ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیدا د …..نرسنگ کے سکا لر شپ

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ….


خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک نے صوبے کے اندر صحت کی سہولیات میں بہتری لانے کے لئے 900 نرس اور 500 میڈیکل ٹیکنیشن بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے یہ بہت خوش آئند ہ بات ہے اللہ کرے کہ اس پر عملد رآمد کا آغاز ہواور اگلے چند مہینوں کے اندر بھرتیوں کا عمل بھی مکمل ہوجائے مروجہ دستور کے مطابق موجودہ حکومت ہر کام اچھی کرتی ہے اور گذشتہ حکومت کا ہر کام غلط ہوتاہے نرسنگ اور ہیلتھ ٹیکنیشن کی آسامیاں مشتہر ہونگی تو بہترین افرادی قوت راولپنڈی ، اسلام اباد،لاہور اور کراچی کے تربیتی اداروں سے آئیگی یہ وہ نوجوان بیٹے اور بیٹیاں ہونگی جنکو 2011 ء میں سکالرشپ دیدیے گئے تھے یہ سکا لر شپ 2015 ء تک ملتے تھے 2015 ء میں موجودہ حکومت نے سکالر شپ ختم کئے اور خیبر پختونخوا سے سکا لر شپ کی اُمید پر داخلہ لینے والوں کو داخلہ ملنے ، اُن کا سبق شروع ہونے کے بعد ختم کر دیے گئے پختونخوا ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ارباب اختیار کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نے سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری اداروں سے باہر تربیت حاصل کر نے والوں کے سکالرشپ بند کرنے کا حکم دیا ہے رحمان میڈیکل سنٹر،نارتھ ویسٹ ہسپتال اور دیگر تربیتی اداروں سے تربیت حاصل کرنے والے سکالرشپ نہیں لے سکینگے صوبائی حکومت کی نوٹس میںیہ بات نہیں لائی گئی کہ ہمارے صوبے میں تربیتی اداروں کی زیادہ تعداد سرکاری سیکٹر میں نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ سیکٹر میں ہے نیز افرادی قوت کی تربیت کا کام لاہور ، کراچی ،اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑے تربیتی اداروں میں ہوتا ہے سکالرشپ دیتے ہوئے اداروں کی ملکیتی تقسیم یا جغرافیائی تقسیم نہیں ہوتی 2015 ء میں شفا انٹر نیشنل اسلام آباد کے تربیتی ادارے سے میڈیکل ٹیکنیشن کے امتحان میں گولڈ مڈل لینے والے طالب علم کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے حیدر علی خان کو 2011 ء سے 2015 ء تک صوبائی حکومت نے سکالرشپ دیا اور اُس نے صوبے کا نام روشن کیا اس وقت خیبر پختونخوا کے 138 طلبہ اور طالبات ملک کے اندر مختلف نجی اداروں میں نرسنگ اور میڈیکل ٹیکنشن کی تعلیم وتربیت کے لئے داخل ہیں وزیراعلیٰ کی طرف سے سکالرشپ ختم کر نے کا اعلان ان کے والدین پر بجلی بن کر گرا ہے اُ ن میں سے دوتہائی اپنا داخلہ منسوخ کر کے گھروں کولوٹ جائینگے اور اُ ن کے والدین ،عزیز واقربا ء سابقہ حکومت کو دعائیں دینگے جس نے سکالر شپ جامع اور مفید پروگرام غریبوں کے لئے شروع کیا تھا اس پروگرام کے دو بڑے مقاصد تھے ایک مقصد یہ تھا کہ ملک کے اعلیٰ ترین تربیتی اداروں میں خیبر پختونخوا کے غریب عوام کی رسائی ہو غریب لوگوں کی اولاد کو اعلیٰ تربیتی اداروں کے تعلیم وتربیت حاصل کر نے کا موقع ملے اور خیبر پختونخوا کے غریب شہریوں کو ملک کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنا مقام حاصل کر نے کے مواقع میسر ہوں اس کادوسرا مقصد یہ تھا کہ صوبے کے اندر صحت کی جتنی سہولیات ہیں ان ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین تربیتی اداروں سے تربیت لیکر آنے والے نوجوان بیٹے اور بیٹیاں دستیاب ہوں اور امیر حید ر خان ہوتی کے سکالر شپ پروگرام کے تحت گذشتہ چار سالوں کے اندر دونوں مقاصد کے حصول میں بہت مد د ملی اب بھی لوگ امیر حیدر خا ن ہوتی کو دعائیں دیتے ہیں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کودعائیں دیتے ہیں موجودہ حکومت کی طرف سے سکالر شپ پروگرام بند کر نے کے بعد سابقہ حکومت کی نیک نا می میں مزید اضافہ ہوا ہے اور موجودہ حکومت کے گراف کو مزیز گرا دیا گیا ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اقتدار سنبھالاتو ان کے سامنے دو بڑے اہداف تھے تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کو اولیت دی جارہی تھی ڈھائی سال گذر نے کے بعد دونوں شعبوں میں انتشار ،افر اتفر ی ، بد نظمی اور بد انتظامی عروج پر پہنچ گئی ہے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لئے ڈاکٹر عطا ء الرحمن کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا تھا اب تک اُس کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا ابتدائی اور سیکینڈری ایجوکیشن کے شعبے میں محکمے کی اندرونی خامیوں کو دور کرنے کی جگہ باہر سے مانیٹرنگ سسٹم لایا گیا جو نتائج دینے میں کامیاب نہ ہوسکی صحت کے شعبے میں کسی ہوم ورک کے بغیر اعلانات کئے گئے ان اعلانات کے منفی نتائج برآمد ہوئے انتظامی ڈھانچہ تباہی سے دوچار ہوا پولیو مہم اور ڈونر ز کی مدد سے چلنے والے 7 بڑے پروگرام ناکامی سے دوچار ہوئے جب کہیں سے بھی اصلاح اور بہتری کی خبر نہیںآئی تو حکومت نے نرسنگ اور میڈیکل ٹیکنیشن کی تربیت کے لئے سابقہ دور سے مختص سکالرشپ منسوخ کرنے کانیا تنازعہ پیدا کیا جو نہ صوبے کے مفاد میں ہے اور نہ تحریک انصاف کی حکومت کے مفاد میں ہے نہ پارٹی کے مفاد میں ہے قائد حز ب اختلاف مولانا لطف الرحمن ،اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار بابک ، پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر سلیم خان اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کو نرسنگ کے سکالر شپ کا مسئلہ صوبائی اسمبلی میں ضرور اُٹھا نا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق