محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..ا نگن

محمد جاید حیاتؔ


صحن میں چند بیری کے درخت ،دور دور تک کھیت کھلیاں ،لہلہاتی گندم کے فصل ،فصل کو پانی دیتے موٹی موٹی بگری باندھے زمیندار ،ان کو گڑلسی ،جوار کی روٹی اور پیاز لے کے جانے والی خواتین،وہ چودھری کے ڈر سے سہمے ہوے مزارع ،تپتی دھوپ میں جھلستی چند کمروں کی عمارت،آگے صحن میں گوبر ،اوبلے ،بھینس ،سانڈ،بہت ساری خو اتین دائرہ باندھے بیٹھی ہوئی چیخ چاخ والیاں ،ننگے سر کالی کلموہی ،ڈھیٹ پنجابی میں بک بک کر رہی ہیں ۔گرمی میں حبس تھی ۔لمبے سفر سے تھکا ہارا قا فلہ سردیوں کی سرزمین چترال سے صبح کاذب کو وہاں پہنچاتھا ۔قافلہ چترال کا پھول بیاہ کر لئے گیا تھا۔ایک تتلی راستہ بھول گئی تھی ۔ایک بھونرا ڑا تھا ۔ایک بلبل بے منزل سفر پر نکلی تھی ۔ایک ماہی سمند ر با ہر پھینکا گیا تھا ۔سدرہ کی غلطی یہ تھی کہ وہ پسماندہ علاقے کے غریب گھرانے میں آنکھیں کھولی تھی ۔باپ کی بڑی بیٹی تھی اٹھویں جماعت سے سکو ل پڑھی ۔اسکے پیچھے تین بچے اور آگئے ۔گاؤ ں کی پسماندگی غربت پر جوان ہو ئی بچی رشتے کی فکر ،بے تعلیم گھرانہ ،۔۔۔پھر لواری سے اس پار جنت کا تصور اسلئے رشتہ جوڑنے والوں کی بات بن گئی ۔سدرہ کے سادہ لوح ابو کو باتوں میں گویا شہد گھول کے پلائی گئی ۔ وہ من موھا کچھ نہ کہہ سکا چند سکے اس کی مٹھی میں رکھے گئے ۔ چند پگڑی والے آئے ، کچھ زیوارات لائے ۔کچھ کپڑے لائے ۔۔۔۔سدرہ بیاہی گئی ۔۔۔۔ہاں قفص میں ڈالی گئی ۔ اس کے پاؤں میں بیڑھی باندھی گئی ۔۔ وہ اپنی جھونپڑی میں خوش تھی اس کو کسی چیز کی فکر نہیں تھی ۔ اس نے اپنے خیالوں ، اپنے احساسات اور اپنے سینے میں کبھی جوانی کو آتے محسوس نہیں کیا ۔اس کے گاؤں میں اس کا چہرہ سدا کھل اٹھتا ۔ چچا چچی ، رشتے ناتے ، چچازادوں ، ماموزادوں ، گاؤں کی بچیوں سب کی جان تھی ۔ خوش اخلاق ، ہنس مکھ پل پل کرن ، ہاتھ چومنے والی ، گلے لگنے والی ، چھوٹوں پر شفقت کا سایہ بڑوں کا ڈھارس ۔۔۔ ایک گھر میں گھسا کھانا پکایا ۔ دوسرے میں گئی کپڑ ے دھوئی ۔ تیسرے میں صفائی کی ہنسی مسکرائی ڈھیر ساری دعائیں لے لی ۔ وہ جب رخصت ہو رہی تھی تو گھر انگن اداس تھا ۔ گاؤں پر حسرت بر س رہی تھی ۔ خوشیاں لپٹی گئی تھی ۔ مسکراہٹوں کی جنازہ نکلا تھا ۔ پھنگ ، کھیت کھلیاں ، گلی کوچے ، بام ودر سب پہ حسرت بر س رہی تھی سہیلیاں اداس تھیں ۔ اس لئے ثابت ہے کہ ایک آدمی سے پورا شہر آباد ہوتا ہے اور وہاں ویران بھی ہوتا ہے ۔ بیٹی گھر کی زینت ہو تی ہے ہاں سدرہ ماں باپ کے گھر کی زینت تھی۔ ماں باپ نے کوئی قیمتی چیز اپنے ہاتھوں سے کھو دی تھی ۔۔۔داماد چودھری کا مزار ع تھا یہاں سے سدرہ کی چھٹ منگنی پٹ شادی ہوئی ۔۔۔۔لواری کے اس پا ر جنت ہے ۔ کھلی کائنات ہے ۔۔ محلوں ، گھروں ، جائیدادوں ، دھن ، دولت سے محرومی کو پسماندگی کہنے کا جو تصور ہے وہ غلط ہے ۔ پسماندگی ذہنوں کی ہوتی ہے ۔ رنگین دنیا ، گھر بار ،دھن دولت ، زرق برق لباس ، نوکر چا کر کو جو خو شحالی کہتے ہیں غلط کہتے ہیں ۔ خوشخالی ذہنوں کی ہوتی ہے ۔ گھر آنگن میں امن چین ، سکون ، آپس کا ایثار تعاؤن ہنسی شاد مانی خوشحالی کہلاتی ہے ۔پیٹ کی درذخ بجھانا خوشحالی کا متابادل نہیں ۔۔۔سدرہ کے باپ پر 40ہزار کا قرض چھٹرا تھا یہ بھی ایک وجہ تھی ۔۔۔بیٹی بار گران سہی ۔بار جان نہیں ہوتی ۔بیٹی آنکھوں سے دور ہوکر بھی دل سے دور نہیں ہوتی ۔ قرض تو چکا دیا گیا مگر سدرہ کوکھوکر ۔۔ سدرہ اس قیدی کی طرح تھی جس پر زمین تنگ کردی جائے ۔۔ شادی کے وقت لڑ کی خواب شخصیت کودلکشی اور محبت کے سائے میں ساری مصبوتیں جھیل سکتی ہے ۔ نئی دنیا بسا سکتی ہے ۔اگر ایسا نہ ہو تو ساری عیاشیاں بیج لگتی ہیں۔۔سدرہ کا دلہا کوئی دلہا نہیں تھا ایک بوڑھا آدمی تھا ۔ دھوتی پگڑی والا بڈاجواس کی بات کی عمر سے زیادہ عمر کا تھا ۔ سدرہ نے سوچا کہ اس نے اپنا انگن کھو دیا ہے ۔اپنا گاؤں اپنا چترال اپنا پشاور ۔۔ مگرپاک سرزمین اس کی تھی اس کو جگے پر اعتراض نہیں تھا ۔اس پاک سرزمین کے کسی یک ٹکڑے پر دنیا بسانی تھی۔جس میں اس کادلہا ہو ، جوان ،تنومند، خوبصورت وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر کے ساری دنیا کی تکلیفیں بھول جائے ۔تیسرا دن تھا ۔سدرہ نے ایک قطرہ پانی تک نہیں پیا تھا ۔۔ سویر ے باہر نکلا قریب ہی ایک حویلی نظر آئی ۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہی ان کے چو دھری کا گھر ہے جن کے یہ مزارع ہیں۔ وہ سیدھا اس حویلی میں داخل ہوئی ۔چودھری کاانتقال ہوا تھا اور عنا ن اقتدار بیم صاحبہ کے پاس تھا ۔سدرہ اس کے پاؤں میں سررکھ کے خوب روئی ۔بیگم صاحبہ نے سدرہ کا سر اُٹھا یا اور اس کی پشانی پر طویل بوسہ دیا ۔اس کی کہانی سنی ۔ مزارع کو بلا کر اس کوفارغ کردیا ۔ سدرہ کے لئے تحفے تخائف بنائے ۔اپنی گاڑی، اپناڈرائیوار اور اپنا گارڈ دیا ۔ہدایت کی کہ میری بیٹی کو نہایت احترام اور حفاظت سے اس کے والدین کے سپرد کر کے آؤ۔ سدرہ کورخصت کرتی ہوئی بیگم صاحبہ نے ایک خط اس کوتھما دیا اور ہدایت کی اپنے والدین کو دے دینا گھر پہنچ کے سدرہ پہلے اپنی انگن میں سجدے میں گری ۔ پھر باپ کے گلے لگ کے روئی ۔پھر ماں کے گود میں سررکھ کے آنسو بہائے پھر لفافہ کولی تو اس میں ایک خط تھا ۔جو بیگم صاحبہ نے اس کے ابو کے نام لکھاتھا
۔۔۔۔۔۔ میرے دینی بھائی السلام علیکم
میرے بھائی غور سے سن ۔۔ مجھے تمہاری غربت اور بے بسی کا احساس ہے بیٹیاں اللہ کی طرف ہوتی ہیں بیجنے کے لئے نہیں۔یہ مسکرانے کے لئے پیا گھر سد ھارتی ہیں انسو بہانے کے لئے نہیں۔اگرا ان کوانکے خوابوں کا شہزادہ ملے تو پاک سرزمین میں کوئی بھی گوشہ ان کے لئے جنت ہے ۔ورنہ ا ن کی جنت نہ لواری کے اُس پار ہے نہ اس پار۔۔۔ میرا سلام چترال کے سارے والدین سے کہنا کہ چترال کے ان خوبصورت پھولوں کو ملنا چھوڑ دو۔ایک عورت ہونے کے واسطے مجھے احساس ہے کہ دنیا میں عورت ہر دکھ جیل سکتی ہے سوائے شوہر کے دکھ کے ۔آنکھیں بند کر کے ایک بیٹی کا مستقبل برباد کرنے سے بہتر ہے کہ اس کو قتل کیا جائے ۔ تم ایسا نہ کروتم ’’ قاتل ‘‘ کہلاؤ گے ۔ تم پر یوں کی سرزمین کے مکین ہو ۔ذرا سوچو جب تتلیاں راستہ بھولتی ہیں تو مسلی جاتی ہیں ۔ جس کاقاتل دنیا میں سب سے بڑا قاتل کہلاتا ہے ۔تتلیان گھرانگن کے ساتھ اچھی لگتی ہیں۔انکو زبردستی ویرانوں اور صحراؤں میں بھیجو گے تو ان کے نازک پر تھک جائیں گے وہ اپنی اڑان بھول جائیں گی تم ایسا کرو گے تم ’’ قاتل ‘‘ کہلاؤ گے ۔میں نے ایک تتلی کوو اپس لیا ہے ۔اس کوایسی باگ میں کسی پھول کے حوالے کرنا تتلی اس کا طواف کرتی رہے گی اور خوش رہے گی اگر تم ایسا کرو گے تو ’’ مسیحا ‘‘ کہلائے گے ۔
فقط
ایک بہن ایک مان

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق