ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …..پولیس کی فریاد

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……



اٹک کے اُس پار جاکر کسی سے بات کی جائے تو اُدھر کے لوگ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس میں اصلاحات ہوگئے ہیں ظلم ختم ہوگیا ہے کو ہستان ،بٹگرام چترال اور سوات میں کسی سے بات کریں تو معلوم ہوتاہے کہ پنجاب میں جھوٹ بہت بولا جاتاہے خیبرپختونخوا کے بارے میں وہاں کے لوگ کئی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اس لئے جھوٹ بولتے ہیں خیبر پختونخوا کے پولیس دربار میں اب بھی کوئی سپاہی اپنا مسئلہ پیش نہیں کرسکتا خیبر پختونخوا میں پولیس کے اندر ناانصافیاں ختم نہیں ہوئیں تو پولیس کی طرف سے دوسروں کے خلاف نا انصافیاں کس طرح ختم ہوجائینگی
نہ تو بدلہ نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبار انقلاب آسما ں کرلوں
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پولیس آرڈر 2002 ختم ہوا انوسٹی گیشن ،پراسکیوشن اور اپر یشن ایک ہی افیسر کی ماتحتی میں نہیں آئے 40 من چرس ، 2 کلو ہیر وئین اور دو ہزار خودکش جیکٹ پکڑے جاتے ہیں مگر ملزمان کو باعزت بری کیا جاتاہے کیونکہ پکڑنے والا کوئی اور ہے تفتیش کرنے والا کوئی اور ہے عدالت میں اس مقدمے کی پیروی کر نے والا کوئی اور ہے تینوں میںآپس کی پکی دشمنی ہے اور عدالت تینوں کی الگ الگ کمزوریوں سے فائد ہ اُٹھا کر ملزمان کو چھوڑ دیتی ہے جب تک پولیس آرڈر 2002 ختم نہیں ہوگا پولیس کا نظام درست نہیں ہوسکتا یہ تمام خرابیوں کی جڑہے ملک میں دہشت گردی ،سمگلنگ اور بدامنی کو فروغ دینے کے لئے پولیس کو توڑ کر 3 ٹکڑے کردیا گیا تھا اب تک وہ ٹکڑے یکجا نہیں ہوئے 2 کلو گرام ہیروئین کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ملزمان اس لئے بری ہوگئے کہ ایف آئی آر کے وقت اور انوسٹی گیشن کے رو ز نامچہ میں دئیے گئے وقت ایک جیسے نہیں تھے ایک جگہ 6 بجے اور دوسری جگہ سات بجے کا وقت لکھا تھا پولیس دوسروں کو انصاف دینے سے پہلے خود انصاف کی تلاش میں ہے دہشت گردی کے بدترین دور میں پولیس کے لئے رِسک الاؤنس کا اعلا ن کیا گیا مگر یہ الاؤنس اُن اضلاع کی پولیس کو مل گیا جن اضلاع کے ایس پی نے اوپر تعلقات بنا کر اپنے جوانوں کے لئے منظور کروائے جن اضلاع کے ایس پی صاحبان نے اوپر تعلقات بناکر الاؤنس لینے کی کوشش نہیں کی اُن اضلاع کے جواں 6 سال گذرنے کے باوجود رسک الاؤنس سے محروم ہیں چترال کا ضلع اس کی مثال ہے ایسے اضلاع اور بھی ہیں رسک الاؤنس جان پرکھیل جانے کے لئے دیا جاتاہے اس میں اگر سفارش ،کمیشن اور پسند نا پسند کو مد نظر رکھا جائے تو پھر انصاف کس طرح ہوگا اور کس کے ساتھ انصاف ہوگا؟ پولیس کے جوان کو سفر خرچ کا بل 3 سال بعد یا 4سال بعد ملا کرتا تھا اس کے خلاف شکایتیں منظر عام پر آئیں تو ٹی اے / ڈی اے ہر تین ماہ بعد ادا کرنے کے بجائے اس کے قانون کو ختم کردیا گیا اور 3 ہزار وپے کا سفر خرچ تنخواہ میں شامل کیاگیا یہ رقم پشاور میں سروس کر نے والے جوان کو بھی ملتی ہے کوہستان میں سروس کرنے والے کوبھی ملتی ہے ایک جوان سال میں ایک بھی سفر نہیں کرتا دوسرا جوان سا ل میں 36 بار سفر کرتاہے نیز پشاور میں سروس کرنے والا تھا نہ متھر ا ،پشنحرہ ،داودزئی اور ریگی سے سنٹرل پولیس آفس آتاہے لوئر کورٹ یاہائی کورٹ تک جاتا ہے کوہستا ن اور چترال میں سروس کرنے والا وہاں سے 370 کلومیٹر کاسفر 12گھنٹوں میں طے کر کے آتا ہے ہوٹل میں ٹھہرتا ہے 3دن یا 4 دن لگا کرواپس جاتاہے اُس کے ایک سفر کا خرچ 7 ہزار روپے سے کم نہیں ہوتا اور ایسے پولیس اہلکار بھی ہیں جو مہینے میں 2 بار یا 3 بار سفر کرتے ہیں کوہستان سے آنے والا بھی مہینے میں 3 ہزار روپے لے لیتا ہے اور ظلم یہ ہے کہ اس اناانصافی کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتا اب وہ جیب سے تو خرچ نہیں کریگا جس کا کام ہوگا جس کے کاغذات ہونگے جس کے لئے گواہی اور شہادت ہوگی اُسی سے لیکر اپنا خرچ پورا کریگا مطلب یہ ہے کہ سسٹم کو بہتر کر نے کی جگہ مزید خراب اور برباد کردیا گیا ہے انصاف کے نا م پر مزیدبے انصافی کئی گئی ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت نے اطلاعات او ر شکایا ت کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں شکا یا ت سیل کے نام پر جو کمر ے بنائے گئے ہیں وہاں شکایتوں کو درج کرنے اور اوپر پہنچانے کاکوئی انتظام نہیں پولیس کا سپاہی ،ایک غریب آدمی یا عام شہر ی شکایت کر ہی نہیں سکتا اُس کی شکایت درج ہی نہیں ہوتی شکایا ت سیل کے نام پر کمرے یو این ڈی پی کو دکھانے کے لئے بنائے گئے ہیں کوہستان کے کسی پولیس سٹیشن کا نہ سپاہی شکایت کر سکتا ہے نہ کوہستان کاکوئی عام شہری شکایت کر سکتا ہے پولیس کی فریاد یہ ہے کہ پولیس کو فریاد کا حق دیاجائے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پولیس کے سسٹم میں اپنے جوان کے ساتھ انصاف کا سلوک کر نے کی گنجائش نہ ہو اور وہ دوسروں کو انصاف فراہم کرے آپ کا صوبہ ایک ضلع میں پولیس کو رسک دیتاہے دوسرے ضلع میں نہیں دیتا آپ کے صوبے کی پولیس اپنی فورس کے 100 فیصد جوانوں کو یکساں شرح 3 ہزار ماہانہ سفر خرچ دیتی ہے ان میں سے 10 فیصد سفر کرتے ہیں 90 فیصد سفر ہی نہیں کرتے اور جو سفر کرنے والے ہیں وہ مہینے میں 12 دن یا 15 دن سفر پر ہوتے ہیں آپ کی پولیس کا قانون دونوں کو یکسان قر ار دیتا ہے یا کوہستان سے پشاو ر کا سفر کر نے والا اور پشاور شہر کے اندر سفر کرنے والا دونوں پولیس رولز کے مطابق برابر ہیں یہ تو انصاف ہر گز نہیں کون کہے گا کہ یہ انصاف ہے سچی بات یہ ہے کہ پنجاب والوں کو خیبر پختونخوا کی پولیس میں بری تبدیلی نظر آئی ہے کیونکہ اُن لوگوں نے خیبر پختونخوا کا سفر نہیں کیا لوگوں سے نہیں ملے پولیس کے جوانوں سے نہیں ملے حالات کو نہیں دیکھا فیس بُک ،ٹوئیٹر اور انٹر نیٹ پرسب اچھا نظر آتا ہے ساغر صدیقی سے بصد معذر ت کے ساتھ
مجھ کو نظر آئے ہیں قریہ مہتاب میں گڑھے
اُن کو پتھروں میں بھی رعنا ئیا ں ملیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق