ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……ڈونر، سرمایہ کا ر اور خیبر پختو نخوا

,..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..


خیبر پختو نخوا میں بجلی گھروں کے 18منصو بے 2013 سے معرض التوا میں پڑے ہیں ۔2013 کے بعد کو ئی بڑا ڈونر یا سرما یہ کا ر خیبر پختو نخوا میں سر ما یہ کا ری اور شراکت کا ر پرآ ما دہ نہیں ہوا ۔را ئیل نارویجین ایمبسی ، را ئل نیدر لینڈ ایمبسی،جی آئی زیڈ،ایس ڈی سی ، یو رو پی یو نین ،عا لمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک سمیت تما م قا بل ذکر ڈونرز نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔یو ایس ایڈ نے اپنا پرو گرم محدود کر لیا ہے۔اس کی وجہ سیکو رٹی کی صورت حال نہیں ۔حکو مت کے سا تھ روابط اور تعلقا ت میں حا ئل مشکلات ہیں ۔حکو مت نے حا ل ہی میں پن بجلی کے 6منصوبوں کے لئے سرما یہ کا رو ں کو بولی دا خل کرنے کی دعوت دے کر پو ری دنیا میں اشتہار دید یا۔ لیکن کوئی سرمایہ کار سرمایہ لگا نے نہیں آیا ۔حا لانکہ سرمایہ کا روں کے لئے اچھا موقع تھا۔متحدہ مجلس عمل کے دور حکو مت میں شائڈو نے ملا کنڈ تھری پرا جیکٹ پر کام کیا۔ 3 سالوں میں پرا جیکٹ کو مکمل کر کے 7ارب روپے کی لا گت سے 81 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو دیدی ۔سا لا نہ ڈھائی ارب روپے آمدن کی شرح سے بجلی گھر نے 3سا لو ں میں اپنی لا گت وا پس کر دی۔ 2010 کے بعد بجلی گھر صوبا ئی حکو مت کو خا لص منا فع دے رہی ہے۔ا گلے 100بر سو ں تک خا لص منا فع دیتا رہے گا۔یہ مشینری کی کم سے کم عمر ہے۔ اس منافع کی وجہ سے پا نی کو ما ئع سو نا یعنی لیکو ڈ گو لڈ کہا جاتا ہے ۔پی پی پی اور اے این پی کی مخلوط حکو مت نے وفا قی حکو مت سے بجلی کی مد میں حا صل ہو نے والے خا لص منا فع کو یکجا کر کے 50ارب روپے کا فنڈ قا ئم کیا تھا۔2015تک اسمیں مزید 30ارب روپے کا اضافہ ہونا تھا ۔اس فنڈ سے شا نگلہ ، کو ہستان ، سوات ، دیر اور چترال کے دریا وں پر 18پن بجلی گھر بنا نے کے منصو بوں کی فیزیبلٹی تیار کر لی گئی تھی۔لاوی کے 69میگاواٹ منصوبے کا ٹینڈر ہو چکا تھا۔مئی 2013ء میں کا م شروع ہو نے والا تھا ۔انتخابات کے بعد کا م روک دیا گیا۔ 2 سال بعد تمام منصوبوں کو پرا ئیویٹ اداروں اور سرما یہ کا رو ں کے ہا تھ فرو خت کر کے منا فع سے دست بردار ہو نے کا پر گرام بنا یا گیا۔اب اپو ز یشن لیڈر مو لا نا لطف الرحمن، اے این پی کے پا رلیما نی لیڈر سردا ر حسین بابک اور پی پی پی کے سلیم خا ن کو اسمبلی کے ٖفلور پر یہ سوا ل اٹھانا چاہئیے کہ 50ارب روپے کا انر جی فنڈکد ھر گیا؟ 30ارب رو پے کی مزید اآمدنی کد ھر گئی ؟ 18منصوں پر کا م کیو ں روک دیا گیا ؟اور بیر و نی یا ملکی سرمایہ کا روں کو ہمارا پا نی کیوں فر و خت کیا جا رہا ہے؟ پھر کو ئی سرمایہ لگا نے پر آ ما دہ کیو ں نہیں ہے؟ اسمبلی کے فلور پر یہ سوال بھی ا ٹھانا پڑے گا کہ ڈونر کمیونٹی خیبر پختو نخوا میں کا م کر نے پر کیوں آ ما دہ نہیں ہے؟یو رپی یو نین کا کمیونٹی ڈریون لو کل ڈیو لپمنٹ پرو گرام (CDLD) گزشتہ 2سالوں سے کیوں تعطل کا شکار ہے؟ یہ ایسا پرو گرام تھا ۔جس کے تحت اربوں روپے صوبے کے 6پسماندہ ا ضلا ع میں دیہی تر قی کے منصو بوں کے لئے حکو مت کو دیے گئے تھے ۔منصوبے کا بلیو پر نٹ اے این پی کی حکو مت نے دیا تھا ۔انتخا با ت کے بعد حا لات بدل گئے۔فنڈ آگیا۔حکو مت کے ا کا ونٹ میں جمع ہوا۔6 ہزار سے زیا دہ منصو بے آگئے ۔کم ازکم 200 منصو بو ں کی منظوری مل گئی ۔لیکن ایک منصو بے پر بھی کا م نہیں ہوا۔ اب لو کل گو ر نمنٹ کے انتخا با ت کے بعد نا ظمین اپنا حصہ ما نگ رہے ہیں اور منظور شدہ ا سکیموں کی منسو خی کے بعد ضلعی سطح پرسٹیرنگ کمیٹی بنا کر ضلع کو نسل اور تحصیل کونسلوں کے ذریعے نئی سکیمیں لا نا چا ہتے ہیں۔یو رپی یو نین کے سا تھ جو معا ہدہ ہوا ہے اس میں یہ بات مذکور نہیں ہے۔ اس لئے مزید بد ا عتما دی پیدا ہو نے کا خدشہ ہے۔ایک گا وں میں کمیونٹی نے ایک سال پہلے لنک روڈ کا منصوبہ دیا تھا ۔اس کی منظوری ہو چکی تھی۔ 2015 کے سیلاب کے بعد کمیو نٹی نے لنک رو ڈ کی جگہ آب پاشی کی نہر کا منصو بہ دیدیا ۔یہ منصوبہ منظور ہوا۔تو صو با ئی حکومت نے کا م ر کوا دیا۔اس طر ح خیبر پختو نخوا بُری طرح مجرو ح ہوا ہے۔صوبا ئی اسمبلی کے فلور پر ان مسا ئل کو ضرور ا ٹھانا چاہیئے۔ کو ر کما نڈر الیون کور ، چیف جسٹس پشا ور ہا ئی کو ر ٹ اور جی او سی ملاکنڈ کو بھی اس کا نوٹس لینا چا ہئے۔ اگر یہی حا ل رہا تو اگلے 2سا لو ں میں خیبر پختو نخوا تر قی کی دوڑ میں 5سال پیچھے ہو گا ۔گو یا غر یب عوام کے 5قیمتی سا ل ضا ئع جا ئیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق