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے علاقے اور عوام کے تمام جائز مسائل حل کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گی۔”
ڈی پی او محمد خالد خان نے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چترال کے عوام کی پرامن رویے کی تعریف کی اور کہا کہ:
”امن کے بغیر کوئی بھی علاقہ ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ چترال میں مثالی امن و امان کا پورا کریڈٹ یہاں کے با شعور اور پرامن عوام کو جاتا ہے، جس کی نظیر صوبے میں کہیں اور نہیں ملتی۔ منشیات فروشوں کی سرکوبی کے لیے پولیس مکمل الرٹ ہے اور عوام کے تعاون سے چترال کو منشیات سے پاک پاکیزہ معاشرہ بنایا جائے گا۔”
نشست میں ضلع کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، حاجی عید الحسین، ضیاء الدین، وجیہہ الدین، لیاقت علی، ظفر احمد، محمد ولی شاہ، عیسیٰ خان، نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ، غلام اسحق خان، شبنم ناصر اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور علاقائی ترقی و بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں۔
