کاوشات اقبال

ایک عہدِ تاباں کا اختتام، ایک روشن تاریخ کی یاد..کاوشات اقبال سے ایک ورق..,محمد اقبال شاکر

طلباء اپنے اساتذہ کرام سے صرف علم ہی نہیں سیکھتے ہیں بلکہ ان کی صحبت میں اپنے باطن کی اصلاح، تقویٰ، دیانت اور امانت کی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ استاد اور شاگرد کا تعلق بہت ہی گہرا اور معتبر رہا ہے۔ استاد تعلیمی ڈھانچے کا اہم عنصر ہے۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جس کے ذریعے سے تعلیمی مواد طالب علم تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے ایک استاد کا اعلیٰ اخلاق و کردار، عادت، معاشرت، معاملات، معیارِ تعلیم، معیارِ تربیت، کردار اور گفتار ایسے رکھنے کی کوشش کرنا ہے جو ایک استاد کے شایانِ شان ہے۔

آبشاروں، چشموں، برف پوش پہاڑوں کے درمیان حسین دھرتی میں علم و دانش کا چراغ تلاش کیا جائے تو اس خوبصورت دھرتی کے آسمان پر پہلے روشن ستارے کی طرح چمکتا دمکتا ہوا دکھائی دیتا ہوا نام گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کا ہے، جو نہ صرف ایک عمارت اور سکول کا نام نہیں بلکہ یہ ایک صدی پر محیط چترال کی تعلیمی، تہذیبی اور سماجی ترقی کا زندہ جاوید استعارہ ہے۔ اس سکول نے نامور اساتذہ، بیوروکریٹ، معمار، علماء، وکلاء اور سماجی رہنما پیدا کیے، جنہوں نے آگے چل کر اس پسماندہ ضلع کی قسمت بدل دی۔ یہ ایک تاریخی ورثہ ہی نہیں بلکہ اہلِ چترال کے طلباء کی بھولی بسری یادیں، اساتذہ کی شفقتیں اور اس خطے کے روشن مستقبل کا خواب دفن ہیں۔ یہ ادارہ اپنے شاندار ماضی اور روشن مستقبل کے لیے مضبوط کھڑا ہے، جس کے پیچھے ایک مخلص، صلاحیت اور دور اندیش رہنما کا وژن کارفرما ہوتا ہے۔ جب اس ادارے کی موجودہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں تو پرنسپل عبد الباری صاحب کا نام ایک درخشاں ستارے کی طرح ابھرتا ہے۔ ان کی شخصیت کا دھیمہ پن، ان کی سنجیدگی، تعلیم کے لیے ان کا جہد، نظم و ضبط اور ہم نصابی سرگرمیوں کو جس لگن سے سنوارا تھا، اس سے کون واقف نہیں۔ آپ طلباء کو صرف امتحانی نمبروں تک نہیں دوڑایا بلکہ ان کی اخلاقی تربیت دے کر معاشرے کا ایک باوقار شہری بنانے پر توجہ دی۔ اہلِ چترال، والدین اور طلباء ان کی ان بے لوث خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایسے مخلص معمارِ قوم صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جن کی محنت کا پھل آنے والی کئی نسلیں کھاتی ہیں۔

کچھ شخصیات کسی ادارے میں صرف ایک عہدے پر فائز نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس ادارے کی پہچان بن جاتی ہیں۔ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال سے عبد الباری صاحب کا تبادلہ ایک ایسے ہی سنہری دور کا اختتام ہے، جس نے سکول کی تاریخ پر اپنے خوبصورت نقوش چھوڑے ہیں۔ سرکاری ملازمت میں تبادلہ ایک فطری عمل ہے لیکن عبد الباری پرنسپل صاحب جیسے شفیق رہنما اور مخلص سربراہ کا رخصت ہونا سکول، اساتذہ اور طلباء کے لیے ایک انتہائی جذباتی اور اداس لمحہ ہے۔ انہوں نے سکول صرف چلایا نہیں بلکہ اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ ان کی سکھائی ہوئی اقدار، ان کی محنت، ان کا وژن ہمیشہ اس ادارے کی دیواروں میں گونجتا رہے گا۔ نئے تعلیمی سفر کے لیے ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور چترال کی تعلیمی تاریخ ان کی خدمات پر ہمیشہ ناز کرے گی۔

الوداع، الوداع، اے معمارِ قوم، الوداع!

اللہ ان کی عمر دراز فرمائے اور ان کے علمی سفر کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔