مضامین

*چترال کا ایک فرزند، ایک عزم اور ایک خواب*۔۔*منشیات سے پاک چترال کے لیے ڈاکٹر رفیق علی خان کی جدوجہد*۔۔تحریر: ابو سلمان محمد قاسم

کچھ لوگ اپنے لیے جیتے ہیں، کچھ اپنے خاندان کے لیے، کچھ اپنے شہر کے لیے، مگر تاریخ میں جگہ اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے لیے جیتے ہیں۔
چترال کی مٹی نے ایسے بے شمار قابلِ فخر فرزند پیدا کیے ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی دل سے اپنے وطن، اپنی وادی، اپنے معاشرے اور اپنی نئی نسل سے جڑے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر رفیق علی خان بھی ایسی ہی ایک قابلِ ستائش شخصیت ہیں، جنہوں نے فاصلے کو اپنے جذبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
وہ چترال سے دور رہتے ہیں، مگر اُن کا دل چترال کے اُن نوجوانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے جو آج منشیات کے بڑھتے ہوئے ناسور کی زد میں ہیں۔
یہ صرف ایک شخص کی جدوجہد نہیں؛ یہ دراصل ایک فکر، ایک درد اور ایک مشن ہے۔
ڈاکٹر رفیق علی خان نے “چترال یونائٹڈ فورم” کے پلیٹ فارم سے منشیات کے خلاف ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد محض منشیات کے خلاف آواز اٹھانا نہیں، بلکہ چترال کو منشیات سے پاک دیکھنا ہے۔ اس فورم کا دوسرا نام “چترال ڈرگ کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن سوسائٹی” ہے، جو چترال میں منشیات کے سدباب، آگاہی، بحالی اور متاثرہ افراد کو اس دلدل سے نکالنے کے مقصد سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
چونکہ ڈاکٹر رفیق علی خان خود چترال سے باہر مقیم ہیں، اس لیے چترال میں اس تنظیم کی عملی قیادت اور سربراہی چترال کے معروف قانون دان نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ صاحب کے پاس ہے، جو اس تنظیم کے صدر اور سربراہ کی حیثیت سے اس مشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اُن کی قیادت اور نگرانی میں چترال ڈرگ کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن سوسائٹی منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے، اس ناسور کے سدباب اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔
یوں ڈاکٹر رفیق علی خان کا خواب اور نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ صاحب کی مقامی قیادت ایک ہی مقصد کے لیے کوشاں ہے: ایک ایسا چترال جہاں ہماری نوجوان نسل منشیات کی لعنت سے محفوظ ہو۔
چاہے وہ اپر چترال ہو یا لوئر چترال، اُن کا خواب ایک ایسا چترال ہے جہاں کوئی نوجوان نشے کا شکار نہ ہو، کوئی طالب علم اس لعنت کی طرف نہ جائے اور کوئی خاندان اپنے پیارے کو منشیات کی وجہ سے برباد ہوتا نہ دیکھے۔
*یہ خواب آسان نہیں*
منشیات صرف ایک فرد کو تباہ نہیں کرتیں؛ یہ پورے خاندان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ایک نوجوان جب نشے کی گرفت میں آتا ہے تو صرف اُس کی صحت متاثر نہیں ہوتی، اُس کے والدین کی امیدیں، بہن بھائیوں کے خواب، گھر کا سکون اور پورے معاشرے کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔
منشیات ایک فرد کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کا مسئلہ ہیں۔
اور جب مسئلہ اجتماعی ہو تو اس کا مقابلہ بھی اجتماعی قوت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہاں ڈاکٹر رفیق علی خان کی جدوجہد ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔
دیارِ غیر میں رہتے ہوئے، اپنی مصروفیات کے باوجود، اپنے وسائل میں سے حصہ نکال کر، اپنے آرام اور ضروریات کو محدود کرکے وہ چترال کی نئی نسل کو اس دلدل سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جذبہ قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔
اور دوسری طرف چترال میں نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ صاحب کی سربراہی میں اس مشن کو عملی سطح پر آگے بڑھانا اس بات کی علامت ہے کہ نیک مقصد کے لیے اگر اخلاص، قیادت اور اجتماعی تعاون میسر ہو تو فاصلے بھی رکاوٹ نہیں بنتے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ایک شخص دور بیٹھ کر اپنے وطن کے نوجوانوں کے لیے اتنا درد محسوس کر سکتا ہے تو ہم، جو اسی معاشرے میں رہتے ہیں، اپنی ذمہ داری سے کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
کیا ہمارا فرض صرف یہ ہے کہ ہم منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر افسوس کریں؟
کیا ہمارا کردار صرف سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرنے تک محدود ہونا چاہیے؟
کیا ہم اُس وقت تک خاموش رہیں گے جب تک یہ آگ ہمارے اپنے دروازے تک نہیں پہنچ جاتی؟
نہیں!
یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ میدان میں اترنے کا ہے۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اس تباہ کن لعنت سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اور ایک چترالی کی حیثیت سے بھی یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے مستقبل کی حفاظت کریں۔
ہم میں سے ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس جدوجہد کا حصہ بن سکتا ہے۔
کوئی آگاہی پھیلا سکتا ہے، کوئی نوجوانوں کی رہنمائی کر سکتا ہے، کوئی والدین میں شعور پیدا کر سکتا ہے، کوئی متاثرہ خاندان کا سہارا بن سکتا ہے، کوئی علاج اور بحالی کے عمل میں مدد دے سکتا ہے، کوئی متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے اور کوئی اپنے حلقۂ اثر میں منشیات کے خلاف مضبوط آواز بن سکتا ہے۔
کردار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، نیت بڑی ہونی چاہیے۔
ہمیں منشیات کے شکار نوجوان کو صرف مجرم کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے؛ بہت سے لوگ اس دلدل میں پھنس چکے ہیں اور انہیں نفرت نہیں، علاج، رہنمائی، حوصلہ اور واپسی کا راستہ چاہیے۔
جو پھنس چکے ہیں، انہیں نکالنا ہے۔
جو قریب پہنچ چکے ہیں، انہیں روکنا ہے۔
اور جو ابھی محفوظ ہیں، انہیں اس خطرے سے آگاہ کرنا ہے۔
یہی ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے۔
آج چترال کے والدین، اساتذہ، علماء، ڈاکٹرز، سماجی کارکنان، نوجوان، سیاسی و سماجی رہنما، تاجر اور ہر باشعور شہری کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس جنگ کا سپاہی بننا ہوگا۔
کیونکہ اگر ہم نے آج اپنی نسل کو نہ بچایا تو کل ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ چترال کی خوبصورت وادیوں میں بہنے والی ندیاں تو پاکیزہ ہیں ہی، ہماری نئی نسل کے کردار، سوچ اور زندگی بھی پاکیزہ رہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو نشے سے نہیں، تعلیم سے جوڑنا ہے۔
انہیں تنہائی سے نہیں، مثبت سرگرمیوں سے جوڑنا ہے۔
انہیں مایوسی سے نہیں، امید سے جوڑنا ہے۔
انہیں تباہی کے راستے سے نکال کر تعلیم، ہنر، کھیل، تحقیق، خدمت اور تعمیرِ وطن کے راستے پر لانا ہے۔
اور اس عظیم مقصد کے لیے ڈاکٹر رفیق علی خان اور چترالی یونائٹڈ فورم،چترال ڈرگ کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن سوسائٹی جیسے پلیٹ فارم قابلِ تعاون ہیں، جبکہ چترال میں نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ صاحب کی سربراہی اور نگرانی اس جدوجہد کو مقامی سطح پر منظم انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ہمیں اختلافات سے بالاتر ہوکر اس مقصد کو دیکھنا ہوگا۔ یہ کسی فرد، جماعت یا گروہ کی جنگ نہیں؛ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔
آئیے!
ہم اپنے قابلِ فخر فرزند ڈاکٹر رفیق علی خان کی آواز کو اپنی آواز بنائیں۔
نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ صاحب اور اس مشن سے وابستہ تمام مخلص افراد کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اپنی استطاعت کے مطابق اس مشن کا ساتھ دیں۔
اپنے گھروں میں منشیات کے خلاف شعور پیدا کریں۔
اپنے بچوں سے بات کریں۔
اپنے نوجوانوں پر نظر رکھیں۔
متاثرہ افراد کو تنہا نہ چھوڑیں۔
متعلقہ اداروں اور بحالی کے مراکز سے تعاون کریں۔
اور جہاں کہیں منشیات کے خلاف مثبت اور قانونی جدوجہد ہو، وہاں اپنی بساط کے مطابق اس کا حصہ بنیں۔
کیونکہ چترال صرف پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کا نام نہیں؛ چترال ہماری نسلوں کا نام ہے۔
یہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہے۔
یہ ہمارے خوابوں کی سرزمین ہے۔
اور اس سرزمین کو منشیات کے ناسور سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئیے، آج عہد کریں کہ ہم منشیات کے خلاف صرف بات نہیں کریں گے، کردار ادا کریں گے۔
صرف افسوس نہیں کریں گے، عملی قدم اٹھائیں گے۔
صرف تماشائی نہیں بنیں گے، ہراول دستے کا حصہ بنیں گے۔
اور ایک دن ان شاء اللہ وہ صبح ضرور طلوع ہوگی جب ہم فخر سے کہیں گےکہ
یہ ہے ہمارا چترال
تعلیم یافتہ چترال، صحت مند چترال، پُرامن چترال
اور منشیات سے پاک چترال!
یہ خواب صرف ڈاکٹر رفیق علی خان کا نہیں ہونا چاہیے؛
یہ خواب ہر چترالی کا خواب بننا چاہیے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔