کاوشات اقبال

زمانے کی دھوپ۔۔۔کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر

زمانے کی دھوپ۔۔۔

کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

زندگی خارجی حقیقتوں سے موافقت کرنے کا نام ہے۔ سورج اور ہوا اور بارش اور پہاڑ اور سمندر سے موافقت کرکے ہم اس دنیا میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول انسانوں کے بارے میں بھی ہے۔ جب معاشرہ انسانوں سے موافقت کے اصول پر معاملات کرے تو دنیا خوشی اور عافیت کا گہوارہ بن جائے گی۔ اس دنیا میں عافیت کی زندگی گزارنے کا یہی واحد اور کامیاب اصول ہے کہ لوگوں سے خود ان کے لحاظ کے تحت معاملہ کرو، نہ کہ اپنے لحاظ سے۔

زمانے کی دھوپ ایک معروف اور خوبصورت محاورہ ہے، جس کا مطلب زندگی کا سرد و گرم، کم و بیش، اتار چڑھاؤ اور تلخ و شیریں تجربات ہیں۔ یہ عبارت عام طور پر زندگی کی مشکلات اور حالات کا مقابلہ کرکے حاصل ہونے والے تجربے اور پختگی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ میں نے زمانے کی دھوپ دیکھی ہے، تو وہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزر چکا ہے، اب وہ ایک سمجھ دار اور تجربہ کار انسان بن چکا ہے۔ زمانے کی دھوپ زندگی کی سختیوں، تکالیف اور چیلنجز کی علامت ہے، جس کا سامنا کرکے انسان مضبوط اور طاقتور بن جاتا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی صورتحال، کبھی خوشی، کبھی غم اور پریشانی، زمانے کی دھوپ سے جل کر وہ کوئلہ ہو جاتے ہیں جو اندر سے کمزور ہیں، لیکن باہمت ہوتے ہیں، وہ خالص سونا بن کر چمکتے ہیں۔ بڑے بزرگ اکثر اپنے سفید بال دکھا کر کہتے ہیں، یہ بال یوں ہی دھوپ میں سفید نہیں ہوئے، یعنی انہوں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے گزارا ہے اور وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔

خود اعتمادی خدا کی دی ہوئی ایک صفت ہے، وہ ہر ایک انسان کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ البتہ کچھ لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ خدا نے انسان کو ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتوں سے بھرپور پیدا کیا ہے، مگر ان کو استعمال کرنا صرف ان بلند ہمت، بلند حوصلہ لوگوں کے لیے مقدر ہے، جو اچھے فکر و خیال کے حامل ہوتے ہیں، جو منفی طرزِ فکر سے آخری حد تک پاک ہوں۔ منصوبہ حال میں بنایا جاتا ہے، مگر اس کا نتیجہ مستقبل میں ملتا ہے۔ منصوبہ بندی حقیقتاً نام ہی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ہے۔ اس قسم کے کامیاب منصوبے بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وقتی سوچ کی بجائے مستقبل کی سوچ سے کام لیا جائے، جذبۂ ہاتیت کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے، حال کے مسائل کو اہمیت دینے سے زیادہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا لحاظ کیا جائے تو نسلیں مستحکم اور مضبوط بن سکتی ہیں۔

زندگی صرف پھولوں کی سیج یا نرم و نازک راستوں کا نام نہیں، بلکہ یہ دھوپ چھاؤں کا ایک ایسا خوبصورت امتزاج ہے، جہاں خوشیوں کے رنگوں کو نمایاں کرنے کے لیے تلخیوں کا پس منظر ہے۔ بےحد ضروری ہے کہ زمانے کی تلخیاں انسان کے خدوخال کو خراب اور ذائقے کو ترش کرنے کے لیے نہیں آتیں۔۔۔ بلکہ یہ روح کے شعور کو بیدار کرنے اور انسان کو مضبوط بنانے کا کام کرتی ہیں۔ اس لیے دنیا میں اب تک تجربے کا کوئی نعم البدل نہ لا سکا۔۔۔ نہ لا سکے گا۔۔۔ دھوپ میں پلے سفید بال زمانے کی دھوپ سے جل کر سفید ہیں۔۔۔۔ اس لیے تجربہ مسلسل جدوجہد کا نچوڑ ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔