
ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون ہے: وجیہ الدین
چترال (چترال ایکسپریس) جماعت اسلامی چترال لوئر کے امیر وجیہ الدین نے مرکزی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیا ہے۔
اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا
کہ مرکزی حکومت کا یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے اور ہر جمہوری سوچ رکھنے والے شخص پر اس کی مخالفت لازم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو طاقت اور انتظامی اختیارات کے استعمال کے بجائے سیاسی مفاہمت اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
امیر جماعت اسلامی چترال لوئر نے مزید کہا:ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان موجود اختلافات کو مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے حل کیا جاتا اور منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا، لیکن افسوس کہ سیاسی مفاہمت کے بجائے غیر معمولی اقدامات کا سہارا لیا گیا۔
جمہوریت کا اصل حسن اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے میں ہے، طاقت کے زور پر مخالفین کو دبانے میں نہیں سچائی اور جمہوریت کا بقا ہے۔
سیاسی اختلافات پر غیر جمہوری طریقے اپنانا ایک خطرناک روایت ہے؛ آج اگر یہ قدم ایک صوبے کے خلاف اٹھایا گیا ہے تو کل کو کوئی دوسرا صوبہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
حکومتیں اور اقتدار عارضی ہوتے ہیں، مگر غلط روایات کے اثرات نسلوں تک رہتے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے شدید مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی کا نفاذ فوری ختم کرکے طاقت، دباؤ اور محاذ آرائی کے بجائے جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
”عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔”
