ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا….ہسپتالوں کی گورننگ باڈی

…..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی…..


خبر آئی ہے کہ خیبر پختو نخواکی حکومت نے ہسپتالوں کو خود مختاری دینے کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے بڑے ہسپتالوں سے لیکر ضلعی ہیڈکوارٹر اور تحصیل ہسپتالوں تک خود مختاری کی ” نعمت” کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس فیصلے کی نمایاں بات یہ ہے کہ ہسپتالوں کی گورننگ باڈی کا سربراہ صوبائی اسمبلی کا ممبر ہوگا ۔گویا صوبے کے 16بڑے اور 87 چھوٹے ہسپتالوں کا انتظامی کنٹرول صوبائی اسمبلی کے ممبروں کو دیا جائے گا ۔فروری 2018 ء میں نئے انتخابات کے لئے صوبائی اسمبلی توڑ دی جائے گی تو ہسپتالوں کی گورننگ باڈی کا سربراہ کون ہوگا؟ اگر 2018 ء کے انتخابات سے پہلے ملک پر فوجی حکومت آگئی تو ہسپتالوں کی گورننگ باڈی کا کیا بنے گا ؟ اگر 2018 ء کے انتخابات کے بعد آنے والی حکومت نے ہسپتالوں کا اختیار ایک بار پھر ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں دیدیا تو موجودہ حکومت کے ایم پی اے صاحباں کہاں منہ چھپاتے پھریں گے ؟
بنا ہے مصاحب شہ پھرے ہے اترانا
وگر نہ شہر میں غالب کی آبروکیا ہے!
مجھے لیڈی ریڈنگ ہسپتال یا خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے زیادہ ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی فکر ہے ۔خیبر پختونخوا کی 82 فیصد آبادی دیہات میں ہے۔ان کا واسطہ ضلع اور تحصیل کی سطح کے ہسپتالوں سے پڑتا ہے ۔ڈاکٹروں کے زیر انتظام ہسپتالوں میں 5 روپے کی پرچی ملتی ہے ۔سردرد کی دائیں ملتی ہیں ۔فریکچر اور ڈسلوکیشن کا علاج ہو تا ہے ۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد ملتی ہیں ۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ فالج، شوگر ،اور دل کے دورے والے مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کر کے صحت سنبھلنے کے بعد اُن کو ریفر کیا جاتا ہے۔زچہ وبچہ کی نگہدشت ہوتی ہے ۔کیونکہ ڈاکٹر جانتا ہے ہسپتال کیسے چلانا ہے ۔اگر ڈاکٹر کو ہٹا کر تحصیل ہیڈکورٹر ہسپتال کے اختیارات گورننگ باڈی کے سربراہ مقامی ایم پی اے کو دیدیے گئے تو چار مہینوں میں ہسپتال کی پوری مشینری ،چارپائیوں اور بستروں سمیت کباڑ میں فروخت ہو جا ئیگی ۔ہسپتال کا بورڈ بھی اپنی جگہ نہیں رہے گا ۔یہ 1989ء کا ذکر ہے صوبائی وزیر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورے پر آیا ۔اُس نے ڈاکٹروں سے ملاقات نہیں کی ۔مریضوں کا حال نہیں پو چھا وارڈوں اور لیبارٹریوں کا جائزہ نہیں لیا ۔اُس نے اکاونٹس آفیسر سے ملاقات کر کے ہسپتال کے بجٹ کے بارے پوچھااور بڑے پتے کی یہ بات پوچھی کہ مجھے اس بجٹ میں سے ہر ماہ کتنا حصہ ملے گا؟باہر آکر وزیر صحت نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حکومت لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی۔ 1994 ء میں ایک ایم پی اے کو صوبائی وزارت ملی۔ ایم پی اے صاحب اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو دیوار پر قائداعظم کی تصویر دیکھ کر اپنے پرائیویٹ سیکریٹری ولی زارخان پر برس پڑے ۔تم نے اب تک یہ تصویر کیوں نہیں اتاری۔ اب اس کی جگہ میں وزیر بن گیاہوں ۔بے چارے کو یہ بھی علم نہیں تھاکہ وہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی جگہ وزیر نہیں بنائے گئے ۔1991ء میں صوبے کا وزیر تعلیم ایک حاجی صاحب کو بنایا گیا ۔موصوف ایسے نا خواندہ تھے کہ اپنا دستحط بھی نہیں کرسکتے تھے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ممبر کا انتخاب لڑتے وقت اُمید وار بننے کے لئے کو ئی شرط نہیں ہے ۔ نہ قابلیت درکار ہے، نہ صداقت درکار ہے ۔ نہ امانت اور دیانت درکار ہے۔ نہ تجربہ درکار ہے۔ ایم پی اے بناتے وقت کسی ووٹر نے یہ نہیں سوچا کہ میرا ہسپتال ، میرا سکول یا میرا کالج اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ووٹروں کو اس بات کا قطعاً علم نہیں تھا۔ ووٹروں نے سرمایہ ، قومیت اور ڈر یا خوف کی وجہ سے ووٹ دیا تھا ۔اب صوبائی حکومت کے سامنے جو ایجنڈاہے ۔وہ واضح طور پر چار نکات پر مشتمل ہے ۔اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہسپتال کا انتظام ڈاکٹر سے لے لو ۔ڈاکٹر کا ہسپتال کے ساتھ کو ئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔محکمہ تعمیرات میں انجینئر کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے ۔تعلیم اور تعلیمی اداروں کا نظم ونسق اساتذہ اور پروفیسروں کے ہاتھ میں ہر گز نہ دو ۔دفتری انتظام سے آفیسروں کو بے دخل کرو ۔یہ علم دشمن ایجنڈاہے ۔جس پر ہماری حکومت عمل پیراہے ۔اس کا دائرہ آگے بڑھے گا ۔علماء کو مسجدوں اور مدرسوں سے بے دخل کیا جائے گا ۔وکلا ء اور ججوں کو عدالتوں سے نکال دیا جائے گا ۔پھر وہ منظر ہو گا ۔جس کی طرف فارسی کے مقولے میں اشارہ کیا گیا ہے ۔”گل بدست بچہ گان اُفتدپارہ پارہ شد” پھول بچوں کے ہاتھ لگا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔پاکستان تحریک انصاف میں پڑے لکھے لوگوں کی کمی نہیں ۔پھر بھی یہ پارٹی پڑھے لکھے لوگوں کو اپنا دشمن کیوں قرار دیتی ہے ؟ہسپتال چاہے صوبائی دارالحکومت کا بڑا ہسپتال ہو یا کسی دور دراز گاوں کا تحصیل ہیڈکوارٹر یا ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال ہو ۔اس کا براہ راست تعلق صوبے کے غریب لوگوں سے ہوتا ہے ۔صبح 9 بجے غریب لوگ خواتین اور بچوں کو لیکر ہسپتال کی اوپی ڈی کے باہر جمع ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ڈاکٹر اُن کا علاج کرتا ہے ۔اگر ہسپتالوں کی گورننگ باڈی کا اختیار ایم پی اے کے ہاتھ میں دیدیا گیا ۔تو ہسپتال پر سیاسی جماعت کے ورکروں کا قبضہ ہوگا عوام کدھر جائیں گے ؟ غریب لوگ کہاں سے علاج کرائیں گے ؟ اگر ہسپتال میں کوئی کمی یا کوئی خامی ہے تو اس کو دور کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ ڈاکٹر کی جگہ ایم پی اے کو لے آؤ ۔کمی اور خامی کو دور کرنے کا طریقہ یہ کہ ڈاکٹر کو مزید اختیارات دیدو ۔ڈاکٹر کو مزید سہولیات دیدو ۔ڈاکٹر کو مزید ترغیبات دیدو۔ایم پی ایز کے ہاتھوں میں ہسپتالوں کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔صحت کی سہولیات کا سیتاناس ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق