محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..الحان ؔ کی شاعری

…….محمد جاوید حیاتؔ …….


آرزو ظالم ہوتی ہے تھکادیتی ہے مجھے ایک صرف ایک آرزو تھکا دیتی ہے وہ اچھا لکھا ری ہونے کی آرزو ہے ساری زندگی اس آرزو کی تکمیل میں سرگردان رہا ہوں۔میرے سامنے جب کسی لکھاری کی تخلیق آتی ہے تو میں’’بہ چشم رشک‘‘ اس کو دیکھتا ہوں اور یہ آرزو پھر سے جنم لیتی ہے۔ کہ کاش میں لکھاری ہو تا۔ چترال میں لکھاریوں کی کمی نہیں۔ اس زرخیز زمین میں تخلیق کے جو یا بہت ہیں عظیم لکھاری ہیں۔ امید ’’افزا‘‘ ہے کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ضائع ہونے نہیں دینگے۔ ان کی پرورش اور ابیاری ہورہی ہے۔ مجھے جو کتاب ملتی ہے پڑھتا ہوں سردھنتاہوں۔ کتاب کی حد تک جا کر کسی شاعر یا ادیب کا تعارف ہوتا ہے ۔ یہ میری گمنامی کی قوی دلیل ہے۔ الحانؔ صاحب کا نام میں نے اس وقت سنا جب میرے برخوردار نے اس کی شاعری مجھے تھمادی۔ میں نے پڑھ لیا یہ میری مجبوری تھی میں اپنا کمزور قلم اٹھانے پہ مجبور ہوا۔ یہ کتاب کا معیار تھا ۔ کہہ رہا تھا کہ میں ایسی کتاب ہوں کہ مجھ پر لکھو۔۔۔۔نوجوان وہ کہلاتا ہے جس کے جذبات بھی جوان ہوں ۔ الحانؔ کے جذبات پڑھنے سے اس کی جوانی پہ یقین ہو تا ہے۔ الفاظ جذبات کے ترجمان ہوتے ہیں۔شاعری ویسے جنم نہیں لیتی صلاحیت ، جذبات ، محرکات ، ذھن اور ماحول اس کی وجہ بن جاتے ہیں۔اور یہ وجہ دلیل بن جاتی ہے ۔ الحانؔ بھی ان سب مراحل سے گزرا ہوگا۔ اس کی عمر کے لوگ سرسری جہاں سے گزرتے ہیں اوروقت ضائع کرتے ہیں۔ اس نے وقت ضائع نہیں کیا اور نہ سرسری جہاں سے گزرااس نے سب کچھ محسوس کیا ۔ بلکہ کائنات کی رنگینی کو پی گیا۔ اس نے چاند کو نکلتے دیکھا،سورج کو ڈوبتے دیکھا،بہار آتی دیکھا خزان کو جاتی دیکھا ، پھولوں کو کھلتے دیکھا، ہو ا چلی ، بارش تھمی، اولے گرے ، بلبل چہکے، تتلیاں اُڑیں ، اس نے دیکھا ، محسوس کیا ،تجربہ کیا، اُنھوں نے اُٹھتی جوانی دیکھی،نشیلی آنکھوں میں مستی دیکھی، قد کاٹ کی حشر سامانیاں دیکھی۔ عمزہ، عشوہ، ادا دیکھی۔اٹکھلیاں ، ضیاء پاشیاں اور مٹی کے اس بت کی حشرسامانیاں دیکھی محسوس کیا۔ تو شاعری نے جنم لی۔۔۔۔ اس کو کسی نے ’’الحان‘‘ کہا وہ اس آواز میں ڈوب گیا۔ اس نے خواب سجایا اور خوابوں کی شہزادی کی تعریف شاعری بن کر ٹپکا۔۔۔ الحانؔ کی شاعری ’’آرزو لیوا‘‘ ہے۔ پڑھنے والا بیسیوں دفعہ ’’آہ‘‘ اور ’’واہ‘‘ کر تاہے۔ اس نے حسن کو محسوس کیا یہ احساس تعزل بن گیااور لئے دیتی شاعری اس کی پہچان بن گئی۔ وہ ابھی کائنات کی رنگینیوں کا تجربہ نہیں رکھتا۔ اس کے ہاں صرف غم جانا ن ہے غم دوران کا مزہ چھکا نہیں ۔ اس لئے اگر کہیں غم دوران کا تعارف ہے تو وہ الفاظ کاگو رکھ دھندہ ہے۔
بے درد زمانہ گوڑی چو کی تن غموکڑئے
ستھمان دیہہ زندگیولش کوری پھار دوم
یہ اس کے خیالات کی جولانیاں ہیں وہ زندگی کو انجائی کر رہاہے۔جو ن کیٹس نے اپنی ما ں کو خط لکھا۔ لکھا ماں میرے خیالات میں انقلاب آگیا ہے یقین ہے سمراج میرا مخالف ہوگا ماں میں کیا کروں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔دوسرا مجموعہ ٓا یا مگر کیٹس عا لم خاک باد کو الوداع کہہ گیا،یہ ایسے ایسوں کی عجیب دنیا ہوتی ہے وہ ان دنیا ؤں میں قلانچیں مارتے ہیں۔ان کی ان شدت جذبات کو ما حول ملنا چاہیئے۔ الحاں بھی اظہار کی دنیا میں آکر شاعر بن گیا اور یہ اس کی پہچان ہے۔
الحان نے اٹھتی زندگی کو احساس میں ڈھلتی دیکھا اور تجربہ کیا اس کی عمر میں نیند بہت شیر ین ہو تی ہے۔مگر الحان اس سے کو سوں دور ہے۔
لہذا عر ض ہے کہ اس کو کچھ ہو گیا ہے۔
تو کیو ت گو س اے مہ شرین اورارو
کیچہ ہمیش متے سجین اور ارو
الحان کی شاعری میں پھول جھڑیاں ہیں۔ پتنگے ہیں شمع ہے ( بوقلمو نیا ں)ہیں۔ خوبصورت (تشبیات استعارے) ہیں۔میں ایک شعر کا اردو میں ترجمہ کرتا ہوں۔
تو ہمیش پورو تن کی کوس جم نو بو یا قست
تو نوکر ریکو مخو شیلیلوگیاؤ چھوغیران یور
ترجمہ؛ آرزو ہے جان آرزو کہ میک اپ کرو….چہرہ انور کو دیسی(کریم) سے چھپاؤ ۔تو الہڑ ہے لا پرواہ ہے یہ سورج شریر گلاب چہرے کی دلکشی چراتا ہے ۔یہ سب شوخ کرنیں تیرے چہرے سے ادھارہیں۔بس چھپا ؤچہرہ انور کو سورج کو درماندہ کر…………..
الحان کی شاعری نازک اور سجیلاہے الفاظ ادھار نہیں خیالات سے سرقہ کی بو نہیں آتی ۔تہہ باتہہ بامعنی ہیں۔تجربہ آگے اور پختہ کرے گا۔الحان ابھی خود منصب دلبری میں ہے اس کو آگ میں سے گزرنا ہے اور لخت لخت ہونا ہے۔میں کاش الحان جیسا شاعر ہوتا۔یہ میری آرزو ہے۔مگر اس کے مجموعے کا نا م اس کی عمر کے ساتھ مناسب نہیں….یہ مرحلہ اس وقت آتا ہے جب عمر نا کا م ڈھلتی ہے اور لا حا صلی کاوہ مقام آتا ہے جس سے آگے کوئی مقام نہیں ہوتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق