
کرپشن کے خلاف نئی مہم — دعووں سے آگے عمل کی ضرورت۔۔تحریر۔۔عبدالغفار
صوبائی وزیر سہیل آفریدی کی جانب سے یہ اعلان کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے ایک خصوصی نمبر جاری کیا جائے گا جہاں عوام کرپشن کے ثبوت فراہم کرسکیں گے، بظاہر ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے دروازے عام آدمی کے لیے کھولے جائیں گے، کرپشن کے شواہد فراہم کرنے والوں کو کرایہ دیا جائے گا اور انعام بھی دیا جائے گا۔ بلاشبہ اگر ان اعلانات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے تو یہ عوامی اعتماد بحال کرنے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر کرپشن کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اصولی طور پر یہ ایک خوش آئند بات ہے، کیونکہ کرپشن صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ پورے نظام کو کھوکھلا کرنے والا ناسور ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مہم صرف بیانات تک محدود رہے گی یا واقعی عملی اقدامات بھی نظر آئیں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ تربیت اور پرورش کا انسان کی شخصیت پر بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ جب گھر کا سربراہ دیانتدار ہو، حلال و حرام کی تمیز رکھتا ہو اور اپنے عمل سے بچوں کے سامنے اچھی مثال قائم کرے تو اولاد بھی عموماً اسی راستے پر چلتی ہے۔ لیکن اگر معاشرے میں بدعنوانی کو معمول سمجھ لیا جائے تو پھر یہی سوچ اداروں تک منتقل ہوجاتی ہے۔ آج کئی سرکاری دفاتر میں یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے کہ جب ایک سیاسی کارکن چھوٹی سطح پر کرپشن کرتا ہے تو متعلقہ افسر اس سے کہیں زیادہ بدعنوانی کرنے میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی حمایت موجود ہے۔ یہی سوچ اداروں کو کمزور اور نظام کو تباہ کرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک وقت تھا جب کرپشن کا مطلب چند ہزار یا لاکھ روپے کی خرد برد سمجھا جاتا تھا۔ اگر کسی منصوبے کے ایک ہزار روپے میں سے سو یا ڈیڑھ سو روپے غائب ہوجاتے تو اسے بدعنوانی کہا جاتا تھا۔ لیکن اب صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوچکی ہے۔ آج ایسے کئی منصوبے موجود ہیں جن کے لیے کروڑوں روپے مختص ہوتے ہیں، فنڈز جاری بھی ہوجاتے ہیں، ٹھیکیدار ادائیگیاں بھی وصول کرلیتے ہیں، مگر زمینی حقیقت میں اس منصوبے کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جن علاقوں کے لیے منصوبے بنائے جاتے ہیں وہاں کے عوام کو سالہا سال تک یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے نام پر کتنی رقم خرچ دکھائی جاچکی ہے۔
یہ صرف ترقیاتی منصوبوں تک محدود مسئلہ نہیں۔ سرکاری دفاتر میں تبادلوں اور تقرریوں کا نظام بھی شدید سوالات کی زد میں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے میرٹ کی بنیاد پر تبادلوں کا تصور تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اکثر محکموں میں سیاسی سفارش اور پارٹی وابستگی کے بغیر کسی افسر یا اہلکار کا تبادلہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورتحال نے نہ صرف اداروں کی کارکردگی متاثر کی بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح کیا ہے۔
چترال سمیت دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض ٹھیکیدار یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ کام وہ مقامی سطح پر مکمل کرتے ہیں، لیکن ادائیگیوں کے مراحل میں انہیں پشاور کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات متعلقہ محکموں کے بجائے خود ٹھیکیداروں کو “معاملات” طے کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف کرپشن نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کی ناکامی ہے۔
اسی تناظر میں چترال کے سابق رکنِ قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کی مثال اکثر دی جاتی ہے۔ چترال میں ان کے دور کے بعض سڑکوں کے منصوبے آج بھی کامیاب اور معیاری سمجھے جاتے ہیں۔ مقامی حلقوں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے منصوبوں میں ذاتی مفاد یا کمیشن کو ترجیح نہیں دی اور نہ ہی پارٹی کارکنوں کو غیر ضروری مداخلت کی اجازت دی۔ جب قیادت خود دیانتداری کا مظاہرہ کرے تو اس کے مثبت اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کے خلاف کامیابی صرف اعلانات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے شفاف احتساب، آزاد نگرانی، میرٹ پر فیصلے اور بااثر افراد کے خلاف بھی یکساں کارروائی ضروری ہے۔ اگر حکومت واقعی بدعنوانی ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے عوام کو صرف شکایات درج کرانے کی سہولت نہیں بلکہ ان شکایات پر فوری اور واضح کارروائی بھی دکھانا ہوگی۔
عوام اب نعروں سے زیادہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس بار کرپشن کے خلاف مہم واقعی غیر جانبدار اور مؤثر ثابت ہوئی تو یہ نہ صرف حکومت بلکہ پورے نظام کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ورنہ ماضی کی طرح یہ اعلان بھی وقتی سیاسی بیان بن کر رہ جائے گا۔
