
لالچ، خاموشی اور اعتماد کا بحران..نورالدین زنگی کیس سے چترال کے لیے اہم سبق..بشیر حسین آزاد
چترال کے حالیہ نورالدین زنگی کیس نے نہ صرف سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والے مبینہ فراڈ کو بے نقاب کیا بلکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی لالچ، اندھے اعتماد اور غیر ذمہ دارانہ تشہیر جیسے کئی اہم سوالات بھی کھڑے کردیئے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم اپر چترال تورکہو سے تعلق رکھنے والے نورالدین زنگی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے مختلف افراد سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے حاصل کیے، جبکہ مجموعی رقم ایک سے دو ارب روپے تک بتائی جارہی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب نورالدین زنگی اچانک منظرِ عام سے غائب ہوگئے اور بعد ازاں ان کے اغواء کی خبریں سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے ان تمام افراد کو شدید ذہنی اذیت اور خوف میں مبتلا کردیا جنہوں نے اپنی جمع پونجی، جائیدادیں یا قرض لے کر اس شخص کے پاس سرمایہ کاری کی تھی۔ تاہم پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اغواء کا یہ پورا واقعہ مبینہ طور پر ایک ڈرامہ نکلا، جس کے بعد کئی نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ “رقم ڈبل” کرنے کے خواب اور غیر معمولی منافع کی لالچ نے کئی خاندانوں کا سرمایہ خطرے میں ڈال دیا۔ چترال جیسے سادہ لوح اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے معاشرے میں جب کوئی شخص بڑی گاڑیوں، شاہانہ طرزِ زندگی اور اثر و رسوخ کے ساتھ سامنے آتا ہے تو لوگ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام افراد کے ساتھ ساتھ وکلا، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور بعض بااثر خاندانوں نے بھی کروڑوں روپے اس نظام میں لگا دیئے۔
اس سارے معاملے میں صرف ایک فرد کو ذمہ دار قرار دینا شاید کافی نہیں ہوگا۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جارہا ہے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اس شخص کو معاشرے میں قابلِ اعتبار بنانے میں کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے والے بعض افراد، مبینہ طور پر کمیشن لینے والے عناصر، مختلف تقریبات میں اس کی پذیرائی کرنے والے لوگ، اور وہ حلقے جنہوں نے عوام کو اس سرمایہ کاری کی ترغیب دی، سب پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عوامی بحث میں بعض بینک اہلکاروں اور منیجرز کا نام بھی لیا جارہا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر رسمی سرمایہ کاری کے اس نظام کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔ اسی طرح کچھ افراد پر یہ تنقید بھی کی جارہی ہے کہ انہوں نے کمیشن یا ذاتی مفادات کے لیے لوگوں کو خاموش رہنے یا سرمایہ کاری جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ اگر ان الزامات میں صداقت موجود ہے تو یہ معاملہ صرف ایک شخص کے مبینہ فراڈ کا نہیں بلکہ ایک پورے غیر رسمی نیٹ ورک کا بن جاتا ہے، جس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر اربوں روپے لوگوں سے وصول کیے گئے تو وہ سرمایہ کہاں خرچ ہوا؟ کیا اس کے بدلے کوئی جائیداد، کاروبار یا اثاثے موجود ہیں جنہیں فروخت کرکے متاثرین کو رقم واپس کی جاسکے؟ اور کیا سرمایہ کاری کرنے والوں نے کسی قانونی ضمانت، معاہدے یا دستاویزی ثبوت کے بغیر صرف زبانی دعووں پر اعتماد کیا؟
چترال میں اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جہاں لوگ غیر معمولی منافع کے لالچ میں اپنی جمع پونجی کھو بیٹھے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بغیر قانونی تحفظ، سرکاری نگرانی اور شفاف نظام کے کسی بھی سرمایہ کاری اسکیم میں رقم لگانا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کریں، تمام کرداروں کو سامنے لائیں اور اگر کسی نے عوام کو دھوکہ دینے، جھوٹی تشہیر کرنے یا غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں سہولت کاری کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیر معمولی منافع کے دعوے اکثر غیر معمولی خطرات بھی ساتھ لاتے ہیں۔
یہ کیس صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ ایک معاشرتی سبق ہے کہ لالچ، اندھا اعتماد اور بغیر تحقیق سرمایہ کاری آخرکار بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
